مڈ ٹرم امریکی انتخابات :اوباما کی مخالف ری پبلکن پارٹی آج چھا جائیگی

مڈ ٹرم امریکی انتخابات :اوباما کی مخالف ری پبلکن پارٹی آج چھا جائیگی

  

    واشنگٹن(اظہر زمان، تجزیاتی رپورٹ) 4نومبر منگل کے روز ہونے والے مڈٹرم الیکشن میں امریکی صدر بارک اوبامہ کی ڈیمو کریٹک پارٹی کو شکست سے دوچار کر کے مخالف ری پبلک پارٹی چھا جائیگی۔ دس سال بعد ڈیمو کریٹس کو پہلی مرتبہ اتنے تباہ کن نتائج کا سامنا ہے۔ صرف انتخابی تجزیہ کار تبدیلی کی اس لہر کا ذکر نہیں کر رہے بلکہ انتخابات سے چند روز قبل ڈیمو کریٹک لیڈر بھی یہ اعتراف کرنے لگے ہیں۔ مثال کے طور پر ایوان نمائندگان میں ڈیمو کریٹک پارٹی کی لیڈر نینسی پلوسی نے کیلیفورنیا میں ایک فنڈ ریزنگ مہم میں خبردار کیا کہ ری پبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان میں اتنی اکثریت ملنے جا رہی ہے جتنی 80سال قبل اسے صدر ہربرٹ ہوور کے دور میں حاصل ہوئی تھی۔ اسی طرح میری لینڈ میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے اہم پاکستانی لیڈر ساجد تارڑ نے اس ریاست کے گورنر کی دوڑ میں شریک ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار انتھونی براﺅن کی ری پبلکن پارٹی کے امیدوار لیری ہوگن کے مقابلے پر کمزور ی کو بالواسطہ تسلیم کرتے ہوئے ڈپلومیٹک بیان دیا کہ مقابلہ بہت سخت ہے۔ 2012ءکے صدارتی انتخابات میں بارک اوبامہ چار سال کی دوسری اور آخری مدت کے لئے 2016ءتک صدر منتخب ہوئے تھے جس وقت کانگریس اور سینیٹ اور ریاستی انتخابات بھی ہوئے تھے۔اب دو سال بعد 4نومبر2014ءکو صدر اور نائب صدر کے انتخابات کے علاوہ باقی تمام انتخابات دوبارہ ہونے جا رہے ہیں۔ امریکی کانگریس 535ارکان پر مشتمل ہوتی ہے جس میں ایوان نمائندگا ن کے 435اور سینیٹ کے 100ارکان شامل ہوتے ہیں۔ ایوان کے ارکان کی مدت دو سال ہوتی ہے اس لئے مڈ ٹرم الیکشن میں ایوان کے تمام کے تمام 435ارکان کا دوبارہ چناﺅ ہو رہا ہے۔50ریاستوں میں سے دو دو ارکان سینیٹ کے لئے آتے ہیں جن کی کل تعداد 100ہوتی ہے اور ان کی مدت چھ سال ہوتی ہے اس لئے ہر دو سال بعد موجودہ انتخابات میں بھی ان کی ایک تہائی یعنی 33ارکان کا چناﺅ ہو رہا ہے۔ تمام ریاستوں کے ریاستی انتخابات مکمل طور پر دوبارہ ہو رہے ہیں۔ تاہم 50میں سے صرف 36ریاستوں کے گورنر اور لیفٹیننٹ گورنر کا چناﺅ مڈٹرم الیکشن میں ہو گاان 36میں سے 22سیٹیں اس وقت ری پبلکن اور 14سیٹیں ڈیمو کریٹس کے پاس ہیں۔انتخابات سے چند روز قبل ہونے والے جائزہ اور انتخابی تجزیہ کاروں کے مطابق ری پبلکن پارٹی کے حق میں بدلتی ہوئی فضا کی صورت حال کچھ اس طرح ہے۔ اس وقت سینیٹ کی کل 100سیٹوں میں ڈیمو کریٹس کو 55سیٹوں کے ساتھ ری پبلکن کی 45سیٹوں پر برتری حاصل ہے ۔ تجزیہ کار کم از کم مزید 5سیٹیں تو ضرور ری پبلکن کو دے رہے ہیں لیکن یہ تعداد آٹھ تک جا سکتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کی سیٹیں کم از کم پچاس اور زیادہ سے زیادہ 53ہو کر اسے اکثریتی جماعت بنا سکتی ہے۔ ایوان نمائندگان کی کل 435سیٹوں میں سے اکثریتی 233ری پبلکن پارٹی اور 199ڈیمو کریٹس کے پاس ہیں تین ارکان آزاد ہیں۔ مڈٹرم انتخابات میں توقع ہے کہ ری پبلکن کی اکثریت مزید بڑھ کر دس سیٹوں کے اضافے سے 243ہو جائے گی۔ اس وقت 50ریاستوں میں سے 21ریاستوں میں ڈیموکریٹک اور 29ریاستوں میں ری پبلکن گورنر ہیں۔ مڈٹرم الیکشن میں صرف 36ریاستوں کے گورنروں کا انتخاب ہو گا۔ ان میں سے 22پر اس وقت ری پبلکن پارٹی اور 14پر ڈیمو کریٹک پارٹی کے گورنر براجمان ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق چھ ریاستوں میں سخت مقابلہ ہے تاہم حتمی نتیجے میں بھی زیادہ ریاستوں میں ری پبلکن پارٹی کے گورنر ہی رہیں گے۔ ہمیشہ کی طرح صدارتی اور مڈٹرم الیکشن میں آئیووا کی ریاست کی حمایت کا پنڈولم تبدیل ہونے کی بناءپر بہت اہمیت اختیار کر جاتا ہے جس کی دونوں سینیٹ سیٹیں ری پبلکن کو ملنے جا رہی ہیں جس کی بنا ءپر ان کے لیڈر دعویٰ کر رہے ہیں کہ سینیٹ میں ان کی اقلیت اکثریت میں بدل جائے گی۔ بہت سے فیکٹرز نے ڈیمو کریٹک پارٹی کے خلاف عمل کیا ہے۔ لگتا ہے امریکی عوام کی اکثریت کو اوبامہ انتظامیہ کی طرف سے ٹیکسوں کی زیادتی ،میڈیکل انشورنس المعروف اوبامہ کیئر، اس کی خارجہ پالیسی اور ہم جنسوں کی شادی جیسے اقدامات پسند نہیں آئے جن کا اثر ان مڈٹرم الیکشن پر پڑ رہا ہے اور حالات میں تبدیلی نہ آئی تو اس کے اثرات 2016ءکے صدارتی انتخابات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -