بچوں کو ذہین بنانے کی کوشش بے فائدہ، جدید تحقیق

بچوں کو ذہین بنانے کی کوشش بے فائدہ، جدید تحقیق

  

واشنگٹن(نیوزڈیسک)یہ ایک عام تاثر ہے کہ بچوں کو سوتے ہوئے کہانیاں سنانا، ان کے ساتھ اکٹھے کھانا کھانا اور مسلسل انہیں کچھ نہ کچھ بتانے سے ان کی ذہانت میں اضافہ ہوتا ہے لیکن حال ہی میں کہ گئی امریکی تحقیق نے ان تمام باتوں کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گو کہ ان باتوں کا بچوں پر اثر ہوتا ہے لیکن یہ ان کی ذہنی استطاعت میں کو ئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کرتیں بلکہ بچوں کی ذہانت کا تعلق ان کے والدین کی ذہانت سے ہوتا ہے۔فلوریڈا یونیورسٹی کے پروفیسر کیون بیویر کا کہنا ہے کہ دو قسم کی تھیوریز ہیں،ایک کہ اگر بچوں کو کہانیاں سنائی جائیں اور مختلف باتیں کی جائیں تو وہ زیادہ ذہین ہوتے ہیں جبکہ ایک تھیوری یہ ہے کہ بچوں کی ذہانت کا تعلق ان کے والدین کے جینز سے ہے۔پروفیسر کیون بیویر نے اس مقصد کے لئے مختلف بچوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جو 1994ء میں گریڈ 7سے 12میں تھے اور 2008ء تک ان کا اچھی طرح مطالعہ کیا۔ ان بچوں کا آئی کیو ٹیسٹ مختلف مراحل بشمول مڈل اور ہائی سکول میں چیک کیا گیا۔ یہ بات سامنے آئی کہ اگر والدین زبردستی بچوں کو ذہین بنانے کی کوشش کریں تو اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا لہذاضروری ہے کہ بچوں کو نارمل طریقے سے سکھایا جائے اور ان پر زبردستی باتیں مسلط نہ کی جائیں۔ پروفیسر کا کہنا تھا کہ اسی طرح اگر بچوں کویکسر نظر انداز کیا جائے تو اس کا بھی بچوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -