واہگہ کا سانحہ، قیمتی جانوں کا اتلاف، یہ کون سا دین ہے؟

واہگہ کا سانحہ، قیمتی جانوں کا اتلاف، یہ کون سا دین ہے؟
واہگہ کا سانحہ، قیمتی جانوں کا اتلاف، یہ کون سا دین ہے؟

  

تجزیہ چودھری خادم حسین

واہگہ کی بین الاقوامی سرحد کے علاقے میں زوردار دھماکے میں قیمتی عوامی جانوں کے ضیاع کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے، یہ کیسی اسلامی تنظیم ہے جو بوڑھوں، عورتوں، بچوں، بچیوں اور جوانوں کو جرم بے گناہی کے الزام میں موت کے منہ میں جھونک دیتی ہے۔کیا اس سے اس تنظیم کے کرتا دھرتا حضرات کی تسلی ہوئی ہے؟ کہ متاثرین سبھی کے سبھی سویلین تھے اور جو تین سیکیورٹی والے شہید ہوئے وہ بھی اسی ملک کے شہری اور کلمہ گو ہی تھے، سوال پھر یہی ہے کہ کیا اسلام یہ اجازت اور تربیت دیتا ہے؟ اس سوال کا ایک ہی جواب ہے جو بار بار دیا جا چکا کہ یہ جہاد نہیں، فتنہ و فساد ہے اور دہشت گردوں کا کوئی دین، کوئی مذہب اور کوئی اخلاق نہیں ہے۔

خبروں کے مطابق جنداللہ گروپ وہ تنظیم ہے جو مسلکی منافرت کی بنیاد پر کارروائیاں کرتی ہے اور بلوچستان میں ہزارہ قبائل کے علاوہ مولانا فضل الرحمن پر حملے کی ذمہ داری بھی اسی تنظیم نے قبول کی تھی کیا ان کا اسلام یہی ہے کہ اس انسانی المیے سے پوری دنیا کانپ اٹھی ہے ، اس سانحہ کی خبر نشر ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد ہمارا ٹیلی فون بہت مصروف ہو گیا امریکہ سے سید اکمل علیمی، لندن سے ہمراز احسن اور دوسرے عزیز و اقارب نے احوال دریافت کرنا شروع کر دیا یہ استفسار بھی کیا جا رہا تھا اپنے دوستوں یا اپنے رشتہ داروں میں سے تو کوئی متاثر نہیں ہوا، اس کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے بات شروع ہو جاتی اور ضرب عضب تک پہنچ جاتی۔سید اکمل علیمی نے تفصیل سے وقوعہ جاننے کی کوشش کی کہ ان کا تعلق بہرحال اسی لاہور سے ہے اور وہ اس شہر سے واقف بھی ہیں بلکہ جب پچھلی بار تشریف لائے تو اسی واہگہ بارڈر کے راستے بھارت گئے اور واپس بھی آئے تھے ان کو بتایا کہ ان کی بھارت سے واپسی پر جس جگہ کار پارک کی گئی تھی دھماکہ اسی علاقے میں اس وقت ہوا جب شہری سبز ہلالی پرچم اتارنے کی ولولہ انگیز تقریب کے اختتام کے بعد واپس آ رہے تھے، وہ خود بھی پاکستان ٹیلی ویژن دیکھ رہے تھے۔ہمارا ذریعہ بھی ٹیلی ویژن اور اضافی طور پر وہ دوست تھے جو قرب و جوار میں رہتے ہیں یا پھر وہ نوجوان اور برخوردار رپورٹر جو کوریج کررہے تھے۔ہر ایک نے دکھ کا اظہار اور اپنے اپنے تجزیئے سے آگاہ کیا، اس امر کے بارے میں بیرون ملک سے یہی پوچھا جا رہا تھا کہ ہمارا قومی سلامتی کا انتظام اتنا کمزور کیوں ہے؟

واہگہ پر ہونے والے اس انسانی المیے اور اس کے بعد انتظامی مشینری کے بیانات نے اسے اور الجھا دیا اور یوں محسوس ہوا کہ سب ایک دوسرے پر ملبہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں جبھی تو یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ چار روز قبل اطلاع دی گئی تھی ، ہمارا علاقہ یا کنٹرول ایریا نہیں، خود کش بمبار کو روکنا مشکل ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں اپنی اپنی صفائی دینے کی بجائے اپنی ناکامی یا کوتاہی تسلیم کر لینا ہی بڑا پن ہو سکتا ہے، چار روز قبل ہماری نظر سے بھی یہ خبر گزری کہ سیکیورٹی کے ذمہ دار حساس اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ محرم الحرام کے دوران کوئی بڑی واردات ہو سکتی ہے۔ایک خبر یقیناً یہ بھی تھی کہ خود کش حملے کا خطرہ ہے، سوال صرف یہ ہے کہ حساس اداروں نے جو اطلاع پہنچائی اس کی اصل نوعیت کیا تھی؟ کیونکہ خبر سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ایسے مواقع پر جاری ہونے والی خبر ہی کا چربہ ہے اور محکمے اپنی اہمیت کا ثبوت دینے کے لئے پہلے ہی خبردار کر دیتے ہیں اور یہ الارم عمومی ہوتا ہے ، خاص نشاندہی نہیں کی جاتی۔

بہرحال شہید اور زخمی ہونے والوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، اللہ کو پیارے ہونے والوں کے لئے مغفرت اور زخمیوں کی صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے اپنے ملک کے پیارے پیارے قائدین (حکمران یا حکومت سے باہر والے) سے یہ پوچھنا تو ہمارا حق ہے کہ آخر ان غریب اور سادہ لوح عوام نے جو آج تک بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکے گئے کسی کا کیا بگاڑا ہے؟ محترم قائدین کرام! آپ تو انہی نے بل بوتے پر حکومت کرتے یا حکومت گرانے کے دعوے دار ہیں تو پھر آپ کو کیوں یہ سب نظر نہیں آتا، آخر آپ حضرات کیوں بیان بازی کے ذریعے ”گونگلوﺅں سے مٹی جھاڑتے ہیں“ اگر آپ مخلص ہیں اور آپ سب دہشت گردی کے واقعی خلاف ہیں تو پھر کیوں نہیں متحد ہو کر ان ظالموں کے خلاف ایک مضبوط اور متفقہ پالیسی اور حکمت عملی ترتیب دیتے۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ملکی سطح پر ہر ایک معاملے میں اس دہشت گردی کے مقابلے میں پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن جائے لیکن یہاں تو اس مسئلہ (طالبان) پر بھی اختلاف رائے ہے، حالانکہ یہ نام نہاد طالبان اور ان سے منسلک تنظیمیں ہمیشہ دہشت گردی کا ارتکاب کرکے فخریہ طور پر ذمہ داری بھی قبول کرتی ہیں، اس لئے اس مسئلہ پر بھی یکسوئی لازم ہے۔

ایک بات یہ بھی کہی گئی کہ چونکہ عاشورہ محرم ہے اور حکومت سمیت تمام اداروں کی توجہ جلوسوں اور مجالس کی طرف ہے اس لئے اس علاقے میں جو خالص فوجی کنٹرول کا ہے، لاپرواہی برتی گئی اور دہشت گردوں نے اسے آسان ہدف بنا لیا، یہ واردات 8ویں محرم کو ہوئی۔ آج (تحریر کے وقت) نویں اور کل (منگل) دسویں محرم الحرام ہیں، کہا تو یہی گیا ہے کہ انتظامات مزید بہتر اور سخت کئے گئے ہیں، دعا ہے کہ یہ یوم تو امن سے گزر جائے، اس حوالے سے ہمیں یاد ماضی تڑپا رہی ہے کہ اسی شہر لاہور میں جلوسوں کی تعداد مناسب تھی اور رواداری، اخلاق اور بھائی چارے کا ماحول تھا، کبھی کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوا، اگرکسی جگہ کوئی معمولی اختلاف ہوتا تو فوراً نمٹا دیا جاتا تھا، آج پورا ملک متاثر ہے۔راستے بند اور عوام گھروں میں دبکے بیٹھے ہیں، عزا دار اپنا فرض پورا کررہے ہیں ایسے میں اس دھماکے اور انسانی جانوں کے اتلاف نے سوچوں کے کئی دریچے کھول دیئے، یہ تو علماءکرام کا فرض عین ہے کہ وہ سب بلالحاظ مسلک مل بیٹھیں اور خوب غور اور بحث کے بعد ایسا لائحہ عمل تیار کریں کہ دینی اور مذہبی تہوار عوام کے لئے طمانیت کا باعث بنیں، پریشانی کا ذریعہ ثابت نہ ہوں۔( سیاست پر بات نہیں ہوگی)

مزید :

تجزیہ -