مریدکے کے بپھرے تھانیدار کا محنت کش پر بد ترین تشدد

مریدکے کے بپھرے تھانیدار کا محنت کش پر بد ترین تشدد

  

                    مریدکے(نامہ نگار)تھانہ سٹی مریدکے کے بپھرے تھانیدار نے محنت کش کو با اثر شخص کی چوری کے شبے میں گرفتار کرکے بہیمانہ تشدد کی انتہا کر دی اور نیم مردہ حالت میں لا وارث قرار دیتے ہوئے ہسپتال پھینک آیا۔ محنت کش کا خاندان دس روز تک اپنے پیارے کو تلاش کرتا رہا ۔پولیس نے محنت کش کے جسم کا ہر حصہ زخموں سے بھر دیا۔ تھانیدارنے خاندان کو خاموشی اختیار کرنے کے لیے دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ پولیس گردی کا شکار مظلوم خاندان بے کسی اور بے بسی کی تصویر بن گیا۔ اختیارات کے نشے میںدھت پولیس کے ظلم کا شکار پرانا نارنگ روڈ کے محنت کش شہزاد کے مطابق تھانہ سٹی مریدکے پولیس کے اے ایس آئی رانا باور علی نے با اثر افراد کی چوری کی درخواست موصول ہونے پر محلہ لطیف پارک پرانا نارنگ روڈ کے رہائشی اس کے چھوٹے بھائی محمد ساجد کو گرفتار کر لیا اور تھانہ میں لے جا کر تشدد کی انتہا کر دی۔ پولیس نے مبینہ طور پر اسے الٹا لٹکا کر پورا جسم تشدد سے چور چور کر دیا اور اسے بجلی کے جھٹکے بھی دیتی رہی۔ پولیس تشدد سے بے جان ہونے پر اسے لا وارث قرار دیتے ہوئے میو ہسپتال کے آئی سی یو میں داخل کر ادیا گیا۔ مظلوم ساجد کے ورثاءاپنے پیارے کی تلاش کے لیے دس روز تک در بدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے جس کے بعد ا نہیں ساجد علی میو ہسپتال میں نیم مردہ حالت میں نظر آیا تو وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور چیخ و پکار کرکے ہسپتال سر پر اٹھا لیا۔ مظلوم ساجد کے بھائی شہزاد کے مطابق ساجد علی دو کمسن بیٹیوں اور ایک بیٹے کا باپ ہے اور محنت مزدوری کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پالتا تھا۔ انہوںنے کہا کہ پولیس خاموشی اختیار کرنے کے لیے ان پر دباو¿ ڈال رہی ہے مگر اپنے بھائی کو بستر مرگ پر دیکھ کر ان کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلی پنجاب شہبا زشریف سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔اے ایس آئی باور علی کے مطابق اس نے کسی پر تشدد نہیں کیا ہے۔

محنت کش

مزید :

علاقائی -