سانحہ واہگہ بارڈر

سانحہ واہگہ بارڈر
سانحہ واہگہ بارڈر

  

سانحہ واہگہ بارڈر کی ذمہ داری تین عسکری تنظیموں نے بیک وقت قبول کر کے ایک غیر معمولی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اب تک جند اللہ ، جماعت الاحرار، اور ایک محسودی تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ عسکری تنظیموں کے درمیان ایسا نہیں ہوتا۔ بے ایمانی کا دھندا بھی ایمانداری سے کیا جا تا ہے۔ اصول تویہی ہے کہ اگر کچھ تنظیمیں ایک اتحاد میں شامل ہو جائیں توپھر ذمہ داری اجتماعی طور پر اس اتحاد کی جانب سے قبول کی جاتی ہے۔ اس طرح جو تنظیمیں تحریک طالبان میں شامل ہو جاتی تھیں ان کی کارروائیاں بھی تحریک طالبان ہی قبول کرتی تھی۔ ورنہ جو تنظیم انفرادی طور پر کارروائیاں کرے وہ اپنی کارروائیوں کی ذمہ داری بھی قبول کرتی ہے۔ اس صورتحال سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ یہ کارروائی کسی بھی تنظیم کی نہیں بلکہ کارروائی کسی اور نے کی ہے اور یہ صر ف ذمہ داری قبول کر رہی ہیں۔ اسی لئے حکومت نے اس میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کے اشارے دینے شروع کر دئے ہیں۔ جند اللہ کے بارے میں پنجاب میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ کیا تنظیم ہے اوراس کے کیا مقاصد ہیں ۔ تحریک طالبان کی طرح اب اس تنظیم کے بارے میں بھی عام آدمی کا جاننا ضروری ہو گیا ہے۔ سانحہ واہگہ بارڈر کے حوالہ سے زیادہ گونج جند اللہ کی آرہی ہے کہ یہ اس کی کارروائی ہے۔ اس سے قبل چند روز قبل مولانا فضل الرحمٰن پر حملہ کی ذمہ داری بھی جند اللہ نے ہی قبول کی تھی۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جند اللہ بالخصوص بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں سر فہرست ہے۔سوال اہم یہی ہے کہ جند اللہ اس وقت پاکستان مخالف کن قوتوں کے ہاتھ میں کھیل رہی ہے۔ اپریشن ضرب عضب نے جب تحریک طالبان پاکستان کو مکمل طور پر کمزور کر دیا ہے اور وہ کوئی بھی بڑی کارروائی کرنے میں نا کام ہو گئے ہیں تو جند اللہ کو کن پاکستان مخالف قوتوں نے متحرک کیا ہے۔ عسکری تنظیموں پر تحقیق کرنے والے ماہرین کے مطابق جنداللہ نائن الیون کے واقعے کے بعد معرض وجود میں آئی۔ اور عبدالمالک ریگی نامی ایک شخص نے اس کی بنیاد رکھی تھی۔ ریگی کو سال 2010میں ایران میں سزائے موت دی گئی کیونکہ ان پر ایران میں دہشت گرد کارروائیوں کی ذمہ داری ڈال دی گئی تھی۔ ابتدا ء میں یہ تنظیم ایران اور پاکستان کے سرحدی علاقوں تک محدود تھی اور اس میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو محض دوطرفہ سمگلنگ کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ یہی لوگ ابتداء میں تنظیم کوفنڈز بھی دیتے رہے۔ تاہم بعد میں اس گروپ نے ایک منظم جہادی قوت کی صورت اختیار کر لی اور اس نے نہ صرف اپنے کارکنوں کی جہادی تربیت کا اہتمام کیا بلکہ یہ بعض دوسرے پاکستانی جہادی گروپوں کے بھی قریب ہوتی گئی۔ ایران الزام لگاتا آیا ہے کہ جنداللہ کو امریکہ، برطانیہ، اسرائیل، سعودی عرب، عراق اور پاکستان کی ریاستی اور مالی حمایت حاصل رہی ہے اور اس کی وجہ ایران یہ بتاتا ہے کہ اسلامی ممالک مسلک کے معاملے پر جبکہ دوسرے ممالک ایران مخالفت کی بنیاد پر اس گروپ کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ ایران کے علاوہ امریکہ اور برطانیہ نے بھی جنداللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جند اللہ کے بھارت کے ساتھ روابط پر تفصیل سے تحقیق کی جائے کیونکہ بھارت بلوچستان میں قوم پرست جماعتوں کو پہلے ہی فنڈز دے رہا ہے اور جند اللہ اور راء کے رابطے بھی نئے نہیں ہیں۔ اس لئے جند اللہ کی نئی کارروائیاں اس کے راء کے درمیان نئے تعاون کی نوید بھی دے رہے ہیں۔ جنداللہ نے پاکستان کی شیعہ مخالف تنظیم لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے ساتھ شیعہ مخالف سلوگن کے نام اور ایجنڈے پر اتحاد قائم کیا۔ تاہم بعد میں جب تحریک طالبان نے قوت پکڑ لی تو دوسری تنظیموں کے ساتھ ساتھ جنداللہ بھی ٹی ٹی پی کی اتحادی تنظیم بن گئی ۔ اس بات کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ ٹی ٹی پی کے مقتول سربراہ حکیم اللہ محسود بذات خود ایک عرصے تک جنداللہ کے معاملات نمٹاتے اور چلاتے رہے اور اس گروپ کی فعالیت اور مقبولیت میں ان کا بھی ایک مرکزی کردار رہا ہے ۔ لیکن بعد میں ایسا نہیں رہا۔ اور جند اللہ پھر خود مختار ہو گئی۔ طالبان اور جند اللہ کے الگ ہونے کی کہانی بیان کرنے والے بتاتے ہیں کہ ستمبر 2013کے دوران جب پشاور کے ایک چرچ پرحملہ کیا گیا تو اس کی ذمہ داری بھی جنداللہ نے قبول کی۔ اس حملے میں 80 سے زائد مسیحی ہلاک ہو گئے تھے اور یہ واقعہ بھی عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی کا بڑا باعث بنا ہوا تھا۔یہی وہ لمحہ تھا جب تحریک طالبان پاکستان نے پہلی دفعہ جنداللہ سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور ٹی ٹی پی کے امیر حکیم اللہ محسود نے اس بات پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ جنداللہ ایک اتحادی گروپ ہونے کے باوجود ٹی ٹی پی کی قیادت کو اس قسم کی کارروائیوں کے لیے اعتماد میں نہیں لے رہا۔ ذرائع کے مطابق بعدازاں لشکر جھنگوی اور پنجابی طالبان کے بعض لیڈروں کی کوششوں سے ٹی ٹی پی کی قیادت کو جنداللہ کے خلاف کسی بڑی کارروائی سے باز رکھا گیا تاہم ٹی ٹی پی اور جنداللہ کے راستے جدا ہو گئے۔ کیا یہ راستے اب تک جدا ہیں اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کیونکہ جند اللہ کی جانب سے حالیہ کارروائیاں اس بات کی طرف اشارہ بھی ہیں کہ یا تو وہ پاکستان مخالف قوتیں جو پہلے تحریک طالبان پاکستان کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کر رہی تھیں اب جند اللہ کو استعمال کر رہی ہیں یا تحریک طالبان پاکستان نے ضرب عضب میں اپنی کمر ٹوٹنے کے بعد جند اللہ سے دوبارہ صلح کر کے اس سے مدد مانگ لی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت جنداللہ کے شدت پسندوں یا جنگجوں کی تعداد 3,000 کے لگ بھگ ہے اور یہ لوگ بلوچستان، سندھ کے علاوہ پورے ملک میں پائے جاتے ہیں۔ جنداللہ کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے پاس خود کش بمبار بھی ہیں۔ انٹیلی جنس ذرائع اور ماہرین جنداللہ کو خطرناک گروپوں میں سے ایک شمار کرتے ہیں جبکہ حکومت پاکستان کو اس امر پر بھی بہت تشویش ہے کہ یہ گروپ کئی دوسرے ممالک کے پے رول پر ہے۔ جنداللہ بنیادی طور پرشیعہ آبادی اور دوسرے مذاہب (اقلیتوں) کو نشانہ بنانے کے لیے مشہور ہے۔ یہ ایک خالصتاً سنی تنظیم ہے اور ایران کے سخت ترین مخالفین میں اس کا شمار ہوتا آیا ہے۔ لیکن اس کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن کو نشانہ بنا نا معنی خیز تھا۔ تا ہم تجزئیہ نگار اس کو بلوچستان کی سیاست میں دیکھ رہے ہیں۔جنداللہ کے بنیادی مقاصد میں ایران میں موجود سنّی آبادی کو یکساں حقوق دلانے کا مقصد سب سے نمایاں ہے اور ایران کی مخالفت کا بنیادی فیکٹر بھی یہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس گروپ نے ایران کے مختلف شہروں میں 2006کے بعد کم از کم گیارہ حملے کرائے ہیں جس کے نتیجے میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں اموات واقع ہوئیں اور یہ گروپ ایرانی ریاست کے لیے ایک بڑے چیلنج کی صورت اختیار کر گیا۔ ایران میں یہ تنظیم PRMI کے نام سے بھی کام کر رہی ہے۔ اس نے چند برس قبل ایک ایرانی صدر کو مارنے کی کوشش کی بھی تھی جبکہ مئی 2009ء میں اس نے زاہدان شہر میں مسجد پر حملہ کر کے 26 ایرانیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ عالمی میڈیا کے مطابق جنداللہ کے 40 کارکنوں کو ایران میں پھانسیاں دی گئی ہیں اور ان میں اس گروپ کا بانی عبدالمالک ریگی بھی شامل ہے اور گزشتہ دنوں ایران نے پاکستان کے سرحدی علاقہ میں گھس کر بھی جند اللہ کے ایک گروپ کے خلاف ہی کاروائی کی تھی۔ جس پر پاکستان نے احتجاج بھی کیا تھا کہ یہ اس کی سرحدی خلاف ورزی تھا۔

مزید :

کالم -