حکومت کا گیس کے نرخوں میں بھاری اضافہ کرنے کا فیصلہ

حکومت کا گیس کے نرخوں میں بھاری اضافہ کرنے کا فیصلہ
حکومت کا گیس کے نرخوں میں بھاری اضافہ کرنے کا فیصلہ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) بجلی کے اضافی بلوں کے تنازعے کے بعد حکومت ایک بار پھر عوام کے غم و غصے کا شکار ہوگی کیوں کہ ایک ماہ یا اس سے کچھ اور عرصے کے دوران حکومت گیس کے بلوں میں تین سے پانچ گنا اضافہ کرنے جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ ممکنہ غیر معمولی اضافہ وفاقی حکومت اور اوگرا کا گزشتہ چار ماہ کے دوران صارفین کو قیمتوں کے بارے میں آگاہ نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔اوگرا کے ایک افسر نے میڈیا کو بتایا کہ اس اضافے کے بعد سوئی نادرن گیس پائپ لائن کے لیے گیس کی قیمت 58.29ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو )اور سوئی سدرن گیس پائپ لائن کمپنی کے لیے گیس کی قیمت 22.90روپے ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو ) سے بڑھ کر 469ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو )تک پہنچ جائیگی اور انکے تخمینے کے مطابق جس صارف کا ماہانہ بل پہلے 500 روپے آتا تھا وہ اب 5000 روپے کا بل ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اس پیشرفت سے حکومت کے سیاسی بحران کا شکار ہوسکتی ہے ، لوگ بجلی کے اضافی بلوں کو بھول جائیں گے،اضافے کی ایک وجہ سردیوں کے دوران گیس کا زیادہ استعمال بھی ہے تاہم بڑی وجہ اوگرا کا 12 ماہ کے بجائے آٹھ ماہ میں بلوں کی ریکوری ہے۔ذرائع کے مطابق یہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب حکومت 35 ارب روپے مقررہ وقت میں مختلف سیکٹرز میں تقسیم کرنے میں ناکام رہی۔اوگرا قوانین کے مطابق او گرا کے مقرر کردہ نرخوں پر اسے حکومت سے ہدایت لینی پڑتی ہے، اگر حکومت 15 دنوں میں سبسڈی کے حوالے سے ہدایت دینے میں ناکام رہتی ہے تو اوگرا پر لازم ہے کہ وہ اپنی مقرر کردہ نرخوں کا نوٹیفیکیشن جاری کرے۔افسر نے بتایا کہ اوگرا 4ماہ سے اپنا قانونی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی ہے،بجی شیئر ہولڈرز نے اوگرا اور حکومت کو معاملے کو عدالت میں لیکر جانے کے حوالے سے قانونی نوٹسز بھیجنا شروع کردیے ہیں۔معتبر ذرائع کے مطابق چیئر مین اوگرا سعید احمد خان متعدد بار حکومت سے سبسڈی کے بارے میں ہدایت طلب کرچکے ہیں اور گزشتہ ہفتے انہوں نے کابینہ ڈویژن اور وزارت پیٹرولیم کو سخت الفاظ پر مشتمل خط لکھا جس میں حکومت کی نااہلی اور معاملے کی وجہ سے ہونے والے قانونی مسائل پر برہمی کا اظہار کیا گیا۔چیئر مین اوگرا نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ریگولیٹر کے تخمینے کے مطابق نرخوں میں اوسط 14 فیصد اضافہ ہوگا تاہم اب یہ 20 فیصد سے بھی زیادہ ہوگیا ہے کیوں کہ مقررہ رقم آٹھ ماہ کے عرصے میں وصول کرنی ہے۔ذرائع کے مطابق قانونی ماہرین نے اوگرا کو تجویز دی ہے کہ عدالتی کارروائی سے بچنے کے لیے رواں ماہ کے پہلے ہفتے ہی میں نوٹیفیکشن جاری کردیا جائے۔

مزید :

بزنس -اہم خبریں -