زرعی پیکیج اور چاول کے کاشتکار

زرعی پیکیج اور چاول کے کاشتکار
 زرعی پیکیج اور چاول کے کاشتکار

  

وزیراعظم پاکستان کی طرف سے اعلان کردہ زرعی پیکیج میں ساڑھے بارہ ایکڑ تک کے چاول کے کاشتکاروں کو پانچ ہزار روپے فی ایکڑ نقد امداد دینے کا اعلان کیا گیا، کیونکہ چاول کی قیمت منڈی میں اتنی کم ہو گئی ہے کہ کسانوں کی پیداواری لاگت بھی پوری نہیں ہو رہی تھی۔ علاوہ ازیں کھادوں کی سبسڈی کے ذریعے 200 روپے سے 500 روپے تک فی بوری کمی کا اعلان کیا گیا۔ زرعی شعبے میں قرضوں کے لئے رقم بڑھانے کا اعلان کیا گیا۔ اِس پیکیج کا اعلان 15 ستمبر 2015 کو کیا گیا، پھر اس کے لئے تشہیری مہم میڈیا پر چلائی گئی۔ پاکستان تحریک انصاف کی شکایت پر کہ یہ پیکیج بلدیاتی الیکشن کے موقع پر نتائج حکومتی جماعت کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے کیا گیا ہے، الیکشن کمیشن نے اِس پر عملدرآمد روک دیا۔ کْچھ ہفتوں کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے احکامات کو معطل کر دیا۔ نتیجہ یہ کہ اِس پیکیج پر عمل درآمد پھر شروع ہو گیا اور ساتھ ہی میڈیا پر تشہیری مہم شروع ہو گئی۔

آیئے ہم اِس بات کا جائزہ لیں کہ چاول کے کاشتکاروں کو اِس سے کیا ریلیف ملا؟ ہم اِس پہلو کا بھی جائزہ لیں گے کہ اصل مسئلہ کیا ہے اور اس کے لئے حل بھی تجویز کریں گے؟۔۔۔پاکستان میں چاول کی سالانہ پیداور تقریباً 68 لاکھ ٹن ہے، جِس کا نِصف سے زیادہ بر آمد ہوتا ہے اور تقریباً دو ارب ڈالر کا زرِمبادلہ کمایا جاتا ہے۔ گندم کے بعد چاول مْلکی آبادی کی غذا کا اہم عنصر ہے۔ پاکستان کی مجموعی قومی پیداور میں زراعت کا حصہ 21% ہے اور چاول کل زرعی پیداور کا 3.1 فیصد اور جی ڈی پی کا تقریباً 0.7% ہے۔

یہ اہم غذائی جنس جون/ جولائی کے مہینے میں کاشت ہوتی ہے اور ستمبر/ اکتوبر اور نومبر کے شروع میں کاٹی جاتی ہے، اس کی کاشت ہمارے ہاں عام طور پر کھیت میں پانی کھڑا کر کے ہل چلا کر کی جاتی ہے اور شروع کے 30/40 دِنوں میں کھیت میں 2/3 انچ پانی کھڑا رکھا جاتا ہے۔ عام کسان فی ایکڑ کم از کم ایک سے دو بوری ڈی بی اے اور دو سے تین بوری یوریا کھاد استعمال کرتے ہیں۔ جڑی بوٹیاں وغیرہ مارنے کے لئے زہر پاشی اور زِنک کا استعمال اس کے علاوہ ہے۔

جب وزیراعظم صاحب نے 15ستمبر 2015ء کو چاول کے کسانوں کے لئے مذکورہ سہولتوں کا اعلان کیا، اْس وقت تک چاول کی فصل پکنے کے قریب تھی اور کْچھ جلدی بوئی جانے والی اقسام کاٹی جا رہی تھیں، یعنی کسان اپنی فصل پر لاگت کا خرچ برداشت کر چْکا تھا۔جب ہم پچھلے تین سالوں میں چاول کی مختلف اقسام کی قیمتِ فروخت اور کھادوں کی قیمتِ خرید کا جائزہ لیں تو یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ چاول کے کاشتکاروں کا اصل مسئلہ کیا تھا اور وزیراعظم صاحب نے جِس پیکیج کا اعلان کیا وہ کس حد تک اْس مسئلے کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔2013ء میں نان باسمتی چاول (اِری، 386 اور سْپرفائن وغیرہ) کی قیمت فروخت 1200 روپے سے 1500 روپے فی من تھی۔ 2014ء سال میں یہ قیمت 1100 روپے سے 1300 روپے فی من ہوئی۔ 2015ء میں یہ قیمت 500 سے 650 روپے فی من ہوگئی۔اِسی طرح سے باسمتی (سْپرباسمتی اور کائنات وغیرہ) کی قیمت فروخت 2013ء میں 2000 روپے سے 2500 روپے فی من تھی۔ 2014ء میں یہ قیمت 1300 روپے سے 1600 روپے فی من ہو گئی۔ 2015ء میں یہ قیمت 950 روپئے سے 1100 روپے فی من رہ گئی۔

دْوسری طرف 2013ء میں ڈی پی اے کھاد کی قیمت 3800 روپے فی بوری اور یوریا کھاد کی قیمت 1700 روپے سے 1900 روپے فی بوری تھی۔2014ء میں بھی تقریباً یہی قیمت رہی۔ 2015 میں ڈی بی اے کھاد کی قیمت 4000 روپے سے 4300 روپے فی بوری اور یوریا کی قیمت 1900 روپے سے 2100 روپے فی بوری ہوگئی۔ اِسی طرح سے جڑی بوٹیاں تلف کرنے والی دوائیوں اور زنک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔بوائی اور کٹوائی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ لیبر کے معاوضوں میں بھی اضافہ ہوا۔اگر ہم 35 من فی ایکڑ اوسط پیداوار لیں تو 2013ء میں نان باسمتی چاول کے کھیت سے کسان کو 45000 سے 48000 روپے فی ایکڑ قیمت فروخت مِل رہی تھی اور اس کو خرچ بمع زمین کا رینٹ منہا کر کے 10000 سے 15000 روپے فی ایکڑ آمدنی ہو رہی تھی۔اِسی طرح سے باسمتی کے کاشتکاروں کو 65000 روپے سے 70000 روپئے فی ایکڑ قیمت فروخت مِل رہی تھی اور اخراجات مع زمین کا رینٹ منہا کر کے 20 سے 25 ہزار روپے آمدنی ہورہی تھی۔ 2014ء میں نان باسمتی کاشتکاروں کو تقریباً 40 ہزار روپے فی ایکڑ اور باسمتی چاول کے کاشتکاروں کو 50 ہزار روپے کل قیمت فروخت حاصل ہوئی۔ 2015ء میں نان باسمتی چاول کے کاشتکاروں کو تقریباً 20 ہزار روپے فی ایکڑ اور باسمتی چاول کے کاشتکاروں کو تقریباً 32 ہزار روپے فی ایکڑ کل قیمت فروخت حاصل ہورہی ہے۔ پیداواری لاگت بمع زمین کا رینٹ کو سامنے رکھتے ہوئے یہ قیمت یا تو پیداوری لاگت سے کم ہے یا بمشکل ۱ْس کے برابر۔ 5 ہزار روپے نقد امداد وہ بھی صِرف ساڑھے بارہ ایکڑ تک کے کاشتکاروں کے لئے ، کسانوں کے نقصان کا ازالہ کرنے کے لئے کافی نہیں ہے، جبکہ اِس طبقے کے پاس پس انداز کی ہوئی پونجی بھی نہیں ہوتی۔

کسان راج تحریک کے تحت کسانوں کی نمائندہ تنظیم کسان بورڈ پاکستان کا مطالبہ تھا کہ حکومت نان باسمتی چاول کی سپورٹ پرائس 1500 روپے فی من اور باسمتی چاول کی 2500 روپے فی من کا اعلان کرے ، پھر اْس قیمت پر کسانوں کی ادائیگی کو یقینی بنائے۔ قارئین کے علم میں یہ بات لانی ضروری ہے کہ انڈیا میں تمام بڑی فصلوں کی سپورٹ پرائسں حکومت مقرر کرتی ہے ،پھر وہی قیمت کسانوں کو دلوائی جاتی ہے۔ دْنیا کے بہت سارے ملکوں میں اِسی طرح کا بندوبست کیا جاتا ہے، تاکہ فوڈسیکیورٹی خطرے میں نہ پڑے۔ 341 روپے کے جس پیکیج کا اعلان کیا گیا اورجس کی تشہیر پر کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں ،اِتنی ہی رقم میں سارا مسئلہ حل ہو جاتا۔ اس لئے ہماری رائے میں حکومت نے پیکیج کے ذریعے دْرست فیصلہ نہیں کیا۔ چاول کے کاشتکاروں کو موجودہ فصل میں کھادوں پر دِی گئی سبسڈی کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، کیونکہ کھادیں وہ سابقہ قیمت پر خرید کر پہلے ہی استعما ل کر چکے تھے۔ پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لئے حکومت کسانوں کو جدیدتحقیق کے نتیجے میں خشک زمین میں وقت پر چاول کاشت کرنے کی ترغیب دے۔اِس سے کم از کم 10 ہزار سے 12 ہزار روپے فی ایکڑ لاگت کم ہو جائے گی۔کسان بھائیوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ پنیری کی کاشت کے وقت زمین کو تیار کر کے وتّر پر ڈرِل کے ذریعے بیج کاشت کریں۔ سپرے کے ذریعے جڑی بوٹیوں کو تلف کریں اور عام فصل کی طرح ضرورت کے وقت پانی دیں۔ پیداوار میں فرق نہیں پڑے گا، جبکہ خرچ کم ہو جائے گا۔چاول کی پیداوار ہماری مْلکی ضروریات سے کافی زیادہ ہے۔ ہمارے ہاں بہت اعلیٰ معیار کا چاول پیدا ہوتا ہے۔حکومت چاول کی برآمد پر خصوصی توجہ دِے، تاکہ چاول کی مارکیٹ میں موجودہ بْحران کا خاتمہ ہو سکے۔

مزید :

کالم -