بھارت کی جیلوں میں کتنے لوگ قید ہیں اور ان میں سے کتنے فیصد مسلمان ہیں؟ جان کر آپ کو پاکستان سے مزید پیار ہوجائے گا

بھارت کی جیلوں میں کتنے لوگ قید ہیں اور ان میں سے کتنے فیصد مسلمان ہیں؟ جان کر ...
بھارت کی جیلوں میں کتنے لوگ قید ہیں اور ان میں سے کتنے فیصد مسلمان ہیں؟ جان کر آپ کو پاکستان سے مزید پیار ہوجائے گا

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والے بھارت میں مسلمان کس دردناک عذاب میں مبتلا ہیں اس کا اندازہ حال میں میں سامنے آنے والے بھیانک اعداد و شمار سے کیا جاسکتا ہے، جن کے مطابق ملک کی جیلوں میں قید لاکھوں افراد میں سے 70 فیصد سے زائد کے مقدمات زیر سماعت ہیں، اور ان کی بھاری اکثریت یا تو مسلمان ہیں یا دلت۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق 31مارچ 2016ءتک جمع کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں تین کروڑ سے زائد مقدمات زیر التوا تھے، اور جیلیں ایسے مظلوم افراد سے بھری پڑی ہیں کہ جنہیں محض نظام انصاف کی ناکامی کی سزا بھگتنی پڑ رہی ہے۔

جن افراد کو زیر التوا مقدمات کی وجہ سے جیلوں میں رکھا گیا ہے ان میں سے 55 فیصد مسلمان یا دلت ہیں۔ مسلمان کل بھارتی آبادی کا 14.2 فیصد ہیں، جن میں سے 15.8 فیصد کو مجرم قرار دے کر جیلوں میں بند کیا گیا ہے، جبکہ تقریباً 21 فیصد کے مقدمات زیر التواءہیں اور یہ مقدے کا فیصلہ ہونے سے پہلے ہی قیدی بنا دئیے گئے ہیں۔

پاکستان کا وہ گاؤں جسے دیکھنے کے لئے ’گورے‘پاکستان بھاگے چلے آتے ہیں، ایسا کیا ہے اس گاؤں میں؟جان کر آپ بھی اسے دیکھنے ضرور جائیں گے

اخبار اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ مسلمان اور دلت برادری سے تعلق رکھنے والوں کو سزائیں دینے کی شرح دیگر آبادی کی نسبت کہیں زیادہ ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ قانون کی نظر میں یہ طبقات مجرم ہیں۔ ان کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے کہ جسے زیر التوا مقدمات کے دوران کئی سالوں تک بھی جیل میں رہنا پڑسکتا ہے، جبکہ قانون کے مطابق وہ مجرم نہیں ہوتے۔ ان میں سے 25 فیصد کو مقدمے کا فیصلہ ہونے سے قبل تقریباً ایک سال کے لئے جیل میں رہنا پڑتا ہے جبکہ کچھ کیسز میں فیصلہ آنے تک ان کی غیر قانونی قید 5سال سے بھی زائد عرصے تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق غیر قانونی قید کے دوران انہیں ناصرف نفسیاتی اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ انہیں جنسی جرائم کا بھی نشانہ بنایا جاتا ہے، جس کا تذکرہ کوئی بھی نہیں کرتا اور یہ بھیانک سلسلہ جوں کا توں جاری ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -