اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ انسانیت کی اصلاح

اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ انسانیت کی اصلاح

  

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی

مولانا محمدالیاس نے تبلیغی جماعت کی بنیاد رکھی اور ان کے اخلاص کا نتیجہ ہے کہ آج پوری دنیا کے اندر ہر قسم کے تعصبات سے بالا تر ہو کر یہ جماعت انسانیت کی بھلائی کے لیے کام کر رہی ہے ۔ تبلیغی جماعت کا کوئی مستقل نظم موجود نہیں ہے لیکن اس کے باوجود یہ ایسی منظم جماعت ہے جو کروڑوں کی تعداد میں افرادی قوت رکھنے کے باوجود کسی قسم کے تشدد یا تعصب کے معاملات میں ملوث نہیں ہوتی۔تبلیغی جماعت کے اکابرین کا ہمیشہ ایک واضح پیغام رہا ہے کہ اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ انسانیت کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے اور یہ بات حقیقت ہے کہ جب تک اپنی اصلاح نہ ہو او ر اپنا کردار اور اخلاق بلند نہ ہو اس وقت تک دوسروں کو دعوت دینا ایک مشکل امر ہے اور اسی لیے تبلیغی جماعت پہلے اپنی اصلاح پر زور دیتی ہے اور اس کے بعد دوسروں کو دعوت دینے کی ترغیب دیتی ہے ۔ تبلیغی جماعت کے ساتھ چلنے والے یہ بات جانتے ہیں کہ وہاں پر حقیقت حال میں یہ منظر دیکھا جا سکتا ہے کہ کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر ، کسی امیر کو غریب پر اور کسی غریب کو امیر پر کوئی فوقیت نہیں ہوتی ، ہر کوئی خدمت انسانیت میں مصروف رہتا ہے اور یہی وہ پیغام ہے جو اسلام ہمیں دیتا ہے اور اسی پیغام کو لے کر تبلیغی جماعت آگے بڑھ رہی ہے ۔

پچھلے سال کے اجتماع میں اکابرین امت نے تبلیغ کے اسلوب کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہم دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ اپنے رویوں کو سخت کر لیں گے اور ان کے ساتھ معاملات میں نرمی کی بجائے سختی کا رویہ اختیار کریں گے تو اس کے نتیجے میں نفرت پیدا ہو گی اور اس عمل سے نہ صرف تبلیغ کے کام پر اثر پڑے گا بلکہ اس سے فساد پیدا ہونے کا بھی اندیشہ پیدا ہو سکتا ہے ۔تبلیغی جماعت کے اکابرین کی یہ ہدایت کہ انسانیت سے پیار کرو اور انسانیت کو اپنے کردار اور عمل سے محمدعربیؐ کے دین کی طرف متوجہ کرو ،جو اسلام کی اصل اساس ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اگر تبلیغی جماعت کی طرف سے بتائے جانے والے چھ نمبروں کو آپ اپنی زندگی میں لے آئیں تو آپ کو نہ صرف زندگی گزارنا آسان ہو جاتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی آپ کا طرز زندگی قابل تقلید بن جاتا ہے ۔

آج پوری دنیا کے اندر اپنی مدد آپ کے تحت تبلیغی جماعت کے قافلے اپنی اصلاح اور تبلیغ کے جذبے کے ساتھ کام کر رہے ہیں ۔ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک ان قافلوں میں ہر مسلک ، ہر قبیلے ، ہر رنگ کے لوگ نظر آتے ہیں جو اللہ اور اللہ کے رسول کی دعوت لے کر قریہ قریہ ، گلی گلی ، نگر نگر پھر رہے ہیں ۔ آج اسلامی دنیا بالخصوص اور پوری دنیا بالعموم جن تعصبات کا شکار ہے اور ان تعصبات کی وجہ سے جو نفرتیں بڑھ رہی ہیں اور تشدد اختیار کیا جا رہا ہے تبلیغی جماعت کے اکابرین کے بتائے ہوئے طریقے سے ہی ان تعصبات اور نفرتوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ وہی طریقہ ہے جو حضرت محمد مصطفی ؐ اور ان کے صحابہؓ نے امت کو دیا ہے اور امت جب تک اس طریقے کو اختیار نہیں کرے گی اس وقت تک تشدد اور تعصب اور تصادم کے راستے بند نہیں ہوں گے ۔تبلیغی جماعت کا عالمی اجتماع جس میں پندرہ لاکھ سے زائد لوگ شریک ہوتے ہیں اور حج بیت اللہ اور بنگلہ دیش میں تبلیغی اجتماع کے بعد یہ تیسر ابڑا مسلمانوں کا اجتماع ہوتا ہے جس میں نہ کوئی سیاسی نعرہ لگتا ہے ، نہ کوئی تعصب کی بات ہوتی ہے ، نہ کوئی کسی سے نفرت کرتا ہے ، بلکہ ان ایام میں اس اجتماع میں شریک لوگوں کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ لوگ چند دنوں کے لیے ایک ایسی دنیا میں آ گئے ہیں جہاں محبتیں ہی محبتیں ہیں اور نفرتوں کا وجود نہیں ہے ۔ جہاں انسانیت کا احترام ہے اور انسانیت اور اخلاق سے گری ہوئی کسی بھی حرکت کا تصور ممکن نہیں ہے ۔ یہاں پر آنے والے یہ جذبہ لے کر واپس جاتے ہیں کہ ہمیں انسانیت سے پیار کرنا ہے اور ہمیں محمد عربی ؐ کے دین کو نہ صرف خود سیکھنا ہے بلکہ اس کا پیغام اور دنیا تک بھی پہنچانا ہے اور وہ پیغام پہنچانے کا طریقہ وہی ہو گا جو آقا علیہ السلام نے بتلایا ہے اور جس کی طرف رہنمائی قرآن کریم نے کی ہے ۔ آج ضرورت اسی امر کی ہے کہ ہم دین اسلام کی اصل اساس کی طرف لوٹ جائیں اور اپنے رویوں میں تبدیلی پیدا کریں ۔ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھیں اور انسانیت کو تعصبات سے بالا تر ہو کر وہ پیغام پہنچائیں جس کی ذمہ داری ہمارے اوپر عائد کی گئی ہے اگر ہم اپنے رویوں کو درست نہیں کریں گے اور تعصبات اور اختلافات میں قرآن و سنت کے بتائے ہوئے رستوں کو چھوڑ دیں گے اور انسانیت کی تذلیل اپنے مفادات کے لیے کریں گے تو اس سے تشدد اور نفرتیں جنم لیں گی اور تبلیغی جماعت کے اکابرین نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ محبتوں کا ہے ، وہ تشدد کی بجائے برداشت کا ہے ، نفرت کی بجائے دلیل کا ہے اور یہی کامیابی کا راستہ ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -