بھارت نے ویانا کنونشن اور سفارتی آداب کی خلاف ورزی کی،ہندوستان میں موجود پاکستانی عملے پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے :نفیس زکریا

بھارت نے ویانا کنونشن اور سفارتی آداب کی خلاف ورزی کی،ہندوستان میں موجود ...
بھارت نے ویانا کنونشن اور سفارتی آداب کی خلاف ورزی کی،ہندوستان میں موجود پاکستانی عملے پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے :نفیس زکریا

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) دفتر خارجہ کے ترجمان محمد نفیس زکریا نے کہا ہے کہ بھارت نے ویانا کنونشن اور سفارتی آداب کی خلاف ورزی کی ہے، بھارت پاکستان میں مختلف تخریبی سرگرمیوں میں ملوث رہتا ہے،کلبھوشن یادیو کی نشاندہی کئی افراد کو گرفتار کیا جن کے انکشاف پر کئی اور چیزیں بھی سامنے آئیں ۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں موجود ہمارے عملے پر بڑی کڑی نظر رکھی جاتی ہے اور ان کو تو شروع سے ہی پتہ تھا کہ یہ آدمی یہاں کام کرتا ہے، اس آدمی کو پکڑنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بھارت نے سفارتی آداب اور ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے کیونکہ ان لوگوں نے سب کچھ جانتے ہوئے ہمارے اس آدمی کو گرفتار کیا، ہم نے اسی حوالے سے یہ بات کہی کہ بھارت نے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی ڈپلومیٹک انکلیو میں کام کرنے والے یہ لوگ کوئی کمرشل آفیسر تھا تو کوئی انفارمیشن آفیسر، لیکن حقیقت میں یہ لوگ بھارتی خفیہ ایجنسی راء اور آئی بی کے ایجنٹ تھے، اور ہم نے بار ہا مرتبہ یہ بات کہی ہے کہ بھارت پاکستان میں مختلف تخریبی سرگرمیوں میں ملوث رہتا ہے اور ہمیں اس پر بہت خدشات بھی تھے اور اسی وجہ سے 2015ء میں بھی پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو اس بارے میں دستاویزات بھی پیش کیں، اقوام متحدہ میں بھارت کی پاکستان میں مداخلت کے ثبوت پیش کرنے کے کافی ماہ بعد بھارتی خفیہ ایجنسی راء کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کے پاکستان سے پکڑے جانے کے بعد اور بھی کئی باتیں کھل کر سامنے آ گئیں جس میں اس نے یہ اعتراف بھی کیا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی و انتہا پسندی پھیلانے میں ملوث ہے، اسی کی نشاندہی پر کئی اور لوگوں کو بھی پکڑا گیا اور کافی ساری اور بھی چیزیں سامنے آئیں۔

نفیس زکریا نے بتایا کہ کور ایجنٹس تو ہر جگہ پہ ہوتے ہیں اوریہ دونوں ملکوں کی حکومتوں کے علم میں ہوتا ہے اور ایسا کبھی بھی نہیں ہوتا کہ انہیں ظاہر کر دیا جائے یا بلاک کر دیا جائے لیکن بھارت نے ایسا کیا اور ہم اسے بھی سفارتی آداب کی خلاف ورزی ہی قرار دیتے ہیں، اس سلسلے میں بھارت نے اور لوگوں کے بھی نام ڈال دئیے جس سے ان کی زندگی کو خطرات ہوگئے، ان کے خاندان کو ہراساں کیا جانے لگا اور پھر ایسے لوگوں اور ان کے خاندانوں کو بھی واپس بلانا پڑا۔ ایک اور سوال کے جواب میں ا نہوں نے کہا کہ فوری کوئی کاروائی نہیں ہوتی اور نہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ اچانک اٹھے اور کہہ دیا کہ ایسا ہو گیا ہے بلکہ اس سارے معاملے کے پیچھے ایک پوری منصوبہ بندی ہوتی ہے اور پھر ہی کوئی کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

مزید :

قومی -