تبلیغِ دین ۔۔۔فریضۂ اولین!طلب و احساس کی دعوت!

تبلیغِ دین ۔۔۔فریضۂ اولین!طلب و احساس کی دعوت!

  

نومبر 2016ء

امجد حسین

m11ad891

مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی ایک یادگار تحریر

مولانا محمد الیاس کو اس بات کا پوری شدت سے احساس ہوا کہ اس وقت سب سے مقدم اور ضروری کام تبلیغ اور مسلمانوں میں مسلمان ہونے کا احساس پیدا کرناہے اور یہ کہ دین سیکھے بغیر نہیں آتا اور دنیاوی ہنروں سے زیادہ اس کے سیکھنے کی ضرورت ہے۔یہ احساس اور طلب اگر پیدا ہوگئی تو باقی مراحل و منازل خود طے ہو جائیں گے، اس وقت کے مسلمانوں کا عمومی مرض بے حسی اور بے طلبی ہے، لوگوں نے غلط فہمی سے سمجھ لیا ہے کہ ایمان تو موجود ہی ہے، اس لئے ایمان کے بعد جن چیزوں کا درجہ ہے، ان میں مشغول ہوگئے، حالانکہ سرے سے ایمان پیدا کرنے ہی کی ضرورت باقی ہے۔

قرون اولیٰ کے مقابلہ میں تعلیم و تبلیغ و ارشاد و اصلاح میں ایک عظیم تغیر یہ ہوا کہ ان کا دائرہ طالبین کے لئے محدودہوکر رہ گیا، اہل طلب کے لئے تعلیم و اصلاح اور ہدایت وارشاد کا پورا نظام اور اہتمام تھا، لیکن جن کو اپنے مرض کا احساس ہی سرے سے نہیں اور جو طلب سے خالی ہیں، ان کی طرف سے توجہ بالکل ہٹ گئی، حالانکہ ان میں طلب کی تبلیغ کی ضرورت تھی، انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے وقت سارا عالم مستغنی اور سود وزیاں سے بے پروا ہوتا ہے۔یہ حضرات انہیں میں طلب علم پیداکرتے ہیں اور کام کے آدمی حاصل کرلیتے ہیں، بے طلبوں اور بے حسوں میں طلب و احساس پیدا کرنا ہی اصل تبلیغ ہے۔

اس احساس و طلبِ دین اور اسلام کے اصول و مبادی کی تلقین کا ذریعہ کیا ہے؟اسلام کا کلمہ ء طیبہ ہی اللہ تعالیٰ کی رسی کا وہ سرا ہے ،جو ہر مسلمان کے ہاتھ میں ہے، اسی سرے کو پکڑکر آپ اسے پورے دین کی طرف کھینچ سکتے ہیں، وہ کشمکش نہیں کرسکتا، مسلمان جب تک اس کلمہ کا اقرار کرتا ہے، اس کو دین کی طرف لے آنے کا موقع باقی ہے۔اس موقع کے (خدانخواستہ) نکل جانے سے پہلے اس سے فائدہ اٹھا لینا چاہیے۔

اب مسلمانوں کی اس وسیع اور منتشر آبادی میں دین کا احساس و طلب پیدا کرنے کا ذریعہ یہی ہے کہ ان سے اس کلمہ ہی کے ذریعہ تقریب پیدا کی جائے اور اسی کے ذریعہ خطاب کیا جائے، کلمہ یاد نہ ہو تو کلمہ یاد کرایا جائے، غلط ہو تو اس کی تصحیح کی جائے، کلمہ کے معنی و مفہوم بتائے جائیں اور سمجھایا جائے کہ خدا کی بندگی و غلامی اور رسولؐ کی تابعداری کا اقرار ان سے کیا مطالبہ کرتا ہے، اس طرح ان کو اللہ اور رسولؐ کے احکام کی پابندی پر لایا جائے ،جن میں سے سب سے عمومی، سب سے مقدم اور سب سے اہم نماز ہے ،جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ قابلیت رکھی ہے کہ وہ سارے دین کی استعداد و قوت پیدا کردیتی ہے،جس بندگی کا کلمہ میں اقرار تھا، اس کا یہ پہلا اور سب سے کھلا ثبوت ہے، پھر اس شخص کی مزید ترقی اور استحکام کے لئے اس کو اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے اور اس تعلق کو بڑھانے کی طرف متوجہ کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ یاد کرنے کی ترغیب دی جائے، نیز یہ بات اس کے ذہن نشین کی جائے کہ مسلمانوں کی طرح زندگی گزارنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی مرضی و منشا اور اس کے احکام و فرائض معلوم کرنے کی ضرورت ہے۔دنیا کا کوئی ہنر اور کوئی فن بے سیکھے اور کچھ وقت صرف کئے بغیرنہیں آتا، دین بھی بے طلب کے نہیں آتا اور اس کو آیا ہوا سمجھنا غلطی ہے، اس کے لئے اپنے مشاغل سے وقت نکالنا ضروری ہے۔یہ کام اتنا بڑا اور اتنا پھیلا ہوا ہے کہ اس کے لئے چند افراداور چند جماعتیں کافی نہیں ، اس کے لئے عام مسلمانوں کی مسلمانوں میں کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔اس لئے کہ بقول مولانا محمد الیاس صاحبؒ اگر کروڑوں کے واسطے لاکھوں نہیں اٹھیں گے تو کس طرح کام ہوگا، نہ جاننے والے جتنے کروڑ ہیں،جاننے والے اتنے لاکھ نہیں‘‘۔مولانا کے نزدیک اس کام کے لئے عالمِ اسلام میں ایک عمومی اور دائمی حرکت و جنبش کی ضرورت ہے اور یہ حرکت اور جنبش مسلمانوں کی زندگی میں اصل اور مستقل ہے۔سکون ووقوف اور دنیا کا اشتغال عارضی ہے، دین کے لئے اس حرکت و جنبش پر مسلمانوں کی جماعت کی بنیاد رکھی گئی اور یہی ان کے ظہور کی غرض و غایت ہے۔ورنہ دنیا کے سکون و دنیاوی انہماک، کاروبار کی مصروفیت اور شہری زندگی کے کسی ضروری شعبہ میں کوئی ایسی کمی نہ تھی،جس کی تکمیل کے لئے ایک نئی امت کی ضرورت ہو۔

مسلمانوں نے جب سے اس جماعتی زندگی اور اصلی کام کو چھوڑ دیا یاثانوی درجہ دے دیا، اس وقت سے ان کا انحطاط شروع ہوگیا اور جب سے ان کی زندگی میں سکون و استقرار اور پرسکون و مصروف شہری زندگی کی کیفیات و خصوصیات پیدا ہوگئیں، ان کا وہ روحانی زوال اور اندرونی ضعف شروع ہوگیا،جس کا عنوان خلافت راشدہ کا خاتمہ ہے۔مولانا محمد الیاس صاحبؒ فرماتے ہیں اور تاریخ ان کی لفظ لفظ تائید کرتی ہے اور ان کے ہر دعوے پر شہادتیں پیش کرتی ہے:

’’ہم نے جماعتیں بنا کر دین کی باتوں کے لئے نکلنا چھوڑ دیا،حالانکہ یہی بنیادی اصل تھی۔حضوراکرمؐ خود پھراکرتے تھے اور جس نے ہاتھ میں ہاتھ دیا، وہ بھی مجنونانہ پھرا کرتا تھا۔مکہ کے زمانہ میں مسلمین کی مقدار افراد کے درجہ میں تھی تو ہر فرد مسلم ہونے کے بعد بطور فردیت و شخصیت کے منفرداً دوسروں پر حق پیش کرنے کے لئے کوشش کرتا رہا۔مدینہ میں اجتماعی اور متمدن زندگی تھی، وہاں پہنچتے ہی آپ نے چہار طرف جماعتیں روانہ کرنی شروع کردیں اور جو بڑھتے گئے وہ اکثریت کی طرف بڑھتے گئے، سکونی زندگی صرف انہیں کو حاصل تھی، جو پھر نے والوں کے لئے ’’فِءَتہً‘‘(مرجع) اور پھرتے رہنے کا ذریعہ بن سکیں، غرض پھرنا اور دین کے لئے جدوجہد اور نقل و حرکت میں رہنا اصل تھا، جب یہ چھوٹ گیا ، جب ہی خلافت ختم ہوگئی۔

نظامِِ کار:اس کام کے لئے جب مسلمانوں کی جماعتیں نقل و حرکت میں آجائیں تو ان کے کام کا نظام کیا ہوگا اور ترتیب کیا ہوگی؟کس چیز کی او رکتنی چیزوں کی دعوت دی جائے گی؟اس کا جواب مولانا ہی کے الفاظ میں سنئے:

’’اصل تبلیغ صرف دو امر کی ہے، باقی اس کی صورت گری اورتشکیل ہے، ان دو چیزوں میں ایک مادی ہے اور ایک روحانی۔مادی سے مراد جوارح سے تعلق رکھنے والی۔سو وہ تو یہ ہے کہ حضوراکرمؐ کی لائی ہوئی باتوں کو پھیلانے کے لئے ملک بہ ملک اور اقلیم بہ اقلیم جماعتیں بنا کر پھرنے کی سنت کو زندہ کرکے فروغ دینا اور پائیدار کرنا ہے۔روحانی سے مراد جذبات کی تطہیر ،یعنی حق تعالیٰ کے حکم پر جان دینے کا رواج ڈالنا،جس کو اس آیت میں ارشاد فرمایا:

ترجمہ:’’قسم ہے آپ کے رب کی یہ لوگ ایمان دار نہ ہوں گے ، جب تک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس میں جو جھگڑا واقع ہو اس میں آپ سے یہ لوگ تصفیہ کرادیں، پھر آپ کے تصفیہ سے اپنے دلوں میں تنگی نہ پاویں اور پورا پورا تسلیم کرلیں النساء اور میں نے جن و انس کو اسی واسطے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں‘‘۔

اسی کی حیثیت سے کوشش کرنا، اس وقت بدقسمتی سے ہم کلمہ تک سے ناآشنا ہورہے ہیں، اس لئے سب سے پہلے اسی کلمہ طیبہ کی تبلیغ ہے ،جوکہ خدا کی خدائی کااقرارنامہ ہے،یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم پر جان دینے کے علاوہ درحقیقت ہمارا کوئی بھی مشغلہ نہیں ہوگا۔

2۔کلمہ کے لفظوں کی تصحیح کرنے کے بعد نماز کے اندر کی چیزوں کی تصحیح کرنے اور نمازوں کو حضوراکرمؐ کی نماز جیسی نماز بنانے کی کوشش میں لگے رہنا۔

3۔تین وقتوں کو(صبح و شام اور کچھ حصہ شب کا)اپنی حیثیت کے مناسب تحصیل علم و ذکر میں مشغول رکھنا۔

4۔ان چیزوں کو پھیلانے کے لئے اصل فریضہ محمدی سمجھ کروقت نکالنا، یعنی ملک بہ ملک رواج دینا۔

5۔اس پھر نے میں خلق کی مشق کرنے کی نیت رکھنا، اپنے فرائض (خواہ خالق سے متعلق ہوں یا خلق کے ساتھ) کی ادائیگی کی سرگرمی، کیونکہ ہر شخص سے اپنے ہی متعلق سوال ہوگا۔

6۔تصحیح نیت، یعنی ہر عمل کے بارے میں اللہ تعالی نے جو وعدے وعید فرمائے ہیں، ان کے موافق اس امر کی تعمیل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور موت کے بعد والی زندگی کی درستی کی کوشش کرنا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -