کمیونیکیشن سٹڈہذوسیع میدان ہے ابلاغیات کے طالب علم اپنے آپ کو محدودنہ کریں

کمیونیکیشن سٹڈہذوسیع میدان ہے ابلاغیات کے طالب علم اپنے آپ کو محدودنہ کریں

  

 انٹرویو :زلیخا اویس

عکاسی : عمر شریف

یونیورسٹی آف سنٹر پنجاب پاکستان کی ایک اہم اور بڑی یونیورسٹی ہے جس نے بہت کم عرصہ میں اپنے تعلیمی معیار اور ریسرچ کی بدولت اہم مقام حاصل کیا ۔

یونیورسٹی آف سنٹر پنجاب کاسکول آف میڈیا اینڈ کیمونیکیشن سٹڈیز طالب علموں کو اعلیٰ تعلیم کی تمام تر سہولتوں کی فراہمی کے لئے کوشاں ہے۔

میڈیا سکول کا شمار پاکستان کے بہترین سکولوں میں ہوتا ہے اور اس نے بہت کم عرصے میں اعلیٰ معیار کی جدید تعلیم کی تدریس میں منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ میڈیا سٹڈیز کی تعلیم کے حوالے سے یہ سکول پاکستان کا سب سے بڑا اور معیاری سکول ہے جو ایک مکمل فیکلٹی ہے اور عالمی معیار کے میڈیا سکولوں کا ہم پلہ ہے۔

سکول آف میڈیا میں طلباء و طالبات کی علمی و عملی تربیت کے لئے تمام سہولیات مہیا کی گئی ہیں تاکہ انہیں عملی زندگی میں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے اس سلسلے میں ایف ایم ریڈیو، پروڈکشن ہاؤس، فلم اینڈ تھیٹر سٹڈیز کے علاوہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے لئے ضروری مختلف کورسز کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

سکول آف میڈیا نے پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی سرکردگی میں تیزی سے کامیابی کی منازل طے کی ہیں اور آج دیگر جامعات کے مقابلے میں یو سی پی کا یہ شعبہ امتیازی حیثیت کا حامل ہے۔

شعبہ تعلیم میں پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ ایک ممتاز ماہرتعلیم اور ماہرِ ابلاغیات ہیں۔قومی اور بین الاقوامی امور پر آپ کی گہری نظر ہے۔آ پ کے 37تحقیقی مقالات ملکی و غیر ملکی رسالوں میں شائع ہو چکے ہیں۔آپ کو مسلسل تیسری بار ڈین بنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے پنجاب یونیورسٹی میں بطور ڈین اور چیئرمین کام کیا اور شعبہ ابلاغیات کے چھوٹے سے ڈپارٹمنٹ کو آپ نے انسٹی ٹیوٹ بنا دیا ، ایف ایم ریڈیو سٹارٹ کیا اور کئی دیگر ترقیاتی کام کئے۔ اسی طرح آپ نے سپرئیر یونیورسٹی میں ماس کام) (Mass Com کے شعبہ کا آغاز کیا اور اس کی ترقی کے لئے کئی کام کئے۔ آپ نے کئی پرائیویٹ اور پبلک یونیورسٹیوں میں ہائر ایجوکیشن کے پروگرام متعارف کروائے، تقریباً پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں ایک دو کو چھوڑ کر بورڈ آف سٹڈیز کے ممبر ہیں اور گزشتہ چار سال سے ہائر ایجوکیشن کی نصاب کمیٹی Curriculam Committe کے کنونیر (Conviner) ہیں۔ اس وقت آپ یو سی پی کے سکول آف میڈیا اینڈ کیمونیکیشن سٹڈیز میں بطور ڈین کام کررہے ہیں۔

گزشتہ دنوں روزنامہ پاکستان نے آپ کے ساتھ ایک خصوصی اور پُرمغز سوال و جواب کی نشست کا اہتمام کیا ،قارئین کے افادۂ علم کے لئے اس نشست کے احوال رقم کئے جا رہے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

س: سر آپ ملکی و غیر ملکی سطح پر جانی پہچانی علمی شخصیت ہیں۔ آپ کو یہ مقام حاصل کرنے میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

ج: دیکھیں زلیخا ، زندگی عمل اور جدوجہد کا نام ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں ہر مشکل کو ،اگر وہ مشکل تھی، تو اسے چیلنج سمجھا۔ میری ساری زندگی چیلنجز قبول کرنے اور ان کا سامنا کرنے میں گزری ہے، لہٰذا جب آپ چیلنجز کا سامنا کرنے کے عادی ہو جائیں تو مشکلوں کے لفظ سے ناآشنا ہو جاتے ہیں اور آپ کی ڈکشنری سے یہ لفظ غائب ہو جاتا ہے۔ اس لئے میں نہیں سمجھتا کہ مجھے کوئی مشکل پیش آئی بلکہ میں تو اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں جس نے مجھے اتنی عزت اور کامیابیوں سے نوازا۔

س: ہمارے ہاں لوگ ٹیچنگ میں آنا پسند نہیں کرتے۔ ڈاکٹر یا انجینئر بننا چاہتے ہیں، آپ نے یہ شعبہ اپنی خواہش سے چنا یا کوئی مجبوری شامل تھی؟

ج:کوئی مجبوری نہیں تھی ٹیچنگ میرا شوق ہے۔میری خواہش تھی کہ اس شعبے میں آؤں، خصوصاً لیکچرر شپ میں۔ 1976سے یہ سفر شروع ہوا اور اللہ کا کرم ہے آج تک جاری ہے۔

س:آپ نے بطور مضمون صحافت ہی کو کیوں چنا؟

ج: زمانہ طالب علمی میں مقرر تھا بولنا ، سننا میرا واڑھنا بچھونا تھا۔میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ کوئی ایسا شعبہ ہونا چاہیے جو میری سوچ اور زندگی کے مقاصد کی صحیح ترجمانی کر سکے اورصحافت کا شعبہ میرے ذوق کی تسکین کے عین مطابق تھا ۔ اس لئے میری اپنی تمام تعلیم اور آگے تعلیم دینے کا سلسلہ اسی شعبے سے منسلک رہا۔

س:آپ خود پروفیشنل صحافی کیوں نہیں بنے؟

ج:( مسکراتے ہوئے) آج پاکستانی میڈیا ( الیکٹرانک و پرنٹ) میں کئی قد آور شخصیات اور سکہ بند صحافیوں کا شمار میرے شاگردوں میں ہوتا ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں ایک پروفیشنل صحافی بننے کی بجائے بحیثیت اُستاد خدمات سر انجام دینا میرے لئے زیادہ اعزاز کی بات ہے۔

س:آپ نے ملکی و غیر ملکی یونیورسٹیوں میں تدریسی فرائض سرانجام دئیے ہیں۔دونوں ایجوکیشنل سسٹم میں کیا فرق ہے؟

ج:باہر پڑھائی کے لئے پرسکون ماحول فراہم ہے جس میں کوئی مداخلت نہیں کرتا ، اساتذہ،محققین اورطالب علموں کو تمام تر سہولیات مہیا ہیں اور اُنہیں پوری آزادی سے کام کرنے دیا جاتا ہے۔ اسی لئے ان کی یونیورسٹیوں کے تعلیمی نتائج بہت اچھے ہیں۔پاکستان میں بھی جن تعلیمی اداروں میں یہ سہولیات میسر ہیں وہاں تعلیمی نتائج بہت اچھے ہیں۔

آپ کویہ جان کر حیرانی ہوگی کہ ہمارے ماس کیمونیکیشن سٹڈی کے شعبے کو ہندوستان جیسے ملک کے ماس کیمونیکیشن سٹڈی کے شعبے پر برتری حاصل ہے۔ وہاں کمیونیکیشن سٹڈی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جو ہمارے شعبے سے بہتر ہو۔ انڈیا سے جو وفود اور میڈیا کے طلبہ ء پاکستان آتے تھے تو ان کو یہ حیرانی ہوتی تھی کہ ہمارا یہ شعبہ ان سے بہتر کیوں ہے۔ہم شکر گزار ہیں اپنے رب کریم کے کہ ہم ایک آزاد ملک میں رہتے ہیں اور اپنے وسائل میں رہ کر اپنے طالب علموں جو ہم سے بہتر سے بہتر ہو سکتا ہے وہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

س : موجودہ حالات میں پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں؟

ج:ملک کے حالات کچھ ایسے ہیں کہ کبھی مستقبل واضح اور روشن نظر آتا ہے اور کبھی دھندلا، لیکن مایوسی کوئی نہیں ہے۔اعلیٰ تعلیم ہمیشہ صوبوں میں رہی ہے یونیورسٹیاں بھی صوبوں ہی میں بنتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں اعلیٰ تعلیم کا تعلق صوبوں یا وفاق سے نہیں ہے البتہ تعلیمی پالیسی قومی پالیسی ہونی چاہیے جو ہر جگہ اپلائی ہو۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد پنجاب اور سندھ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن بنائے ہیں، پنجاب کا کمیشن کافی فعال ہے تاہم پالیسی کے ایشوز پر بات نہیں ہو رہی اس پر بات تب ہو گی جب این ایف سی کا ایوارڈ ملے گا اور سی سی آئی کمیٹی میں پالیسی پہ باتیں ہوں گی۔

س:آپ یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب UCP)) سے منسلک ہیں ۔اس میں اب تک کیا اقدامات کئے گئے ہیں؟

ج:دو سال ہو گئے سکول آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز کو بنے ہوئے ۔یہ ہمارے پاس تیسرا سیشن ہے۔ آپ دیکھیں کہ دو سال میں ہم نے اتنا طویل سفر طے کیا ہے۔

ہماری پہلی ترجیح فیکلٹی کے شعبے کو بہتر بنانا تھا۔ جس میں الحمد اللہ ہم کامیاب رہے۔ پی ایچ ڈی کو پڑھانے والی فیکلٹی میں سب باہر سے پڑھ کر آتے ہیں۔ کوئی ایسا نہیں جو باہر سے پی ایچ ڈی کرکے نہیں آیا۔ ہم بچوں کو ایک قابل فیکلٹی دے رہے ہیں۔ خاص طور پر ہمارے پی ایچ ڈی سسٹم کو اتنا پسند کیا گیا ہے کہ ہماری مثال دیتے ہیں۔

ہمارا پی ایچ ڈی پروگرام پاکستان کا بہترین پروگرام ہے۔پی ایچ ڈی اور ایم فل پروگرام ہماری پہچان ہیں۔ چند دن پہلے ہمارا ایک طالب علم سنگاپور کی ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں پیپر پڑھ کر آیا ہے۔ جس کو ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ڈیڑھ لاکھ روپے کی گرانٹ دی ہے۔ قابلیت تھی تو گرانٹ ملی ہے ناں۔

سکول آف میڈیا میں ڈاکٹریٹ کے طلباء کے لئے ملک بھر سے چن چن کر اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں ، یہاں پی ایچ ڈی کے لئے وہی طریقہ کا اختیار کیا گیا ہے جو عالمی سظح کی بہترین یونیورسٹیز میں رائج ہے ۔

پرائیویٹ یونیورسٹوں میں صرف یو سی پی کو ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پی ایچ ڈی کروانے کا این او سی جاری کیا ہے اور یہ ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے ۔

یہاں ریڈیو سٹیشن نہیں تھا۔ وہ شروع کرایا۔ ہمارا ریڈیو سیٹ اپ دیگر یونیورسٹیوں سے بہت بہتر ہے۔ دوسرا NAD Lab(این اے ڈی لیب) ہمارے پاس موجود ہے، اتنی بڑی کمپیوٹر لیب کسی بھی ادارے کے ماس کام (Mass Com)ڈیپارٹمنٹ میں نہیں ہے۔

پروڈکشن ہاؤس کے حوالے سے ہماری میٹنگ ہو چکی ہے۔ جلد ہی پروڈکشن سے متعلقہ سامان آنے والا ہے۔تقریباً 9کروڑ تک کا سامان شامل ہوگا۔ آپ کو شائد ہی کسی اور یونیورسٹی میں ایسا پروڈکشن ہاؤس ملے گا۔

دوسری بات یہ ہے کہ جو کورسز ہم نے آفر کئے ہیں اُن کو پڑھانے اور ریسرچ کا پورا انتظام بھی کیا ہے ، عموماََ کورسز بن تو جاتے ہیں مگر کوئی پڑھنے والا نہیں ہوتا ۔ طالبِ علم بھی زیادہ پروا نہیں کرتے۔ لیکن ہم نے اس طرف خصوصی توجہ دی کی اگر کوئی نیا کورس ڈیزائن ہو گا تو اُ س حوالے سے تمام اقدامات کئے جائیں گے۔

ہماری کوشش ہے کہ ڈیپارٹمنٹ کا پبلکیشن ورک سب سے بہتر ہو اور اس کی ریسرچ پبلیکیشن، ماس کمیونیکیشن کی فیلڈ میں پورے ساؤتھ ایشیا کے اندر وجہ شہرت بنیں۔

ہم سکول آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز کو صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ پورے ایشیا کا سب سے بہترین سکول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ جب ہمارے طالب علم عملی میدان میں جائیں تو خود پر فخر کریں۔

اس کے علاوہ ریسرچ اینڈ ٹرینگ ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے تاکہ ٹرینگ اینڈ ریسرچ پر فوکس کیا جا سکے ۔اس کے لئے ہم نے ریسرچ ایسوسی ایٹس تیار کئے ہیں جو سینئرپروفیسرز کی نگرانی میں کام کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ ہم ٹریننگ بھی دیں گے کیونکہ میڈیا کے اندر پروفیشنل گروتھ کی بہت کمی ہے۔ پروفیشنلز کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ دو دو سال کی ڈگری کریں۔ ایم فل یا پی ایچ ڈی کرنے جائیں۔

س: ٹرینگ کی کیا نوعیت ہو گی کچھ وضاحت کریں؟

ج: ایک طرف ہم میڈیا سکالرز پیدا کریں گے اور دوسری طرف میڈیا پروفیشنلز ٹرینڈ کریں گے۔ میڈیا پروفیشنلز کو شارٹ ٹرم ٹریننگ دی جائے گی۔ شارٹ ٹرم ڈپلومہ کورسز اور سرٹیفکیٹ آفر کریں گے جیسے ایڈنگ، کاپی ایڈیٹنگ ،پروف ریڈنگ، کیمرہ رپورٹنگ، آن لائن جرنلزم، ڈیجیٹل جرنلزم، ڈیٹا جرنلزم اس کے علاوہ پروڈکشن، اینکرنگ وغیرہ۔ جوکسی شعبے کی خواہش رکھتے ہوں گے ان کی ٹریننگ کا اہتمام کریں گے۔ انہیں یو سی پیباقاعدہ سرٹیفکیٹ اور ڈپلومہ جاری کرے گی ۔ مناسب فیس کے عوض ہم انہیں ٹاپ کلاس پروفیشنلز کی ٹریننگ دیں گے۔

یہ ٹرینگ کورسز اِن سروس لوگوں کے لئے بھی ہوں گے ، مڈکیرےئر لوگوں کے لئے بھی اور ان نوجوانوں کے لئے بھی جو اس میں آنا چاہتے اور سیکھنا چاہتے ہیں۔ چاہے وہ میڈیا میں ہیں یا نہیں ہیں ہم سب کو مواقع دیں گے۔

ہم میڈیا اینڈ پالیٹکس / میڈیا اینڈ الیکشن پر ایک کورس ڈیزائن کر رہے ہیں ۔ جبکہ اس حوالے سے رپورٹرز کی ٹریننگ کی جا ئے گی کیونکہ میڈیا اور الیکشن کوریج ایک آرٹ ہے۔ یہ سہولت فیلڈ رپورٹر کے لئے ہو گی جبکہ طالب علم اس کورس کو پڑھیں گے ۔

The Univeristy of Arizona

سے ہمارا معاہدہ طے پا گیا۔ جنوری2017ء میں ان کی ٹیم پاکستان آئے گی۔ اور رپورٹر کو ٹرینڈ کیا جائے گا اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ گورنمنٹ لیول پر پنجاب یونیورسٹی اور گجرات یونیورسٹی کو جبکہ پرائیویٹ سیکٹر میں صرف UCP کو مینڈیٹ کیا گیا ہے ۔

س:سکول آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز کے حوالے سے مزید آگاہ کریں گے؟

ج:سکول آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز طلباء کو عملی صحافت کی تربیت فراہم کرنے کے لئے تمام امور کو بروئے کار لا رہا ہے تاکہ عملی میدان میں انہیں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ میڈیا کے اداروں میں کام کرنے کی مکمل تربیت سے ہمکنار ہو سکیں۔ اس مقصد کے لئے ایڈورٹائزنگ، پبلک ریلیشنگ اور پرنٹ، الیکٹرانک و سوشل میڈیا کی حوالے سے ان کی مکمل تربیت کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ’’سکول آف میڈیا کے پلیٹ فارم سے شائع ہونے والا نیوز لیٹر ’’کمیونیکیشن ٹائمز‘ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ طلباء میگزین جرنلزم کے تقاضوں سے کماحقہ آگاہ ہو سکیں۔کمیونیکیشن ٹائمز کی زیادہ تر رپورٹس طلباء نے تیار کی ہیں۔ بشری تقاضوں کے پیش نظر بعض کو تاہیوں کے باوجود یہ ایک مثبت کاوش ہے جس میں ان کی تربیت کا عکس جھلکتا ہے،اس ضمن میں جلد ایک اخبار کا اجراء بھی کیا جارہا ہے جس کی تمام تر تیاری میں طلباء و طالبات کی بھرپورشرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔

س: کیاطلباء کے لئے انٹرن شپ پروگرام لازمی ہوگا؟

ج: طلباء کی تربیت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے میڈیا کے اہم اداروں میں انٹرن شپ کے علاوہ ان ہاؤس انٹرن شپ کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے، جس میں وہ سکرپٹ رائٹنگ، اینکرنگ، ایڈیٹنگ، رپورٹنگ، فوٹو گرافی، ٹکر رائٹنگ، کنٹینٹ ڈویلپمنٹ اور پروگرامنگ کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔

س:آج نیو میڈیا کا دور چل رہا ہے۔ کیا آپ سٹوڈنٹس کو نیو میڈیا ٹرینڈ سے روشناس کروارہے ہیں؟

ج: آپ کوئی بھی علم حاصل کریں۔ آئی ٹی کا استعمال ساتھ ساتھ چلے گا۔ میڈیا بھی آئی ٹی سے منسلک ہے۔ آن لائن جرنلزم ایک سپیشلائز سبجیکٹ بن گیا ہے۔ ڈیجیٹل کیمونیکیشن کورسز آفر کئے جاتے ہیں۔سوشل میڈیاویب سائٹ، ویب ایڈورٹائزنگ، اورانٹر نیٹ کمیونیکیشن ،دراصل ان ٹیکنولوجیز کی وجہ سے میڈیا مکس ہو رہے ہیں۔ اب وہ وقت دور نہیں جب ہاتھ میں پہننے والی گھڑی آپ کا ریڈیو بھی ہوگا، ٹی وی بھی ،ٹیپ ریکارڈ بھی اور ریموٹ کنٹرول بھی۔۔۔ اور یہ سب نیو میڈیا کی بدولت ہے۔

اس کے معاشرے پر کیا اثرات ہوں گے یہ ایک علیحدہ سوال ہے۔ ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے کہ آنے والے وقت میں میڈیا کیا شکل اختیار کرے گا بلکہ سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ اس کے مطابق ہمیں نیا علم دینا پڑے گا۔ اس کی تیاری بھی بہت ضروری ہے اور لوگ اب اس کی تیاری کر رہے ہیں۔

س: جو طالبِ علم نیو میڈیا میں مہارت نہیں رکھے اُن کو جابز میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس پر آپ کیا کہیں گے؟

ج: ایسا نہیں ہے ۔ میڈیا ایک وسیع فیلڈ ہے۔ کئی طرح کے شعبے کام کرتے ہیں ۔ میڈیا ہاؤسز میں آٹی کا شعبہ الگ ہوتا ہے۔ اس لئے ہر وہ بندہ جو کام جانتا ہے اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔

س:میڈیا کے سٹوڈنٹس کا کیا سکوپ ہے کیا ان کو آسانی سے نوکریاں مل جائیں گی؟

ج:پچھلے سالوں کی نسبت پاکستانی میڈیا نے بہت ترقی کی ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک دونوں فیلڈ میں۔ کئی نئے چیلنجز اور اخبارات مارکیٹ میں آ گئے ہیں۔ اس وقت میڈیا نارمل حالات میں چل رہا ہے۔ لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ نئے صحافیوں کو نوکریوں کے اتنے مسائل نہیں ہوں گے جتنے آج سے چند سال پہلے تھے۔

س: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایک طالبِ علم کے لئے مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے کریئر کونسلنگ ضروری ہے؟

ج: بہت ضروری ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کریئر کونسلنگ کا تو تصور بھی نہیں پایا جاتا، جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ اسے میٹرک اور انٹر لیول پر لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جانا چاہیے۔

پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ملک کے لئے ایک اثاثے کی حیثیت رکھتے ہیں ان نوجوانوں کی صلاحیتوں کو پورے طور پربروئے کار لا کر ملک کی تقدیربدلی جا سکتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے نوجوان بے سمت بہتے چلے جا رہے ہیں۔ کسی بھی فورم پر انہیں ان کے کیرئیر کے بارے میں آگاہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی جس سے انہیں مستقبل میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق پروفیشن اختیار کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک میں اس امر کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو وہی شعبہ اختیار کرنے کی سہولت دیں جن میں ان کی دلچسپی کا عنصر موجود ہو۔ اس ضرورت کے پیش نظر طلباء و طالبات کی رہنمائی کے لئے سکول آف میڈیا وقتاً فوقتاً کیرئیر کونسلنگ سیمینارز کا اہتمام کرتا ہے تاکہ طلباء کو عملی زندگی میں کسی پریشانی کا سامنانہ کرنا پڑے۔

س: میڈیا کے طالبِ علموں کے لئے کیا سکوپ ہیں؟

ج:میڈیا کے طالب علموں کے لئے کامیابیوں کا ایک وسیع میدان موجود ہے۔ انہیں خود کو محدود نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے لئے اخبارات ’’نیوز چینلز‘‘ نیوز ایجنسیز، مارکیٹنگ، ایڈورٹائزنگ، سوشل میڈیا اور بیشمار ادارے موجود ہیں جہاں وہ اپنی صلاحتیوں کے جوہر دکھا کر نام پیدا کر سکتے ہیں لیکن اس کے لئے انہیں زیادہ سے زیادہ مہارت حاصل کرنے اور محنت کی ضرورت ہے ۔

میڈیا آج کل ڈیپارٹمنٹل سٹور کی مانند ہے جسے زیادہ کام آتے ہیں اوہ اپنی جگہ آسانی سے بنالیتا ہے اس لئے طلباء و طالبات کو چاہیے کہ وہ ہر قسم کی مہارت حاصل کرنے کی سعی کریں تاکہ ان کے لئے بہتر امکانات میں اضافہ ہو سکے۔ طلباء میں اس شعبے کی مشکلات برداشت کرنے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے انہیں چاہیے کہ وہ اپنا کورس ختم ہونے کا انتظار کئے بغیر ہی فارغ اوقات میں عملی میدان میں قدم رکھ دیں۔

س: کہا جاتا ہے کی اردو زبان میں اتنی وسعت نہیں کہ جدید علوم کو اُس میں ٹرانسلیٹ کیا جاسکے ،ماہر ابلاغیات کی حیثیت سے آپ کیا کہیں گے؟

ج:یہ نعرہ ان لوگوں کا ہے جو اس حوالے سے کوئی کام نہیں کرنا چاہتے ۔ اس کام کے حوالے سے نہ تو سنجیدہ تھے اور نہ ہی مخلص۔

زبانیں اپنے چلن کے اعتبار سے فروغ پاتی ہیں۔ ہم نے اردو زبان کا مذاق خود بنایا ہے ۔ جان بوجھ کرانگریزی کے اردو میں مشکل ترجمے کئے گئے تاکہ لوگ کہیں کہ اس سے انگریزی ہی بہتر ہے جبکہ اردو زبان کی خوبی یہ ہے کہ یہ دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہاں آپ یہ کہہ سکتی ہیں کہ کچھ مضامین ایسے ہیں کہ جنہیں انگریزی میں پڑھانے میں سہولت ہے اور اس کی چند وجوہات ہیں۔

آپ سپین کی مثال لیں جو مسلمانوں کے علوم کا مرکز تھا، جہاں عربی زبان میں کتابیں اور لائبریریاں تھیں۔ جب وہاں غیر مسلمانوں نے قبضہ کیا تو انہوں نے سب سے پہلے عربی زبان سیکھی تاکہ وہ ان کتابوں سے استفادہ کر سکیں، اس علم سے استفادہ کر سکیں جو عربی زبان میں تھا۔ لیکن انہوں نے عربی زبان بولی نہیں اسے اوڑھنا بچھونا نہیں بنایا۔ اپنے مقصد کے لئے زبان سیکھی علم حاصل کیا اور ٹرانسلیٹ کر لیا لہٰذا انگریزی سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ دل مشرقی ہونا چاہے زبان مشرقی ہونی چاہیے۔ علوم آپ جس مرضی زبان میں پڑھیں اور سیکھیں۔لیکن یہ کہنا کہ اُردو زبان ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے یا نئے زمانے کا ساتھ نہیں دے سکتی سراسر غلط ہے۔ہم یہ کیوں نہیں مان لیتے کہ ہم نے 69 سالوں سے اُردو زبان کی ترویج و ترقی اورتحقیق پر کوئی کام نہیں کیا۔

س: یو ۔سی ۔پیucp) ( میں قومی و بین الاقوامی سطح کے سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کروانے کے حوالے سے آپ کا کیا ویژن ہے؟

ج: قومی و بین الاقوامی سطح کی کانفرنسوں اور سیمینارز منعقد کروانے کا مقصد یہی ہے کہ ہمارے طلبہ و طالبات ، ماہرینِ تعلیم ، میڈیا ایکسپرٹس اور پروفیشنلز مختلف ممالک سے آنے والے طلبہ و طالبات ، ماہرینِ تعلیم ، میڈیا ایکسپرٹس اور پروفیشنلز کے ساتھ ملاقات کریں ۔ آپس میں بات چیت ہو گی تو سوچ میں فرق آئے گا۔ ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر جو ابلاغیات کے ادارے میں ان سے رابطہ بحال ہوسکے۔ ان رابطوں کو طلبہ و طالبات اور اساتذہ کی بہتری کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہاں سے طلبہ و طالبات پڑھنے کے لئے جائیں۔اس طرح کے رابطوں سے نہ صرف علمی بلکہ سماجی و ثقافتی اعتبار سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔ ہم سکول آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز کوانٹرنیشنل آؤٹ لک دینا چاہتے ہیں۔

س: آپ اپنے اندر کی لیڈرشپ خوبیوں کو کیسے دیکھتے ہیں ؟

ج:میرا لیڈر بننے کا شوق اس طرح کا ہے کہ بہتری کے کام کئے جائیں۔ مجھے خوشی ہوتی ہے کہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کروں۔ اس کی مثال میں یہ دوں گا کہ جب میں پنجاب یونیورسٹی میں ڈائریکٹر تھا تو میری پوری کوشش تھی کہ ایک ینگ لیڈرشپ تیار کی جائے جو مل کر شعبے کی بہتری کے لئے کام کریں تاکہ جب آپ ادارے سے رخصت ہوں تو بہتر اور قابل لوگ آگے آئیں۔آج پنجاب یونیورسٹی میں انسٹیٹیوٹ آف کیمونیکیشن کو جو لوگ چلا رہے ہیں وہ میرے پی ایچ ڈی کروائے ہوئے ہیں۔ باقی یونیورسٹیوں میں بھی آپ دیکھیں گے کہ پڑھے لکھے لوگوں کی ایک ٹیم ہے۔ جو کام کر رہی ہے تو جہاں آپ جاتے ہیں وہاں آپ کنگ میکنگ کا کام کرتے ہیں۔ اس لئے ادارے میں اپنے سٹاف کی ٹرینگ کریں انہیں کام کرنے کے مواقع دیں تاکہ اُن کے اندر ایک ٹیم ورک پیدا ہو۔

س: آپ نے گورنمنٹ سیکٹر میں بھی کا کیا اور پرائیویٹ سیکٹر میں بھی۔۔۔ کیا فرق ہے دونوں میں؟

ج:دونوں سیکٹرز کی طاقت بھی ہے اور کمزوریاں بھی ۔ میرے جیسے آزاد منش لوگوں کو صرف اپنے کام سے غرض ہوتی ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ جنہوں نے کام نہیں کرنا انہوں نے کہیں بھی نہیں کرنا چاہے۔ آپ ان کو گورنمنٹ سیکٹر میں بٹھا دیں یا پرائیویٹ میں اور جس نے کام کرنا ہے وہ ہر جگہ فٹ ہو جاتا ہے اور اپنے کام کے راستے بھی نکالتاہے۔ پبلک سیکٹر ہو یا پرائیویٹ دونوں جگہ میں آپ کو مشکلات کا سامنا تو کرنا پڑتا ہے۔

پرائیویٹ سیکٹر میں نوعیت مختلف ہے۔لیکن یہ سب ہمارے لئے چیلنج ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔ ساری چیزیں ہماری خواہشات کے مطابق نہ ہوتی ہیں نہ ہوں گی لہٰذا ہمیں اپنی خواہشات کو کہیں نہ کہیں قربان کرنا پڑتا ہے کہ ضروری نہیں جو چیز ہم چاہ رہے ہیں ہمارا دوسرا فریق یا مینجمنٹ بھی کلی طور پر اس سے متفق ہو۔ جن باتوں پر آپ اتفاق کروا لیتے ہیں انہیں عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ پرائیویٹ سیکٹر میں مینجمنٹ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر آپ کام کرنے والے کو اچھا ماحول دیں گے، اکیڈمک لیڈرشپ کو کام کرنے کی آزادی دیں گے اور وہ لوگ جن کا یہ شعبہ نہیں ہے ان کی مداخلت کو کم کیا جائے گاتو اس کے اتنے ہی اچھے نتائج ملیں گے اور وہ زیادہ خوش ہو کر جانفشانی سے کام کریں گے۔

کام کرنے والے کے ویژن کو عزت دی جائے، کیونکہ اس کے ویژن کے اندر اس کی نہیں بلکہ ادارے کی فلاح ہے اور اس ادارے کی فلاح اور پروموشن بھی اس کے ویژن کے اندر چھپی ہوئی ہے۔ لہٰذا اس پر اعتماد کیا جائے اورجو بندہ ویژن دے رہا ہے اسے بھی اس ادارے کو اپنا ادارہ سمجھ کر ویژن دینا چاہیے اور اس ادارے کی مینجمنٹ کی چند حدود ہیں اس کا بھی احساس کرنا چاہیے تو اس طرح مل کر وہ مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں جس کے لئے آپ ادارے کو جوائن کرتے ہیں۔

س:کیا آپ میڈیا ایجوکیشن سے مطمئن ہیں؟

ج:مطمئن تو بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ یہ کام ایسا ہے کہ اس پر کبھی اطمینان نہیں آتا اور نہ ہی آنا چاہیے۔ میڈیا ایجوکیشن کی نوعیت ایسی ہے کہ جس میں روزانہ نئے نئے ٹرینڈز آ رہے ہیں اور آئی ٹی کا استعمال بھی اس میں بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور آئی ٹی کا نالج آپ دیکھتے ہیں کہ نیا علم پرانے ختم کر دیتا ہے ۔ تبدیلی اتنی تیزی سے آ رہی ہے کہ ہم اس تبدیلی کا تعاقب نہیں کر سکتے۔ لہٰذا مطمئن ہونے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ جاری عمل کا نام ہے اور جاری رہے گا۔

لیکن کوشش جاری ہے اور بہتر کوشش ہو رہی ہے یونیورسٹیاں انویسمنٹ کر رہی ہیں اور کافی حد تک انہوں نے میڈیا کی ضرورتوں کو پورا کیا ہے۔

س: میڈیا ہاوسز کو شکائت ہے کی یونیورسٹیاں اچھا سٹف (Suff)نہیں دے رہیں ، آپ کی کیا رائے ہے؟

ج: میڈیا میں بیٹھے ہوئے جو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا سٹف نہیں مل رہا وہ اپنی سلیکشن اور معیار کی طرف توجہ نہیں دیتے کہ وہ کس بناء پر کسی بندے کو سلیکٹ کرتے ہیں۔ ہماری تو مجبوری ہے کہ اگر کسی طالب علم نے ا یف ایس سی میں ساڑھے 800 یا 900 نمبر لئے ہیں۔تو ہم نے میرٹ لسٹ لگانی ہوتی ہے جس کا نام آ گیا اس کو داخلے سے نہیں روک سکتے لیکن میڈیا ہاؤسز کی کیا مجبوری ہے کہ وہ معیاری لوگوں کو سلیکٹ نہیں کرتے۔ادارے اپنی سلیکشن کی کمزوریوں کو تسلیم نہیں کرتے اور الزام یونیورسٹیوں پر لگا دیتے ہیں۔

س:میڈیا ہاؤسز میں جابز سلیکشن کے حوالے سے آپ کیا تجاویز دیں؟

ج: اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ انٹرویوز کرنے کے لئے ایسے لوگوں کا ایک گروپ بنایا جائے جو مختلف شعبوں سے متعلق ہوں، جن میں قابلیت اور مہارت ہو اور پروفیشنلز بھی ہوں وہ بچے کا انٹرویو کریں اور پھر اس کی سلیکشن کی جائے۔معیاری لوگوں کو سلیکٹ کریں اور ٹرینڈ کریں ۔

س: کیامیڈیا گریجوایٹس صرف کسی اخبار یا چینل میں ہی کام کر سکتے ہیں یا کسی اور شعبے میں بھی اُن کی ایڈجسٹمنٹ ہو سکتی ہے؟

ج: یہ بہت غور طلب مسئلہ ہے اور اس حوالے سے اقدامات ہونے چاہئیں۔ جب میں پنجاب یونیورسٹی میں تھا تو میں نے اس بارے میں تجویز دی تھی اور ایک مہم بھی چلائی تھی۔ پبلک سروس کمیشن سے جا کر میں نے ملاقات بھی کی تھی کہ آپ ماس کام(Mass Com) کو کالج کی سطح پر انٹر لیول پر بھی بطور مضمون شامل کریں مگر بی اے لیول پر اس کو بڑی مشکل سے شامل کیا گیا ہے۔ وہ بھی کچھ کالجوں میں ہے اور کچھ میں نہیں ہے ۔

ماس کامMass Com)) کا بی اے لیول کا نصاب انٹرلیول پر پڑھا جائے اور ایم اے لیول کا بی اے کی سطح پر شامل ہونا چاہیے۔ کورس کو کلاسیز کے مطابق مختصر کیا جائے۔ جبکہ ایم اے لیول یا بی ایس آرنر پر صرف سپلائزیشن ہونی چاہیے۔ ان اقدامات کا نتیجہ یہ ہوگا کہ میڈیا کے وہ طالب علم جو الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا میں نہیں جا سکتے یا کسی بھی وجہ سے نہیں جانا چاہتے وہ کالجوں میں بطور لیکچرار ایڈجسٹ ہو جائیں گے۔

سارے کالجوں میں اتنی سیٹیں نکلیں گی کہ ہم ڈیمانڈ پوری نہیں کر سکیں گے۔ اس کے لئے تعلیم سے وابستہ لوگ جیسے سیکرٹری ایجوکیشن، وزیر تعلیم کوچاہیے وہ ما س کام کے لیکچرار کی سیٹیں نکالیں۔

کالجوں کے پرنسپلز اور پالیسی سازوں کو آگے آنا چاہیے، کیا وجہ ہے کی میڈیا ایجوکیشن کو کالجوں کی سطح پر نہیں لایا جا رہا۔ اس وقت میڈیا اپنے عروج پر ہے۔

س: جعلی یونیورسٹیوں کا سلسلہ کیوں پھیلا اور کیسے رُکے گا؟

ج: یہ ماضی کی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ آج کی ہائر ایجوکیشن کمیشن الرٹ ہے اور آج کی پرائیویٹ دنیا بھی الرٹ ہے۔ اس لئے صورتِ حال بہتری کی طرف جارہی ہے۔

س: یہ میڈیا کا دور ہے ، تو پھیر میڈیا یونیورسٹی کا قیام کیوں عمل میں نہیں لایا گیا؟

ج: میڈیا یونیورسٹی کا تصور سب سے پہلے میں نے ہی پیش کیا تھا۔میری ایک پریذٹینشن (Presentation) بھی ہے جو کہ میں نے میڈیا یونیورسٹی کے حوالے سے دی تھی کہ زمانہ اتنا آگے چلا گیا ہے کہ کوئی ایک شعبہ میڈیا کی مختلف 9قسم کے کمیونیکیشن علم کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا، لہٰذا ایک میڈیا یونیورسٹی بنائی جائے اور اس کے خدوخال میں نے بڑی تفصیل کے ساتھ واضح کئے تھے ۔اس کی سی ڈی بھی موجود ہے۔ مگر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ۔

س: آپ طبقاتی تعلیمی نظام کو کیسے دیکھتے ہیں؟

ج: اس نظام نے کشمکش کو پیدا کیا ہے۔ اے لیول، او لیول ایجوکیشن کا نظام تو جاگیرداروں اور صنعت کاروں کے بچوں کے لئے رائج کیا گیا تھا کیونکہ ان کے بچوں کو یہاں پڑھنا نہیں تھا اور نہ ہی رہنا تھا اور اگر وہ اے او لیول نہ کرتے تو باہر جا کر نہیں پڑھ سکتے تھے اس لئے یہ نظام وجود میں آیا۔ کلاس سسٹم ہم خود پیدا کر رہے ہیں یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ادارے یک رنگ ہوں۔

س:فاصلاتی نظامِ تعلیم کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟

ج:میں اس کے حق میں نہیں۔ اس میں کئی خرابیاں ہیں۔ اصلاحات کی ضرورت ہے۔ مانیٹرنگ سسٹم ہونا چاہیے۔

س: ہماری اور انٹر نیشنل میڈیا انڈسٹری میں کیا فرق ہے ؟

ج: اس کا جواب تو کافی طویل ہے بہرحال میں مختصراََ بیان کروں گا ۔یہ فرق ہم تین حوالوں سے دیکھتے ہیں:

1: میڈیا کا سائز 2: میڈیا کی کوالٹی 3: میڈیا میں کام کرنے والے بندوں کی فریڈم۔۔۔ ان حوالوں سے اسے دیکھا جا سکتا ہے۔

اگر ہم ٹیکنالوجی کے حوالے سے دیکھیں تو ان کے پاس ہم سے زیادہ ایڈوانس ٹیکنالوجی ہے۔ دوسرا اگر ان کے پاس پیسہ ہے تو ان کے رپورٹر ساری دنیا میں موجود ہیں ان کے بیوروز بھی۔ وہ اِسے افورڈ کر سکتے ہیں۔ ہم نہیں کر سکتے۔ ان کے پاس خبریں اکٹھے کرنے کے ذرائع بھی ہم سے زیادہ ہیں۔

اس کے بعد فریڈم کی بات آتی ہے تو ان کا میڈیا بہت ذمہ دار ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارے میڈیا کو آزادی حاصل نہیں ہے جبکہ ہمیں شائد ضرورت سے زیادہ آزادی ملی ہوئی ہے۔ ہم اپنے قومی مفاد کو آزادی کی نذر کرنے جا رہے ہیں اور وہ آزادی کے نرغے کے اندر اپنے نیشنل انٹرسٹ کو بچاتے ہیں۔ اُن کا میڈیا اپنے قومی مفاد کے منافی کوئی کام نہیں کرتا اور یہاں یہ حال ہے کہ قلعے کے دروازے میڈیا کے اندر سے کھلتے ہیں۔

س:آپ سمجھتے ہیں کہ میڈیا قومی مفادات کے خلاف کام کرہا ہے؟

ج: میں سب کی بات نہیں کررہا لیکن چند ایک میڈیا عناصر ایسے ہیں جو اپنے ٹریک سے ہٹ گئے ہیں ۔ ایسے عناصر کے لئے میں یہی کہوں گا کہ میڈیا ہاؤ سز کو ہمیشہ غیر جابندار ہونا چاہیے۔ قومی مفاد کے منافی کوئی خبر نہ پرنٹ ہو اور نہ نشر کی جائے اور نہ ہی ایسا کوئی پروگرام چلایا جائے۔

ایک صحافی یا صحافتی ادارے کے لئے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ جو وہ اپنے قلم سے لکھنے جارہاہے یا دکھانے لگا ہے اس کے سماجی و اخلاقی اثرات کیا ہوں گے۔ جعلی خبریں اور حقائق سے چشم پوشی میڈیا کا المیہ ہے اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔

س:ایک تجزیہ نگار کی حیثیت سے آپ ملک کی سیاسی صورتِ حال پر کیا کہیں گے ؟

ج: اس ملک کا ہم ہر کچھ قرض ہے ہم آج جو بھی ہیں ہماری جو بھی پہچان ہے سب اس مملکتِ خدا داد کی وجہ سے ہے لہٰذا قومی مفاد ہر صورت مقدم ہونا چاہیے۔ کرپشن کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

سیاسی حکومت نیب کو ایک خود مختار ادارہ بنائے بلکہ انہیں اجازت دے کہ وہ کسی بھی شخص یاادارے کے خلاف شکایت پر کارروائی کریں پاکستانی عوام کو بھی یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ نہ خود کرپشن کرے گی نہ کرپشن کی حمایت کرے گی ہم کرپشن کے خلاف بولتے تو ہیں لیکن جب کسی کرپٹ شخص پہ نیب یا کوئی اور ادارہ ہاتھ ڈالتا ہے تو اس کے حق میں کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ اداروں کے کام کرنے کے انداز میں بھی ترتیب ہونی چاہیے ۔

س: کیا آپ سمجھتے ہیں ہماری خارجہ پالیسی درست سمت میں نہیں؟

ج:یہ مفروضہ درست نہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی درست نہیں جا رہی دنیا کے حالات تبدیل ہونے پہ دوست اور دشمن بدل جاتے ہیں اس لئے خارجہ پالیسی میں ہمیشہ تسلسل نہیں رہ سکتا۔ اکنامک کوریڈور کامیاب خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔

س: سرآپ کا بہت شکریہ آپ نے مجھے اپنے قیمتی وقت میں انٹرویو کا موقع دیا۔ آخری سوال کرنا چاہوں گی، طلبہ وطالبات کے لئے آپ کیا پیغام دیں گے؟

ج:تعلیم کے حصول کے لئے کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ صرف اور صرف محنت ہی آپ کو کامیابی کی ضمانت فراہم کر سکتی ہے۔یہ مقابلے کا دور ہے۔ وقت قدر کرنا سیکھیں۔ محنت سب سے اہم ہے ۔مشکلات کے سامنے ہتھیار نہ ڈالیں۔ ہر کمزوری اور ہر کمی کا علاج محنت ہے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -