اِناللّہ پڑھنے کا وقت ابھی نہیں آیا

اِناللّہ پڑھنے کا وقت ابھی نہیں آیا
 اِناللّہ پڑھنے کا وقت ابھی نہیں آیا

  

عمران خان نے دھرنا ختم کر کے برا کیا۔ ایک عام تاثر یہ پھیلایا جارہا ہے۔ کیا برا کیا؟ یہ بتانے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔ ایک نتیجہ بہر حال یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ لوگ تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ ملکی حالات میں تبدیلی، سماجی تبدیلی، ان کے روز مرہ کے امور میں تبدیلی، غرض ایسی تبدیلی جو پاکستان کو ان ملکوں کی صف میں کھڑا کر دے جہاں عوام کو فوری اور سستا انصاف دستیاب ہوتا ہے، جہاں مملکت عوام کی فلاح و بہبود کی پابند ہوتی ہے، جہاں عوام کو زندگی گزارنے کی تمام بنیادی سہولتیں میسر ہوتی ہیں۔ عمران خان اس ملک میں ایسی سیاسی قوت بن کر ابھر ے ہیں جو مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے لئے ایک چیلنج بن گئی ہے۔ 2013 ء کے انتخابات میں تحریک انصاف نے جو کامیابی حاصل کی، وہ ان کی کامیابی اور عام لوگوں کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ اور کیوں نہ ہو، پیپلز پارٹی کے ادوار ہوں یا مسلم لیگ کے دور حکمرانی، عام لوگوں کو بنیادی سہولتوں کی نایابی کی شکایت ہی رہی ہے۔ دونوں سیاسی جماعتوں نے مخصوص طبقوں اور حلقوں کے لوگوں کو ہی نوازا ہے۔ اس کے بعد پلیٹ میں جو کچھ بچ گیا، اسے عوام کے سامنے پھینک دیا گیا۔ دونوں کا طرز حکمرانی فرانس، چین یا روس میں انقلابات سے قبل جیسا ہی محسوس کیا گیا۔ بادشاہت، جس کا ذکر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب انور ظہیر جمالی نے کیا، طرز حکمرانی بہتر کرنے کا مشورہ فوج کے کمانڈروں نے بھی دیا۔ غرض کوئی تو کمی ہے جسے سب ہی محسوس کرتے ہیں اور برملا اظہار کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں عمران خان کا حکومت کو بار بار چیلنج کرنا اور لوگوں کا ان کی بات پر کان دھرنا ، اپنی جگہ معنی رکھتا ہے۔ کبھی ضروری نہیں ہوتا کہ دس لاکھ لوگ ہی کسی دھرنے میں شریک ہوں۔ یمن، مصر یا لیبیا میں تو چند لوگوں نے ہی ابتدا کی تھی اور لاکھوں افرادکارواں میں شامل ہو گئے تھے۔ جنہوں نے مضبوط تریں حکمرانوں کو اٹھا کر پھینک دیا تھا۔

پاکستان میں سیاست میں یہ رواج عام ہے ۔ لوگوں کو یہ ذہن نشیں کرا دیا گیا ہے کہ حکمرانوں کو صرف ہنگاموں اور دھرنوں کے بعد ہی فار غ کیا جا سکتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ انتخابات میں بار بار دھاندلیوں نے اعتبار ختم کر دیا ہے۔حکومتوں کی غیر سنجیدگی اور نا اہلی کے سبب رہا سہا بھرم بھی جاتا رہا ہے۔ لوگوں کا مزاج بن گیا ہے کہ انہیں تبدیلی آ ج اور ابھی چاہئے اور خود کچھ کئے بغیر چاہئے ۔ کیوں نہیں، ان لوگوں کی ستائش کی جائے جو دھرنے میں شریک ہونے پہنچے۔ ممکن ہے انہوں نے سوچا ہو کہ اس دھرنے کی وجہ سے حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔ پولس کی لاٹھیاں کھائیں، آ نسو گیس کی تکالیف برداشت کیں۔ سفر کی صعوبتیں جھیلیں۔ ٹی وی پر بیٹھے ہوئے خاموش تماشائیوں سے تو یہی لوگ بہت بہتر رہے۔ سیاسی تبدیلی تو شا ئد بڑے دھرنوں سے آجاتی ہے لیکن سماجی تبدیلیاں آنے میں وقت لیتی ہیں۔ ان کے لئے پورے معاشرے کو زور لگانا پڑتا ہے۔ پاکستان میں ایسی سماجی تبدیلی کی اشد ضرورت ہے، جس میں حکمران طبقہ بدعنوانیوں سے بے داغ ہو۔ وسائل اور مسائل سب کے لئے ایک جیسے ہوں۔ وسائل کی تقسیم میں صوبہ خیبر پختونخوا کے کوہستان سے صوبہ سندھ کے ننگر پارکر تک لوگوں میں یکساں ہوں۔ مواقع ایک جیسے ہوں۔ یہ نہ ہو کہ ملک کے وزیر اعظم اور اراکین پارلیمنٹ کا علاج تو بیرون ملک قومی خزانے سے ہو اور ایک عام کسان، ہاری یا مزارع اپنے علاج کے لئے ترستا ہی رہے اور مر جائے۔ لوگ اسی لئے تبدیلی چاہتے ہیں۔

عوام توحالات سے اتنے بے زار ہو گئے ہیں کہ انہیں شیخ رشید کی بھاگ دوڑ بھی بھلی لگتی ہے اور وہ ’’بلے بلے‘‘ کہتے ہیں۔ شیخ کی مقبولیت ایک ہی دن میں کہیں سے کہیں پہنچ گئی تھی۔ ان کی بھاگ دوڑ کو اس طبقے نے زیادہ ہی سراہا ہے جو نچلے اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ یہی لوگسوشل میڈیا پر ہوتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس طبقے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی مطمئن کرے جن کی کوئی نہیں سنتا۔ لیکن ایسا اب تک ممکن نہیں ہو سکا۔ کہاں گیا انتخابی اصلاحات کا معاملہ، 2014 کے دھرنوں کے بعد کیا ہوا تھا۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ وہ صرف عوام کو مطمئن کرنے کے لئے اعلان کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم نے اپنے سمدھی اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی تھی ، جو عوام کو مطلوبہ اصلاحات کی تجاویز تیار کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ حکمران طبقہ سمجھتا ہے کہ اگر عوام کے لئے مطلوبہ اصلاحات نافذ کر دی گئیں تو انہیں خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ رشتہ داروں، احباب، خوشامدیوں کو کھپانا ممکن نہیں ہوگا۔

سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے معاملے میں جو فیصلہ دیا، گھنٹوں میں جواب طلب کئے۔ فریقین کو ٹی او آر جمع کرانے کی ہدایت کی اور یہ بھی کہہ دیا کہ اختلاف کی صورت میں عدالت خود ٹی او آر بنائے گی۔ سپریم کورٹ کے حکم کے نتیجے میں عمران خان نے دھرنے کو ختم کرنے کا اعلان کیا ، یہ سب ہی کچھ بہتر ہوا۔ دہشت گردی کے سبب ملک کی معاشی صورت حال اتنی اطمینان بخش نہیں ہے جتنا ذکر کیا جاتا ہے۔ کسی ملک کی معاشی ترقی کا فوری اندازہ اس ملک کے عوام الناس کی حالت دیکھ کر ہی کیا جاتا ہے۔ کیا پاکستان کے عام لوگوں کی حالت دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ اس ملک کی معاشی صورت حال بہتر ہے۔ ہاں ایک محدود طبقے کی حالت بہتر ہے بلکہ بہت بہتر ہے۔ اسی طبقے کو تو احتساب کے کٹہرے میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ابتداء وزیر اعظم سے ہو رہی ہے۔ پاناما لیکس وجہ ابتدا بنی ہے۔ کیوں نہیں پوچھا جائے کہ بیرونِ ملک اثاثے کہاں سے اور کیسے بنائے گئے ہیں۔ ٹھیک ہے کہ پیسے تو آپ کے ہی ہوں گے لیکن کیا ان پیسوں پر ٹیکس ادا کیا گیاتھا؟اس سوال کا جواب چاہئے۔ ٹیکس کی عدم ادائیگی تو دنیا بھر میں معیوب اور قابل گرفت ہے سوائے پاکستان اور اس جیسے ملکوں کے جہاں جمہوریت جمہور کے لئے نہیں خواص کے لئے تصور کی جاتی ہے۔

ابھی بات وہاں نہیں پہنچی، جہاں انا للّہ وانا الیہ راجعون پڑھا جائے۔ جیسا تبصرہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کچھ کھو جاتا ہے تو یہ پڑھتے ہیں۔ ان کے خیال میں عمران خان کے دھرنا ختم کرنے کے اعلان پر ان کے پاس تبصرے کے لئے اس سے بہتر الفاظ نہیں تھے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پانامہ لیکس کا معاملہ کہیں کھو گیا ۔ سپریم کورٹ کی کارروائی کی روشنی میں یہ تبصرہ قبل از وقت ہے۔ جہاں اتنا انتظار کیا، وہاں تھوڑا انتظار اور سہی۔ ورنہ سڑک اور دھرنے کا فاصلہ کچھ زیادہ تو نہیں ۔

مزید :

کالم -