سونامی تو نہیں تھا، جلسہ ہو گیا،عمران اب بس کریں!

سونامی تو نہیں تھا، جلسہ ہو گیا،عمران اب بس کریں!
 سونامی تو نہیں تھا، جلسہ ہو گیا،عمران اب بس کریں!

  

یہ بحث کہ جلسے میں کتنے لوگ تھے ختم نہیں ہو سکتی کہ جلسے والے بڑھا چڑھا کر بتائیں گے اور مخالف اس سے کہیں کم کی اطلاع دیں گے، چنانچہ پریڈ گراؤنڈ میں تحریک انصاف کے جلسے کے حوالے سے بھی یہی کچھ ہو رہا ہے، بہرحال ایک بات تو محل نظر ہے کہ و ہاں دس لاکھ لوگ آ گئے تھے کہ کپتان نے جشن کی خوشخبری دیتے وقت بھی دس لاکھ ہی کا اعلان کیا تھا ،جیسا کہ وہ پہلے کہتے چلے آئے تھے کہ دو نومبر کو دس لاکھ افراد سے اسلام آباد کو بند اور حکومت کو مفلوج کر دیا جائے گا،لیکن ایسا نہ ہو سکا اور خود عمران خان سمیت قریباً تمام قیادت بنی گالہ میں کپتان کی رہائش پر جمع ہو گئی۔پنجاب سے اعجاز چودھری، شفقت محمود، چودھری محمد سرور اور عبدالعلیم خان بنی گالہ میں تھے تو کراچی سے عارف علوی اور عمران اسماعیل بھی وہیں آ گئے۔ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین نے بھی کپتان کو اکیلا چھوڑنا گوارا نہ کیا۔ یوں یہ سب خانے خالی تھے اور ان کے بعد کارکنوں کو لانے اور واپس پہنچانے والے بھی نہیں تھے ایسے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد کس نے کیسے پہنچنا تھا، اس کے باوجود بنی گالہ تک کارکنوں کی ایک تعداد تو پہنچ ہی گئی،لیکن یہ تعداد اتنی زیادہ نہ تھی کہ پولیس کو پسپا کر سکتی جیسا کہ عمران اعلان کرتے چلے آئے تھے اور انسپکٹر جنرل پولیس سمیت سب کو دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔

فرزندِ راولپنڈی شیخ رشید بات کرنے کے اہل ہیں انہوں نے28اکتوبر کی بات کو نہیں بھلایا اور پریڈ گراؤنڈ کے جلسے میں اس کی کسر اپنی تقریر میں نکال دی،انہوں نے کہا مَیں نے عمران سے کہا ’’باہر آؤ، کہ ہمارے فیصلے گھروں میں نہیں، سڑکوں پر ہوتے ہیں۔ مَیں عمران خان کو کامیاب کرا کے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے والا تھا، افسوس کہ عمران نہیں آئے ، یوں کسی مبصر یا تجزیہ کار نے نہیں،عمران خان کے مشیر اول شیخ رشید ہی نے یہ اطلاع دی اور خود اپنا تجزیہ بیان کر دیا، اور عمران کو بھرے مجمع میں جتا دیا ’’مَیں تو باہر تھا اور آنکھ مچولی کھیل رہا تھا،تم باہر نہیں نکلے‘‘۔

اِس سلسلے میں ہمیں بہت سے واقعات یاد ہیں جب پولیس کی بھاری نفری جمعیت کی موجودگی اور مظاہرین پر آنسو گیس کے استعمال کے باوجود قیادت فرار نہیں ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی تحریک جاری تھی، مراکز مساجدہوا کرتی تھیں۔ لاہور میں مرکزی جلوس کے لئے نیلا گنبد کی جامع مسجد مختص کی گئی تھی اور سارے احتجاجی جلوس یہاں سے نکلتے تھے، پولیس کی جمعیت، آنسو گیس اور لاٹھی چارج بھی راستے میں حائل نہ ہوتا تھا، کہ قیادت اچانک نمودار ہو کر جلوس کے آگے آ کر مارچ شروع کرا دیتی تھی۔ ہمیں وہ دن اچھی طرح یاد ہے، جب نیلا گنبد سے جلوس نکلا، ائر مارشل (ر)اصغر خان، نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا طفیل محمد اور دیگر رہنما قیادت کرتے ہوئے فیصل چوک کی طرف روانہ ہوئے، ہائی کورٹ کے باہر سٹیٹ بنک والے کونے پر پیپلزپارٹی کے وکلا چھڑیوں پر آلو لٹکائے مظاہرہ کر رہے تھے۔ عارف اقبال حسین بھٹی ایڈووکیٹ کی قیادت تھی اور آلو خان، آلو خان کے نعرے بلند کئے جا ہے تھے۔ جلوس کے قائدین نے ان کو نظر انداز کیا اور آگے بڑھ گئے، ریگل چوک میں پولیس نے روکا، قائدین نہ رکے تو پولیس نے آنسو گیس کا حربہ استعمال کیا، ہم نے دیکھا کہ یہ قائدین پولیس کی نفری اور آنسو گیس کے دھوئیں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بڑھتے چلے گئے اور پولیس کو ہی پسپا ہونا پڑا تھا اور پھر انہی رہنماؤں کی مسلسل جدوجہد نے ان کے لئے اس تحریک کو کامیاب کرا دیا۔

اِسی طرح ایوبی دور میں یونیورسٹی آرڈیننس کے خلاف طلبا بھی سڑکوں پر تھے اور ذوالفقار علی بھٹو بھی میدان میں آ چکے تھے۔ ابتدا میں ان کو گرفتار کر لیا گیا تو ائر مارشل (ر) اصغر خان میدان میں کود پڑے۔انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری کی مذمت کی اور احتجاجی جلوس کی بھی قیادت کی۔ یہ حضرات ہر جلوس میں سب سے آگے ہوتے تھے، اپنی رہائش گاہوں میں بیٹھ کر کارکنوں کی پٹائی کا نظارہ نہیں کرتے تھے۔ یہ فرق تو بہرحال ظاہر ہو ہی گیا ہے۔

اس واقعہ کا زیر تحریر موضوع سے ویسا تو تعلق نہیں،لیکن تفنن طبع کے لئے بیان کر دیتے ہیں۔ ایوب کے دور میں پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس میاں بشیر تھے۔ دبنگ آدمی اور بہادر بھی تھے اور جلسوں کی نگرانی بھی خود کرتے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس مال روڈ سے جلوس نکلا، طلبا نعرے لگا رہے تھے، تعداد بھی زیادہ تھی، میاں بشیر اور پولیس کی نفری آگے آگے تھی، جی پی او چوک تک آئے تو آئی جی بہادر نے جلوس کے شرکاء کو منتشرہونے کی اپیل کی۔ چوک سے ذرا پہلے سڑک کی تقسیم کے لئے چھوٹے پلر نصب تھے۔ میاں بشیر ان پر کھڑے ہو گئے اور طلباء سے مخاطب ہو کر ان کی تعریف کی اور کہا یہ سب اچھے بچے ہیں، اب ان کا احتجاج ہو گیا یہ گھر جائیں گے، اس عرصے میں کسی طالب علم نے انگلی سے نازیبا حرکت کر دی تو میاں بشیر پلٹ کر بے ساختہ بولے ’’اِدھر ایک ۔۔۔ کا بچہ بھی ہے‘‘۔

ایسا تو بہت ہوتا رہتا تھا۔ بات جلسہ میں شرکا کی تعداد کی تھی تو ہم اسے بھگت بھی چکے اور مینارِ پاکستان پر بے نظیر بھٹو کے جلسے کی وجہ سے شرمندہ بھی ہوئے تھے۔ زیادہ تکرار کی ضرورت نہیں، کوئی صحافی ہمت کرے اور پریڈ گراؤنڈ کا رقبہ ماپ لے، جہاں شرکا جمع تھے اس کے چاروں طرف کی پیمائش کر کے اس کا جذر نکال لیں، یعنی کونے ماپ کر ضرب دے لیں پھر اسے مربع فٹ بنا لیں، فی کس ایک مربع فٹ جگہ الاٹ کر دیں جو تعداد بنے وہ بتا دیں سب واضح ہو جائے گا۔ بہرحال کپتان کا دس لاکھ والا سونامی تو آیا نہیں، اب وہ اپنے وعدے کے مطابق اسے آخری جلسہ قرار دے دیں اور عوام کو مزید پریشان نہ کریں کہ پریڈ گراؤنڈ کے باوجود زیرو پوائنٹ سے فیض آباد اور ایکسپریس وے پر بُری طرح ٹریفک جام رہی تھی جن لوگوں کو مشکل پیش آئی وہ تو کلمہ خیر نہیں کہیں گے۔

مزید :

کالم -