عمران خان کا احتجاج ختم۔۔۔ لیکن بعد از خرابئ بسیار

عمران خان کا احتجاج ختم۔۔۔ لیکن بعد از خرابئ بسیار
عمران خان کا احتجاج ختم۔۔۔ لیکن بعد از خرابئ بسیار

  

عمران خان جو 2 نومبر کو اسلام آباد کو ’’لاک ڈاؤن‘‘ کرنے چلے تھے۔اس کی جگہ اُنہوں نے یوم تشکر منایا جو اس جگہ منایا گیا، جہاں انہیں پہلے ہی جلسہ کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ اس فیصلے کی اہل نظر کئی تعبیریں کریں گے۔ کیوں ہوا، کیسے ہوا، کس کے کہنے پر ہوا، کس اندیشے سے ایسا ہوا؟ یہ سب سوالات تو ہیں،لیکن ان کے جوابات رفتہ رفتہ خود بخود سامنے آجائیں گے۔ ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ عمران خان نے وہی کیا جو حکومت چاہتی تھی۔ حکومت بہت پہلے سے کمیشن قائم کرنے کے لئے تیار تھی۔ حکومت نے تحریک انصاف، اس کی شامل باجا جماعت اسلامی اور یک نفری جماعت کے واحد اور اکلوتے سربراہ شیخ رشید کے سپریم کورٹ میں جانے کا بھی خیر مقدم کیا تھا۔ حکومت ہی نے سپریم کورٹ کے اختیار سماعت کا سوال نہ اٹھا کر معاملے کو طول دینے سے اجتناب کیا، وگرنہ اختیار سماعت کے مسئلے پر خاصا وقت نکالا جا سکتا تھا۔ تحریک انصاف جس تلاشی کا شور مچا رہی تھی، حکومت بہت پہلے اس کے لئے آمادگی ظاہر کر چکی تھی، لیکن اس میں ایک سخن گسترانہ بات اٹکی ہوئی تھی۔ ’’لاک ڈاؤن‘‘ کو ختم کرنے کے فیصلے میں عمران خان نے جہاں دیگر بہت سی باتوں کا اظہار کر دیا، وہاں یہ بھی کہہ دیا کہ حکومت کہتی ہے: ’’جہانگیر ترین نے بھی کرپشن کی ہے۔ نعیم الحق نے بھی کی ہے، میں کہتا ہوں پہلے تم تلاشی دو، پھر دوسری بات کرو‘‘۔ گویا وہی پھڈا ہے جو ٹی او آر میں بھی نمایاں رہا کہ احتساب ہونا چاہئے لیکن صرف نوازشریف کا، ساری جماعتیں اپنے اپنے کرپشن گردوں کو بچانا چاہتی ہیں اور دوسروں کی کرپشن کو اچھالنا چاہتی ہیں۔ سچی بات ہے کسی کو کسی کرپشن پر سزا دلانے میں کوئی دل چسپی ہے، نہ کرپشن کے خاتمے سے غرض،بات صرف اتنی ہے کہ دوسرے کو بدنام کر کے اپنے نمبر بڑھائے جائیں۔

ایک عجیب بات ہے کہ ایک امریکی تحقیق کار نے کوئی دو ہفتے پہلے ایک آرٹیکل میں یہ انکشاف کیا تھا کہ امریکی جاسوسی ادارے اور ان کے تعاون یافتہ میڈیا کے جغادری امریکی حکومت کے ایما پر تیسری دنیا، ترقی پذیر ممالک میں کرپشن کا پراپیگنڈہ کر کے۔۔۔ Change of Regime ۔۔۔کے لئے راہ ہموارکر رہے ہیں۔ جس کے پیچھے طرح طرح کے مقاصد ہوتے ہیں۔ آرٹیکل میں وینس سوٹیلا (ونزویلا) میں اس قسم کی جاری کوششوں اور دوسرے کئی ملکوں میں ایسی ہی کوششوں کا ذکر تھا۔ کیا یہ بات باعث حیرت نہیں کہ جہاں بھی کرپشن کے نام پر حکومت تبدیل کی جاتی ہے، وہاں اس سے بڑھ کر کرپٹ حکومت آ جاتی ہے، عوام کس قدر جلد بھول جاتے ہیں کہ سندھ پیپلزپارٹی کے ایک رہنما نے کس دیدہ دلیری سے کہا تھا: ’’اب ہماری باری آئی ہے، ہمیں بھی کرپشن کرنے کا حق ہے‘‘۔ جن ملکوں میں کرپشن کے الزامات پر حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں، وہاں کرپشن کے خاتمے کے لئے کبھی کوئی موثر قانون سازی نہیں ہوئی۔ اگر عمران خان نے یہی کرنا تھا تو یہ بہت پہلے ہو سکتا تھا یا کم از کم جب سپریم کورٹ نے سماعت شروع کر دی تھی، اس کے بعد لاک ڈاؤن کی کال دینے کا کیا جواز تھا؟ بہت سے حلقوں کا خیال تھا کہ اب عمران خان شاید اس بے مقصد مشق سے باز آ جائیں، لیکن ایسا نہ ہوا۔ اب عمران خان اوران کے حامی کہیں گے کہ ہم نے اپنے مقاصد حاصل کر لئے ہیں، میں بھی یہی کہتا ہوں کہ مقاصد تو حاصل کر لئے گئے ہیں۔

2 نومبر کے لاک ڈاؤن ڈرامے کی فل ڈریس ریہرسل 30 اکتوبر سے شروع ہو گئی، پہلے روز ہی ملک کو 235 ارب روپے کے نقصان کا جھٹکا لگا۔ بعد میں کسی نے اعداد و شمار شاید پیش نہیں کئے یا میری نظر سے نہیں گزرے،لیکن پہلے دن کے نقصانات پر قیاس کیا جا سکتا ہے کہ کے پی کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے جس طرح چڑھائی کی، اس کی تصویر تو سب نے دیکھی، جو کچھ اس نے کہا وہ بھی سنا گیا۔ کیا پرویز خٹک اور الطاف حسین کی باتوں میں کوئی فرق ہے، بس ذرا چھلکا مختلف تھا۔ الطاف حسین کے الفاظ اور تھے۔ پرویز خٹک کے الفاظ اور تھے، مقصد مطلب اور للکار و یلغار ایک تھی۔ الطاف حسین محض ایک جماعت کے سربراہ ہیں، وہ باغیانہ تقریر میں زبانی قیادت کر رہے تھے۔ پرویز خٹک ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں، خود کو محب وطن کہنے والی جماعت کے عہدیدار ہیں، لیکن وہ وفاق کو للکار رہے تھے اور زبانی للکار کے ساتھ ساتھ سربکف شمشیر بدست لڑاکا دستے کی قیادت بھی فرما رہے تھے۔عمران خان نے پرویز خٹک کو بجا طور پر ہیرو قرار دیا ہے۔ ہیرو تو انہوں نے علی امین گنڈا پور کو بھی قرار دیا ہے، جنہیں ایک بار کرپشن پر وزارت سے فارغ کر کے دوبارہ دھو دھا کر وزارت دے دی گئی۔ جماعت اسلامی جو تحریک انصاف کا دم چھلہ بن کر عمران خان کے پیچھے تالی بجانے کا فرض ادا کرنے کے لئے رہ گئی ہے، اس کے امیر کرپشن کے خلاف ریلیاں نکالتے ہیں اور امیر محترم بڑے گرم بیان دیتے ہیں۔ گرمی پیدا کرنے کے لئے ڈی جے بٹ کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں، انہیں علی امین کی کرپشن اور ان کی کلیننگ پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اسلام آبادکو لاک ڈاؤن کئے بغیر مودی کو خاصا ریلیف دے دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے ایک رہنما نے جب یہ کہا کہ ’’ہم پر ایسا ظلم ہو رہا ہے، جیسا کشمیر میں کشمیریوں پر بھارتی حکومت بھی نہیں کررہی‘‘۔ اس سے نریندر مودی اور کشمیر میں ظلم ڈھانے والی بھارتی فوج ہی کو تو ریلیف دیا گیا ہے۔ گویا وہاں تو کچھ نہیں ہو رہا، اصل ظلم تو پاکستان کے اندر ہو رہا ہے۔ اپنے نتائج اور عواقب کے لحاظ سے یہ ببان سرل المیڈا کی خبر کا ہم پلہ ہے۔ عمران خان کی پھیلائی ہوئی افراتفری یوں بھی بھارت کے حق میں جاتی تھی ہمارے بہادر فوجی روزانہ کنٹرول لائن پر اپنی جانیں قربان کررہے ہیں اور ہم ہیں کہ پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے، اعلیٰ عدالتوں کے ہوتے ہوئے اپنے دارالحکومت کو لاک ڈاؤن کرنے پر تلے ہوئے ہیں، پھر سب سے بڑھ کر اور سب سے بڑے ہمدرد بھی ہم بنتے ہیں۔ گویا:

وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب اُلٹا

آج کل عمران خان نے پھر پرویزمشرف کی محبت میں بے تاب ہو کران کی صفائیاں پیش کرنا شروع کردی ہیں۔ عمران خان نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کے دور میں سانحہ ماڈل ٹاؤن نہیں ہوا تھا۔ بڑی وزنی دلیل ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن پرویزمشرف کے دور میں نہیں ہوا تھا، لیکن کیا عمران خان کو 12مئی یاد نہیں۔ لال مسجد میں کیا ہوا تھا، وہ بھی ذہن سے محو ہو گیاکراچی میں وکلا جس طرح زندہ جلائے گئے وہ بھی بھول گئے یاد رہا تو سانحہ ماڈل ٹاؤن۔ باقی سانحات میں انسان نہیں مرے تھے کیا؟ چیف جسٹس کے ساتھ کیا ہوا اور سڑکوں پر انہیں کس طرح بالوں سے پکڑ کر رسوا کیا گیا۔ عمران خان کی یادداشت کمزور ہے یا پرویزمشرف کی محبت اتنی شہ زور ہے جو سب کچھ بھلا دیتی ہے۔ لگتا ہے اس معاملے میں عمران خان پرویزمشرف کے فرمائے ہوئے کو بھی نظر اندازکرسکتے ہیں۔ پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں خود گواہی دی ہے کہ ا نہوں نے ڈالر لے کر پاکستانی لوگ پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کئے (امریکیوں کے اعتراض پر یہ کتاب دوسرے ایڈیشن سے نکال دی گئی) گوانتا نامو بے کی خلیج میں قائم جیل میں اکثر قیدی پرویز مشرف کے فروخت کئے ہوئے ہیں، اس لئے ان کے خلاف امریکہ کو کوئی ثبوت بھی نہیں ملے، لیکن ان کے عوض ڈالر دئیے گئے ہیں، انہیں یوں ہی کیسے چھوڑ دیا جائے۔ یہ باہر نکل کر امریکہ کے تشدد کی داستانیں بھی سنائیں گے اور ہر جانہ بھی طلب کریں گے۔کیا ہی اچھا ہو کر پاناماکی آف شور کمپنیوں کے سلسلے میں کمیشن قائم ہو تو ایک اور کمیشن بھی قائم ہو جو یہ اندازہ لگائے کہ اس سارے ہنگامے سے ملک کو کیا فائدہ یا کیا نقصان پہنچا اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ صرف مالی نقصان ہی نہیں، سیاسی اور اخلاقی نقصان کا اندازہ بھی لگا نا ضروری ہے۔ زہر میں ڈوبے ہوئے بیانات سے جسد وطن اور قومی روح پر جو خراشیں آئی ہیں، ان کا بھی حساب ہونا چاہیے۔

مزید :

کالم -