موصل: عراقی فوج کے داعش کے 5ٹھکانوں پر حملے، 150جگجو ہلاک

موصل: عراقی فوج کے داعش کے 5ٹھکانوں پر حملے، 150جگجو ہلاک

  

موصل(این این آئی)موصل سے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کروانے کے لیے پیش قدمی کرنے والی عراقی افواج مرکزی محاذ پر بغیر کسی جانی نقصان کے دشمن کی ابتدائی صفیں عبور کرنے میں کامیاب رہیں اور شہر کی مکمل آزادی تک اپیش قدمی جاری رکھنے کا عزم ظاہرکیاگیا ہے ، حکومتی افواج شہر کی گلیوں میں گھر گھر لڑائی کے لیے تیار ہیں جبکہ داعش کے پانچ فضائی ٹھکانوں پر حملوں میں150 جنگجو مارے گئے ،ادھرموصل کے مشرقی کنارے پر دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں سے سرکاری ٹی وی کی عمارت کا قبضہ بھی چھڑوالیاگیا،فورسزنے جو مشرق سے موصل میں داخل ہونے کا راستہ فراہم کرنے والے اہم علاقے پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے ، اس علاقے میں دولت اسلامیہ کے ساتھ سخت لڑائی لڑی ہے ادھراقوامِ متحدہ نے ایک مرتبہ پھر موصل میں پھنسے ہوئے دس لاکھ افراد کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں،عراقی فوج کے ترجمان صباح النعمان نے برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اس کارروائی میں دولت اسلامیہ کے 150 جنگجو مارے گئے جبکہ عراقی فوج کو جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا ۔انہوں نے کہاکہ عراق کے شمالی شہر موصل اور نینویٰ کے علاقے میں عراقی فوج اور اتحادی ممالک کے جنگی طیاروں کے فضائی حملوں میں شدت پسند گروپ ’داعش‘ کو غیر معمولی جانی نقصان پہنچایاگیا ہے،انہوں نے کہاکہ گذشتہ روز صوبہ نینویٰ میں داعش کے کئی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے جن میں150سے زاید داعشی جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا ہے۔عراقی فوج اور اتحادیوں نے پانچ مقامات پر داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔اوبروی نینویٰ ہوٹل پر کی گئی بمباری کے نتیجے میں 68 جنگجو ہلاک ہوگئے جب کہ الغابات کے مقام پر دوسرے فضائی حملے میں 29 جنگجو ہلاک اور 25 زخمی ہوگئے ہیں۔ ایک فضائی حملہ داعش کے ’دیوان الجند‘ ہیڈ کواٹر پر کیا گیا جس کے نتیجے میں 10 ہلاک اور 15 جنگجو زخمی ہوئے۔ نینویٰ میں داعش کے ایک اسلحہ ڈپو پرحملے میں17 جنگجو ہلاک اور بھاری مقدار میں گولہ بارود بھی تباہ کردیا گیا ،انہوں نے کہاکہ شہر کی مکمل آزادی تک ان کی پیش قدمی جاری رہے گی۔صباح النعمان کا کہنا تھا کہ حکومتی افواج شہر کی گلیوں میں گھر گھر لڑائی کے لیے تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شدید جھڑپوں کے دوران جس میں موصل کے مشرقی کنارے پر دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں سے سرکاری ٹی وی کی عمارت کا قبضہ چھڑوایا گیا۔

عراقی افواج کو کسی جانی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔جمعرات کو موصل میں دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کا 18واں روز تھا، جس میں کردش پیشمرگاہ اور سنی عرب قبائلیوں سمیت 50 ہزار جوان شامل ہیں۔انسدادِ دہشت گردی سروس کے ترجمان صباح النعمان کا کہنا تھا کہ ہم نے موصل کے مرکزی حصے میں دشمن کی صفوں کو توڑ دیا ہے۔ ہم نے ایک انتہائی اہم علاقہ چھڑوایا ہے جو مشرق سے موصل میں داخل ہونے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ہم نے اس علاقے میں دولت اسلامیہ کے ساتھ سخت لڑائی لڑی ہے اور ہم جلد اسے آزاد کروا سکتے ہیں اور وہ بھی بغیر کسی جانی نقصان کے، دولت اسلامیہ کے بہت سارے ہلاک ہونے والوں کے ساتھ۔انہوں نے کہاکہ عراقی فوج کے مطابق فوجیں جنوب مشرقی علاقے جدیدتالمفتی میں پیش قدمی کر رہی ہیں۔ اس کارروائی میں امریکہ کی سربراہی میں قائم فوجی اتحاد کی زمینی اور فضائی مدد بھی حاصل ہے۔موصل کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کروانے کے لیے منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی اور گذشتہ ہفتے عراقی توپ خانوں نے موصل پر گولہ باری کا آغاز کیا۔ادھراقوامِ متحدہ نے ایک مرتبہ پھر موصل میں پھنسے ہوئے دس لاکھ شہریوں کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں۔موصل سے 70 کلومیٹر دور واقع قصبے دوہک سے کام کرنے والی نارویجن ریفیوجی کونسل کی الولڈ سٹروم کا کہناتھا کہ موصل سے نقل مکانی کرنے والے افراد وہاں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ انھیں شہر سے نکلنے کے لیے محفوظ راستے نہیں دیے جا رہے۔ ہم یہاں ایسے افراد کی میزبانی کی تیاری کر رہے ہیں اور اس کے لیے کیمپ بنا دیے گئے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -