پنجاب میں مسور کی کاشت 70فیصد بارانی اور 30 فیصد آبپاش رقبہ پر کی جاتی ہے:ماہرین

پنجاب میں مسور کی کاشت 70فیصد بارانی اور 30 فیصد آبپاش رقبہ پر کی جاتی ...

  

فیصل آباد (آن لائن)نظامت زرعی اطلاعات پنجاب، کے ترجمان ریسرچ انفارمیشن یونٹ فیصل آباد کے مطابق پنجاب میں مسور کی کاشت 70فیصد بارانی اور 30 فیصد آبپاش رقبہ پر کی جاتی ہے۔ �آبپاش علاقوں میں مسور کی کاشت کا بہترین وقت یکم تا وسط نومبرہے۔ ترجمان کے مطابق مسور کی کاشت کے لئے میرا سے بھاری میرا قسم کی زمین موزوں ہے۔ زمین کی تیاری کیلئے شروع میں ایک مرتبہ مٹی پلٹنے والا ہل ضرور چلائیں اس سے نہ صرف جڑی بوٹیاں تلف ہو جاتی ہیں بلکہ زمین میں وتر بھی محفوظ رہتا ہے۔ کاشت کے وقت 1سے 2 مرتبہ ہل چلا کر سہاگہ دے دیں۔مسور کی فصل کیلئے زمین کی تیاری کے دوران ایک بوری ڈی اے پی یا ایک بوری ٹرپل سپر فاسفیٹ اور آدھی بوری یوریا فی ایکڑ استعمال کریں ۔

کھاد کی ساری مقدار بذریعہ چھٹہ ڈال دیں یا سنگل روکاٹن ڈرل کے ذریعے بیجوں کی لائن کے متوازی 2تا 3 انچ کے فاصلہ پر بذریعہ ڈرل ڈال دیں۔ مسور کی ترقی دادہ اقسام مسور 93 ، نیاب مسور 2002، نیاب مسور 2006 ، پنجاب مسور 2009، مرکز 2009 اور چکوال مسور کاشت کریں۔ پودوں کی مناسب تعداد حاصل کرنے کیلئے 10 تا 12 کلو گرام بیج جبکہ نیاب مسور 2002 کیلئے 12 سے 15 کلو گرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔ مسور کی کاشت ہمیشہ تر وتر میں کریں تاکہ فصل کا اگاؤ بہتر ہو۔ مسور کی کاشت آٹو میٹک ربیع ڈرل یا سنگل رو ڈرل یا پھر ہل کے ساتھ پور باندھ کر بھی بوائی کی جا سکتی ہے۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ 1 فٹ اور پودوں کا درمیانی فاصلہ 2 تا3 انچ رکھیں۔ مسور کی فصل کو زیادہ آبپاشی کی ضرورت نہیں ہوتی اور بارشوں سے ہی فصل پک جاتی ہے۔ اگر بارشیں معمول سے کم ہوں تو پھول نکلنے سے پہلے اور پھلیاں بننے پر پانی ضرور دیں۔ ۔#/s#

مزید :

کامرس -