جا بجا کھدائی اور دھواں چھوڑتی گاڑیاں، فضائی آلودگی میں اضافہ، بیماریاں پھیلنے لگیں

جا بجا کھدائی اور دھواں چھوڑتی گاڑیاں، فضائی آلودگی میں اضافہ، بیماریاں ...

  

لاہور(جاوید اقبال ،بلال چوہدری)صوبائی دارالحکومت میں جاری ترقیاتی منصوبوں سے ہونے والی کھدائی شہریوں کے لئے بیماریو ں کا باعث بننے لگی ہے دوسری طرف دھواں چھوڑتی گاڑیاں اور چنگ چی رکشے سونے پر سہاگہ کا کام کر رہے ہیں ۔دھویں اور شور سے گردوں اور دل کے فیل ہونے کے امراض میں اضافہ ہو گیا ہے اس صورتحال کے باعث شہر لاہور آلودگی پیدا کرنے والی بھٹی میں تبدیل ہو گیا ہے ۔شہر کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو شہر میں764مقامات ایسے ہیں جو آلودگی کے مراکز میں تبدیل ہو چکے ہیں اور یہ ہی وہ علاقے ہیں جن کے قرب و جوار میں بسنے والے لوگوں کی تعداد مختلف امراض میں مبتلا ہو رہی ہے اس پر محکمہ ماحولیات ،ضلعی حکومت اور ترقیاتی اداروں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں ۔یہ انکشافات روزنامہ پاکستان کی طرف سے شہر میں کئے گئے ایک خصوصی سروے کے دوران سامنے آئے ۔اس وقت شہر میں فضائی آلودگی میں اضافہ کا سب سے بڑے مراکز اورنج لائن ٹرین منصوبہ ،راوی کا پل ،لاڑی اڈہ ،شمالی لاہور ،چونگی امر سدھو ،ٹاؤن شپ ،گرین ٹاؤن ،والٹن روڈ ،میو ہسپتال روڈ ،چوک اردو بازار ،رنگ محل ،ریلوے اسٹیشن ،گڑھی شاہو چوک ،مغلپورہ سے دھرم پورہ تک کے علاقے ،جین مندر چوک ،انارکلی ،لکشمی چوک ،بیرون قلعہ گجر سنگھ ،ملتان روڈ ،یتیم خانہ ،سکیم موڑ ،ملتان روڈ ،شاہدرہ روڈ ،فیروز پور روڈ ،مال روڈ ،جی ٹی روڈ ،با غبانپورہ اور اس سے ملحقہ سینکڑوں علاقے ہیں جن کی تعداد محکمہ ماحولیات نے اپنی رپورٹ میں 764بتائی ہے جہاں ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے کھدائی سے گرد و غبار میں 100فیصد اضافہ ہو گیا ہے ۔اور اس کے قرب و جوار میں لوگ گلے کی خرابی ،سانس ،پھیپھڑوں کی سوزش ،آنکھوں کی سوزش اور دل کے امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔دوسرا بڑا مرکز ریلوے اسٹیشن سے لاڑی اڈہ تک ،راوی پل ،شمالی لاہور ،بند روڈ ،کھوکھر روڈ ،پیکو روڈ ،شالیمار لنک روڈ ،بھگت پورہ ،سید پور ،ڈھولنوال ،قینچی ،بیدیاں روڈ کے علاقے ہیں جن کی تعداد رپورٹ میں 364بتائی گئی ہے ۔ان علاقوں میں دھواں چھوڑتی گاڑیاں اور شور مچاتے چنگ چی رکشے ہیں جو ان علاقوں میں بہرے پن ،آنکھوں کی الرجی اور دل کے امراض میں اضافہ کا باعث بن رہے ہیں ۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں کے رہائشیوں جن میں لکشمی چوک ،ہال روڈ ،بیڈن روڈ ،جی پی او چوک ،انارکلی کے رہائشیوں محمد ادریس ،معراج دین ،محمد نعیم ،حیدر علی ،محمد عاطف ،محمد عثمان ،ندیم احمد ،محمد عامر ،ساجد علی ،محمد عدنان ،اور اسد عباس نے کہا کہ حکومت نے دو سال سے اورنج لائن میٹرو ٹرین کی کھدائی کی ہوئی ہے اور اس سے اٹھنے والا گرد و غبار یہاں کے لوگوں کو بیماریوں میں مبتلا کرنے کے ساتھ ساتھ نفسیاتی مریض بھی بنا رہا ہے ۔پورا اورنج لائن منصوبہ پر کھدائی جاری ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ ترقیاتی منصوبے پر دن میں کم از کم دو مرتبہ پانی کا چھڑکاؤ ہونا چاہیے جو کہ نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے پورا شہر آلودگی کی زد میں ہے ۔ مبشر ،نصیب احمد ،عاطف بٹ ،عبد اللہ ،فصیح خان ،راحیل خان ،محمد بلال نے کہا کہ حکومت ترقیاتی ادروں کی نا اہلی کا نوٹس لے ایک طرف جاری ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے آلودگی عذاب بن چکی ہے اور دوسری طرف دھواں چھوڑتی کھٹارا گاڑیاں اور چنگ چی رکشے شہریوں کی زندگیوں کے لئے میٹھا زہر ہیں اور اس صورتحال کے باعث شہری موت کے آہستہ آہستہ قریب ہوتے جا رہے ہیں ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -