سرکاری فنڈز کے باوجود انویسٹی گیشن ونگ مدعی مقدمات بٹورنے لگا

سرکاری فنڈز کے باوجود انویسٹی گیشن ونگ مدعی مقدمات بٹورنے لگا

  

 لاہور(اپنے کرا ئم ر پو رٹر سے) سرکار کی جانب سے فنڈز ملنے کے باوجودپولیس افسران قتل ، اغواء ، ڈ کیتی اور چو ر ی، بد اخلا قی جیسے مقد ما ت میں مدعی سے گا ڑی میں پیٹرول اور موبائل کارڈیا لوڈ سمیت مختلف طریقوں سے پیسے بٹورنے لگے ۔ تفصیلا ت کے مطا بق صو با ئی دا ر الحکومت میں قائم 6ڈویژنوں اقبا ل ٹاؤن ، ما ڈ ل ٹاؤن ، صدر ، کینٹ ، سٹی اور سول لا ئن میں 85تھا نے واقع ہیں، ان تھا نو ں میں آپریشن اور انویسٹی گیشن ونگ موجود ہیں جن کی نفری 30ہزا ر کے قریب ہے ۔کو ئی بھی جر م ہو نے پر آپریشن ونگ موقع پر پہنچتا ہے اور واقعہ کی تحقیقات کر کے اسکی ایف آئی آر در ج کرتا ہے اور مقدمہ در ج ہو نے کے بعد اسے انویسٹی گیشن ونگ د یکھتا ہے۔ انویسٹی گیشن ونگ قتل ، ڈ کیتی ، اغوا ، بدا خلا قی ، چور ی سمیت د یگر مقد ما ت کی تفتیش کر کے ملزم کو گرفتا ر کرتا ہے جس کے لئے ان کو حکومت پنجا ب کی جا نب سے ہر مقد مہ کی تفتیش کے لئے بجٹ فنڈ جا ر ی کیا جا تا ہے جس میں تفتیشی افسرکوصو بہ سے دوسرے صو بہ سمیت شہر سے دوسرے شہرجانے اوراسکے کھا نے پینے ر ہنے کے انتظا ما ت سمیت تما م اخرا جات کے لئے پیسے د ئے جا تے ہیں اوراعلیٰ افسرا ن کی جا نب سے سختی سے ہدا یت کی جا تی ہے کہ مقد مہ مد عی سے پیٹرول سمیت کسی مد میں کسی بھی قسم کی کو ئی رقم نہ لی جا ئے ۔ مگر انویسٹی گیشن ونگ ہر مقد مہ مد عی کو سونے کی چڑیا سمجھتا ہے اوراعلیٰ افسرا ن کی ہدایت کو نظرانداز کر کے اسے پیٹرول ڈلو انے یا گاڑی ٹھیک کروانے، دوسرے شہر جا نے کے لئے گا ڑی کا بندوبست کر نے سمیت ر یڈ پر جا نے کے لئے ایک اہلکا رکی فیس فی کس 5ہزا ر روپے تک مقرر کرتا ہے جبکہ مقدمہ حل ہو نے پر اپنے انعا م کا باقاعد ہ تقاضا کرتا ہے ۔ دوسری جا نب اگر کو ئی مقد مہ مد عی ر یڈ پر جا نے کے لئے فیس ادا نہیں کرتایا کو ئی سفا رش نہیں لا تاتو اس کے ساتھ سوتیلی ما ں والا سلو ک ہو تا ہے اور مقد مہ سالہا سال لٹکتا ر ہتا ہے ۔ ہو می سائیڈ سیل بننے کے بعد قتل جیسے سنگین جرا ئم کی تفتیش ہو می سائیڈ انسپکٹر کرتا ہے لیکن وہا ں پر بھی مقدمہ مد عی خوش نظر نہیں آتے اور شکا یت کرتے ہیں ۔ذرا ئع کاکہنا ہے کہ انویسٹی گیشن ونگ کی پر کشش سیٹوں کو د یکھ کر آپریشن ونگ کے نا قص کا ر کردگی پر معطل ہو نے والے ایس ایچ او ز اور محکمہ کی طر ف سے سزایافتہ افسران نے بھی اپنی پوسٹنگ آپریشن سے انویسٹی گیشن ونگ میں کروالی ہے اور کئی سال سے سیٹوں پر برجما ن ہیں ۔پو لیس حکام کا کہنا ہے کہ انویسٹی گیشن ونگ کو سختی سے ہدا یت کی ہے کہ مقد مہ مد عی کو تنگ نہ کیا جا ئے اور ان سے کو ئی خر چہ نہ لیا جا ئے، جس اہلکار کے خلا ف کو ئی شکا یت آئی تو اس کے خلا ف محکمانہ کا رروا ئی عمل میں لا ئی جا ئے گی ۔ دوسری جا نب انویسٹی یشن گیشن ونگ کے افسرا ن کاکہناتھاکہ سر کا ر کی جا نب سے ملنے والے فنڈز عرصہ چھ ما ہ سے نہیں مل ر ہے ہیں جس کی وجہ سے اپنا مقد مہ فور ی حل کروانے اور ملزما ن کو گرفتا ر کروانے کے لئے مد عی حضرات اپنی گا ڑیو ں پر ر یڈکے لئے لے جا تے ہیں جبکہ رشوت والی با ت میں کو ئی صدا قت نہیں ہے ۔

مزید :

علاقائی -