مکہ مکرمہ پر حملے کی مذموم سازش

مکہ مکرمہ پر حملے کی مذموم سازش
مکہ مکرمہ پر حملے کی مذموم سازش

  

یمن کی سرحد سے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے مقدس ترین مقام امت مسلمہ کے روحانی و دینی مرکز مکہ مکرمہ کی طرف پانچ سو سے زائد کلو میٹر تک مار کرنے والا میزائل فائر کیا، جس سے پاکستان سمیت پوری دنیا میں بسنے والے مسلمانوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حوثی باغی اس سے پہلے 9اکتوبر 2016ء کو بھی لمبی رینج والے میزائل سے طائف کے قریب واقع ایئر بیس کو نشانہ بنانے کی ناپاک جسارت کر چکے ہیں۔ جدہ ایئرپورٹ کو تباہ کرنے کے حوالے سے بھی بعض منصوبہ ساز پکڑے جا چکے ہیں ۔ان واقعات سے لگتا ہے باغی یمن میں جاری کشیدگی ختم کرنے کے لئے جنگ بندی کے لئے کسی سیاسی سمجھوتے کی بجائے سعودی عرب میں ہوائی اڈوں سمیت مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کے درپے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں میزائل حملے کی مکروہ کوشش پوری امت مسلمہ کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔حرمین شریفین جیسے مقدس مقامات کی حفاظتہر مسلمان کا فرض اولین ہے انہیں نقصان پہنچانے کا سوچنے والا بھی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ 19ماہ سے سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری تنازع کیا ہے عالمی طاغوتی قوتیں اس کشیدگی کی آڑ میں کیا اہداف حاصل کرنا چاہتی ہیں؟ مسلم ممالک اور عالمی قیادتوں کو ادراک کرنا ہوگا۔ حرمین شریفین کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لے رکھا ہے۔ ہر مسلمان کا یقین محکم ہے۔ اللہ سعودی عرب میں موجود اور دنیا بھر میں موجود مقامات مقدسہ پر کبھی آنچ نہیں آنے دے گا۔ تاریخ بتاتی ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ جب دجال کی حکمرانی کا پوری دنیا میں ڈنکا بج رہا ہوگا۔دجال جب چاروں اطراف سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے سعودی عرب میں پہنچ جائے گا اس وقت دجالی فتنہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہوگا۔ ایسے ایسے فتنے دنیا میں برپا ہوں گے کہ بطور مسلمان بالعموم اور بطور انسان ان پر یقین کرنا ممکن نظر نہیں آئے گا۔دجال اس وقت بھی اللہ کے نبی ﷺ کی بنائی ہوئی مدینہ منورہ کی حدود سے آگے نہیں بڑھ سکے گا یعنی حرمین شریفین میں داخل نہیں ہو سکے گا مدینہ منورہ کی حدود کے باہر ڈیڑے ڈال دے گا، یہیں سے اس کے زوال کا آغاز ہوگا۔دجالی فتنوں کا تذکرہ قرآن کریم اور احادیث میں بھی متعدد بار آیا ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سب فتنے قیامت کے قریب برپا ہوں گے ان فتنوں کا آغاز کینیا جیسے ملک میں ہوگیا۔وہاں مکہ مکرمہ میں موجود اللہ کے گھر خانہ کعبہ کی طرز پر خانہ کعبہ بنا کر باقاعدہ احرام پہن کر طواف کا آغاز ہو چکا ہے۔ فرمان رسولﷺ ہے قیامت کے قریب جو فتنے برپا ہوں گے ان میں غیر مسلم کم اور مسلمان زیادہ شامل ہوں گے۔ یہ سب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں کینیا میں خانہ کعبہ بنا کر طواف کرنے والے بھی مسلمان ہونے کے دعوے دار ہیں۔ ان فتنوں سے کیسے بچا جائے اس کے حوالے سے بھی نبی مہربان ﷺ نے رہنمائی فرما دی ہے اللہ پر ایمان نبی ء مہربان ﷺ آخری نبی ہیں بطور مسلمان یہ ہماری جان و مال اولاد سب سے افضل ترین ہیں یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ میں موجود رسول پاکﷺ اور دیگر خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کی قبور مبارک کی حفاظت احترام اور اس کے وقارکو قائم رکھنا بھی ایمان کامل کا حصہ ہے۔

حوثی دہشت گردوں کی طرف سے مکہ مکرمہ پر میزائل حملے کو ناکام بنانے پر ہم خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز ولی عہد محمد بن نائف نائب ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی عرب کی افواج کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے مکہ سے 65کلو میٹر دور میزائل کو گرا کر مکہ مکرمہ کی حفاظت کا فریضہ بطریق احسن انجام دیا۔ اللہ سعودی حکمرانوں اور حرمین شریفین کو ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھے۔ سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کے اداروں کو ہمت اور توفیق دے کہ وہ ہمیشہ ارض حرمین شریفین کی سلامتی اور دفاع کے لئے جدوجہد کرتے رہیں یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داری صرف سعودی حکمرانوں کی ہے؟،ہرگز نہیں۔ حرمین شریفین سمیت دنیابھر میں موجود مقامات مقدسہ کی ذمہ داری ہر مسلمان کی ہے، ہر مسلم حکومت کی ہے ہر مسلمان فوج کی ہے اور ہر مسلمان حکمران کی ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ حوثی فوج یا گروہ اس قابل ہے کہ وہ سعودی عرب جیسے ملک کے خلاف لڑائی کا آغاز کر دے اور مسلمانوں کے مقدس ترین مقام خانہ کعبہ پر چڑھائی یا تباہ کرنے کی سازش کرے؟ حوثی فوج کے گھناؤنے فعل پر کوئی یقین کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ یمن میں معروف حوثی باغی یہ جسارت کر سکتے ہیں؟ حرمین شریفین اور سعودی عرب کی حفاظت کیلئے بنائی گئی اتحادی افواج کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ اہل پاکستان کے دل تو حرمین شریفین کے ساتھ دھڑکتے ہیں وزیراعظم پاکستان میاں محمدنوازشریف کے سعودی عرب سے بہترین تعلقات ہیں۔ سعودی عرب میاں نوازشریف فیملی کا محسن بھی ہے۔ میاں برادران کو بھی حق دوستی ادا کرنا ہوگا اور پاک فوج کو بھی لیڈنگ رول ادا کرنا ہوگا ہماری زندگیاں اگر حرمین شریفین اور مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے قربان ہو جائیں اس سے اچھا منافع بخش سودا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔

مکہ مکرمہ پر حوثی حملے کی گونج کم نہیں ہوئی تھی کہ بنگلہ دیش میں ایک مچھیرے ملعون ہندونے خانہ کعبہ کے حوالے سے ایک گستاخانہ پوسٹ لگا کر نیا ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔ نیا فتنہ سامنے آ رہا ہے غیر مسلموں کی سازشیں اسی طرح مختلف فتنوں اور حملوں کی صورت میں سامنے آتی رہیں گی بطور عام مسلمان بطور سپریم لیڈر بطور فوجی کمانڈر بطور اسلامی ملک کے حکمران ہم نے کیا کردار ادا کرنا ہے یہ سوچنے کا وقت آ گیا ہے۔کیونکہ ہر آنے والا دن آگے جا رہا ہے۔ تاریخ رقم ہو رہی ہے ،ہر فرد کا کردار بھی تاریخ کا حصہ بن رہا ہے۔

مزید :

کالم -