این ایف سی کے ورکنگ گروپ سندھ کا جائزہ اجلاس

این ایف سی کے ورکنگ گروپ سندھ کا جائزہ اجلاس

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے ورکنگ گروپ سندھ کا جائزہ اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت کراچی میں ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ کی تاخیر پر چاروں صوبے مشترکہ طور پر وزیر اعظم نواز شریف کو خط لکھیں گے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان این ایف سی ایوارڈ کے اجرا پر مذاکرات شروع ہوسکیں۔ اجلاس میں صوبوں کو تیل و گیس کی رائلٹی اور اشیا پر سیلز ٹیکس کی وصولی کا حق دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ سینیٹر سلیم مانڈو ی والا نے کہا کہ وفاقی حکومت تیل اور گیس پر رائلٹی وصول کررہی ہے تاہم صوبوں کے پاس اس کی کوئی تفصیل نہیں ہے۔ وفاقی حکومت صوبوں کی جانب سے تیل و گیس کی رائلٹی وصول کررہی ہے اور دو فیصد کٹوتی کے بعد صوبوں میں تقسیم کردی جاتی ہے ۔ تیل و گیس پر رائلٹی کی وصولی صوبوں کا حق ہے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد رائلٹی کی وصولی کا اختیار صوبوں کو دیا جائے جب کہ اشیا پر سیلز ٹیکس کی وصولی بھی صوبوں کے حوالے کی جائے۔ وفاقی حکومت صوبوں کے اختیارات اپنے پاس نہیں رکھ سکتی۔نئے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے اختیارات بڑھانے پر بات کی جائے گی۔ ۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ وفاقی حکومت گذشتہ چار سال سے نئے این ایف سی ایوارڈ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر ررہی ہے۔ اس پورے عرصے میں حکومت نے این ایف سی ایوارڈ پر مذاکرات بھی شروع نہیں کیے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسے صوبوں کو ان کے آئینی حقوق دینے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف اس معاملے میں ذاتی مداخلت کریں تاکہ نیا این ایف سی ایوارڈ جلد سے جلد جاری کیا جاسکے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -