نیشنل سیکورٹی اینڈ وار کورس کے وفد کا اسٹیٹ بینک کا دورہ

نیشنل سیکورٹی اینڈ وار کورس کے وفد کا اسٹیٹ بینک کا دورہ

  

کراچی (اکنامک رپورٹر)نیشنل سیکورٹی اینڈ وار کورس 2017کے ایک وفد نے میجر جنرل خالد ضیا کی قیادت میں جمعرات کو اسٹیٹ بینک کا دورہ کیا۔ یہ وفد پاکستان اور 40 دیگر ممالک کے100 سے زائد سینئر فوجی اہلکاروں پر مشتمل تھا جس کا مقصد مرکزی بینک میں کام کے طریقہ کار کے متعلق آگاہی حاصل کرنا تھا۔ یہ کورس نیشنل ڈیفنس یونی ورسٹی اسلام آباد میں منعقد کیا جا رہا ہے۔وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے گورنر اشرف محمود وتھرا نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ ان کے اسٹیٹ بینک کے مطالعاتی دورے سے انہیں پاکستان کے مرکزی بینک میں کام کے طریقہ کار کے متعلق آگاہی حاصل ہو گی اور یہ کہ وہ کس طرح مالی استحکام اور ملک کے عوام کی مجموعی بہتری میں کردار ادا کر رہا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک کے کلیدی خطاب میں کئی موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔ گورنر نے وضاحت کی کہ اپنی روایتی ذمہ داریوں کے علاوہ اسٹیٹ بینک مائیکروفنانس، ایس ایم ای فنانس، اسلامی بینکاری، زرعی مالیات کے ذریعے مالی نظام تک رسائی میں وسعت لانے اور اس کے استعمال کو بڑھانے کے لیے غیر روایتی ترقیاتی فرائض بھی انجام دیتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ تین سال کے دوران اہم اقتصادی اظہاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے جو ملک کی معیشت کے لیے نیک شگون ہے۔گورنر نے یہ بھی کہا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایک اہم اصلاح مالی سال 16 میں آزاد زری پالیسی کمیٹی کی تشکیل ہے، پاکستان جنوبی ایشیا میں یہ اقدام کرنے والا پہلا اہم ملک ہے۔ گورنر نے کہا کہ مالی خدمات تک رسائی بڑھانے کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کی کوششوں سے مالی شمولیت کی قومی حکمتِ عملی (این ایف آئی ایس) پر عملدرآمد پوری رفتار سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے ذیلی ادارے کے طور پر ڈپازٹ پروٹیکشن کارپوریشن کے قیام سے چھوٹے ڈپازٹرز کے مفادات کا بھی تحفظ ہوگا۔ اسٹیٹ بینک کے شعبہ مانیٹری پالیسی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عمر فاروق ثاقب نے زری پالیسی اور اسٹیٹ بینک کی دیگر سرگرمیوں پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔آخر میں، میجر جنرل خالد ضیا نے کورس کے شرکا کو معلومات میں اضافے کا موقع دینے پر گورنر اسٹیٹ بینک کا شکریہ ادا کیا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -