’’ سموگ ‘‘

’’ سموگ ‘‘
’’ سموگ ‘‘

  

ابھی گزرے ہوئے سو برسوں کی بات ہے جب منکرین ہنستے تھے، کہتے تھے، قیامت کے روز ہمارے کرتوت ہمارے سامنے کیسے رکھ دئیے جائیں گے، کتنے بڑے دفتر ہوں گے جن میں یہ سب لکھا ہو گا،ہمارے ہی ہاتھ ہمارے خلاف گواہی کیسے دیں گے ، تمہارا رب یہ کام کیسے کرے گا، جو ایمان تو رکھتے تھے مگر ابھی ان پر علم کسی ثبوت کی صورت میں نہیں اترا تھاوہ خاموش ہوجاتے تھے، اب پوچھا جا سکتا ہے کہ جو کام ایک شخص مارک زکر برگ کر سکتا ہے کہ برس ہابرس پہلے ہماری کہی ہوئی بات ہمارے سامنے لے آئے وہ کام ہم سب کا رب کیوں نہیں کر سکتا، جوکام ایک بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے ہو سکتا ہے کہ کسی بھی شخص کی حاضری لگ جائے، گواہی پڑ جائے، وہی کام قیامت کے روز ہمارے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیاں تمام جہانوں کے رب کے حکم سے کیوں نہیں کر سکتیں۔

میں نے اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے دھوئیں کو دیکھا،پچیسویں پارے میں چوالیسویں سورت کی دسویں، گیارہوں اور بارہویں آیت یاد آ گئی، فرمایا گیا،’ سو اس دن کا انتظار کیجئے کہ آسمان دھواں ظاہر لائے۔ جولوگوں کو ڈھانپ لے۔ ( کہیں گے) اے ہمارے رب، ہم سے یہ عذاب دور کردے بے شک ہم ایمان لانے والے ہیں‘۔ میں جانتا ہوں کہ سورۃ الدخان کی ان آیات کی تشریح میں قیامت برپا ہونے کی طرف اشارہ ہے ، کہنا چاہتا ہوں کہ جب ہم اس مقام پر نہیں پہنچتے کہ اپنے رب کو بغیر کسی اشارے ، بغیر کسی دلیل کے مان لیں، پہچان لیں ، اس سے ڈریں تو پھرہمارے سامنے اشارے ہی آتے ہیں۔

لاہور کوئی مری نہیں بنا کہ آسمان سے بادل زمین پر اترآئے ہوں مگر لاہور والوں کو کئی دنوں سے دھند نما دھویں اور دھویں نما دھند کا سامنا ہے۔ اس سے پہلے قریباً ہر برس ہی دھند چھاتی ہے مگر اس وقت دسمبر شروع ہوچکا ہوتا ہے۔ نومبر کے آغاز کے ساتھ ہی شہر کا دھندلا جانا معمول کی بات نہیں ۔ میں نے موسم کی تبدیلیوں پر تحقیق کرنے والے بہت ساروں سے پوچھا، مجھے بتایا گیا کہ یہ دھند نہیں، یہ تو دھند کے اندر سراسر گندگی ہے، آلودگی ہے جو فیصل آباد ڈویژن سے لے کر لاہور ہی نہیں بلکہ بھارتی پنجاب اور دلی تک پھیلی ہوئی ہے، ہمارا تیزی سے ترقی کرتا ہوا لاہور ایک تحقیق کے مطابق دنیا کے دس بڑے آلودہ شہروں میں سے چوتھے نمبر پر ہے۔ سب سے پہلے چین کا دارالحکومت بیجنگ ہے، دوسرے نمبر پر ایران کا شہر اھواز ، تیسرے پر منگولیا کا اولان بوتار اور ہم چوتھے نمبر پر ہیں۔ہمارے شہر میں گردو غبار کا راج ہے، ہماری فیکٹریاں گیس کی عدم فراہمی کے باعث لکڑی، کوئلہ اور ایسے ہی دوسرے فیول استعمال کرتی ہیں، ہمارے ہاں شہر میں گھومنے والی گاڑیوں کی تعداد پچاس لاکھ تک پہنچ رہی ہے جن کے انجن اور فیول کے معیار کی کوئی قابل اعتماد جانچ پڑتال نہیں ہوتی اور جو سگنل فری سڑکیں بننے کے باوجود ٹریفک جام میں پھنس کر کاربن مونو اکسائیڈ کے طوفان برپا کرتی ہیں۔ یہا ں کبھی کوڑے کرکٹ کو جلایا جاتا تھا مگر ترکی کی کمپنیوں کے آنے کے بعد اب اس میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔ میں نے ماحولیات کے تاحیات پروفیسر محمد نواز سے پوچھا، کراچی میں بھی تو یہی حال ہے مگر وہاں سموگ کیوں نہیں ہوتا، جواب ملا، کراچی میں سمندر سے شہر کی طرف اور شہر سے سمندر کی جانب تیز ہوائیں چلتی ہیں جو اپنے ساتھ تمام فضائی آلودگی اڑا کے لے جاتی ہیں۔ لاہور میں مون سون کے دوران مشرقی اور جنوری سے کوئٹہ کی طرف سے آنے والی مغربی ہوائیں ملتی ہیں مگر اس دوران اکتوبر ، نومبر اور دسمبر میں ہوا ٹھہر جاتی ہے۔ درجہ حرارت تیزی کے ساتھ گرتا ہے تو رات کوٹھنڈی زمین ہوا کو ٹھنڈا اور بھاری کر دیتی ہے، جب دو پہر ہوتی ہے تو سورج کی کرنیں اوپر والی ہوا کو گرم اور ہلکا رکھتی ہیں، ایسے میں سلفر ڈائی اکسائیڈ اور نائٹروجن اکسائیڈ جیسی مضر صحت گیسوں کے ذرات زمین کے بہت پاس ٹھہر جاتے ہیں۔ یہ کوئی بادل یا دھندکی صورت نہیں ہوتی بلکہ یہ فضائی اور ماحولیاتی آلودگی ہوتی ہے، ان خطرناک گیسوں کی وجہ سے ہماری آنکھوں میں سوزش محسوس ہو رہی ہے۔

میں جانتا ہوں کہ تیزی سے ترقی کرتے ہوئے لاہور میں جہاں سڑکیں، عمارتیں اور فلائی اوور تیزی کے ساتھ نمودار ہو رہے ہیں ،جہاں ہماری صنعتوں کو اس وجہ سے گیس نہیں مل پا رہی کہ ہمارے آئین کے مطابق اس پر پنجابیوں کا پہلا حق نہیں ہے ۔ ہمارے شمالی لاہور میں ایسی فیکٹریوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے جو کوئلے ہی نہیں بلکہ ٹائر وں کو فیول کے طور پر استعمال کرتی ہیں، وحید گل اس علاقے سے رکن پنجاب اسمبلی ہیں جہاں گھروں کے صحنوں اور محلوں کی گلیوں میں ایک کالی تہہ ہر وقت موجود رہتی ہے، باورچی خانوں کے برتن اور خواب گاہوں کے بستر سب ہاتھ ، منہ سب کالے کرتے ہیں۔ یہاں پہلی تنقید حکومت پر کی جا سکتی ہے کہ اس کی ترجیحات میں ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا ہی نہیں ہے اور یہ تنقید بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی حکومت پر یہ تنقید کی جائے کہ وہ جرائم پر قابونہیں پا رہی ۔ یقینی طور پر جرائم پر قابو پانا اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا حکومتوں کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے مگر کیا ایسے میں ہم افراد اور شہریوں کو نظر انداز کر دیں جو ماحولیاتی آلودگی پھیلانے کا سنگین جرم کر رہے ہیں اورمسلسل کرتے چلے جا رہے ہیں۔ میں دو، تین برس پہلے بھی تفصیل کے ساتھ لکھ چکا کہ ہمارے شہر سے چڑیاں، توتے، تتلیاں اور جگنو رخصت ہو چکے کہ جس آلودہ فضا میں ہم لاہوری سانس لیتے ہیں اس میں وہ نہیں رہ سکتے، اب اس کی فضاؤں میں چیلیں اور کوے اڑتے ہیں جن کی خوراک ہماری ضلعی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے گندے جوہڑ کی شکل اختیار کرجانے والے دریا اور سیوریج کے کسی نالے کی طرح بہنے والی نہر کنارے چیل گوشت کے نام سے فروخت ہوتی ہے۔ فضائی آلودگی میں ہمارے بعد بھارت کا شہرنیو دلی، سعودی عرب کا ریاض، مصر کا قاہرہ، بنگلہ دیش کا ڈھاکہ، روس کا ماسکو اور میکسیکو کا میکسیکو سٹی بیان کیا جاتا ہے۔ یہ فضائی آلودگی اتنی خطرناک ہے کہ ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ کے مطابق اس نے 2012 میں ستر لاکھ لوگوں کی جان لے لی، ڈھاکہ میں ہر برس پندرہ ہزار لوگوں کوموت گھاٹ اتار دیتی ہے مگر افسوس ہمارے پاس پاکستان اور لاہورمیں ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی مستند اعداد وشمار موجود نہیں ہیں۔

یہ سموگ بچوں، بزرگوں کے ساتھ ساتھ دل اور پھیپھڑوں کے مریضوں کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر اشرف جمال معروف پلمانولوجسٹ ہیں، انہوں نے بتایا کہ ہمارے ہسپتالوں میں چیسٹ انفیکشن کے مریضوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، وہ مشورہ دیتے ہیں کہ بچوں کو سموگ سے بچایا جائے، فیس ماسک پہنے جائیں، گھروں کو بند رکھاجائے، ان کے مطابق سموگ کے دوران ان لوگوں کے لئے خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ان کے ساتھ ساتھ اس موسم میں واک کرنایا ایکسرسائز کرنابھی خطرناک ہوجاتا ہے۔حکومت نے مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس نے وجوہات کو جاننے اور روک تھام کے لئے اقدامات تجویز کرنے سے پہلے فوری طور پر سکولوں میں آوٹ ڈور ایکٹی ویٹیز پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پنجاب حکومت کسی بھی چیلنج کے سامنے آنے پر ردعمل دینے میں بہت مستعد ہے مگر یہ معاملہ ایسا ہے جس پر فوری طور پر قابو پانا ممکن نہیں۔کہا جا رہا ہے کہ بھارت میں توانائی کی ستر فیصد ضروریات کوئلے سے پوری کی جاتی ہیں اور وہاں سے آنے والی ہوائیں اپنے ساتھ یہ آلودگی لے کر آتی ہیں، خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جب ہمارے پنجاب میں بھی کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ کام کرنا شروع کر دیں گے تو اگلے برسوں میں یہ سموگ مزید گہر ی ہوسکتی ہے مگر دوسری طرف یہ وضاحت کی جا رہی ہے کہ ان پلانٹس سے ماحولیاتی آلودگی نہ پھیلے ، اس بارے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔

سموگ کی صورت میں ایک مشکل ، ایک مصیبت ہم نے اپنی کرتوتوں سے اپنے اوپر خود نازل کی ہے، یہ ہمارے ارد گرد بکھر جانے والا دھواں جان لیوا ہے،یہ ایک عذاب ہے اور اسی کی نشاندہی آج سے صدیوں پہلے قرآن پاک میں کر دی گئی تھی، ہم اپنے پروردگار کی نعمتوں کو تو جھٹلاتے ہیں، اس کی نشانیوں کو کب تک تک جھٹلائیں گے؟

مزید :

کالم -