کراچی ،زکریا ایکسپریس جمعہ گوٹھ سٹیشن پر کھڑی فرید ایکسپریس سے جا ٹکرائی ،22افراد جاں بحق ،60زخمی

کراچی ،زکریا ایکسپریس جمعہ گوٹھ سٹیشن پر کھڑی فرید ایکسپریس سے جا ٹکرائی ...

  

کراچی(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک ،اے این این) کراچی کے جمعہ گوٹھ ریلوے اسٹیشن پر دو ٹرینوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 22افراد جاں بحق،60سے زائد زخمی ،جاں بحق ہونے والوں میں ایک ہی گھر کے 4افراد 2 جڑواں بچیاں بھی شامل ،حادثہ جمعہ گوٹھ اسٹیشن پر پیش آیا جہاں پہلے سے کھڑی فرید ایکسپریس کو ملتان سے آنے والی زکریا ایکسپریس نے پیچھے سے ٹکر ماری ،تصادم سے کئی بوگیاں پچک گئیں ، ریسکیو اہلکاروں نے ڈبے کاٹ کر کئی مسافروں کو نکالا ،حادثے کے بعد ریلوے ٹریفک رک گئی ،حادثہ ایک ٹریفک سگنل خراب ہونے کے باعث پیش آیا،صدر اور وزیر عظم سمیت اہم شخصیات کی جانب سے واقعہ پر افسوس کا اظہار،زخمیوں کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت ، خواجہ سعد رفیق کا واقعہ کی آزادانہ تحقیقات کا حکم،کمیٹی قائم ،جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے15لاکھ فی کس اور زخمیوں کیلئے 5لاکھ کے حساب سے امداد کا اعلان۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو کراچی کے علاقے جمعہ گوٹھ میں 2 ٹرینیں آپس میں ٹکرانے سے خواتین اور بچوں سمیت 22افراد جاں بحق اور 60سے زائد زخمی ہو گئے ۔ حادثہ اس وقت پیش آ یا جب فرید ایکسپریس جمعہ گوٹھ کے ریلوے اسٹیشن پر کھڑی تھی کہ ملتان سے آنے والی زکریا ایکسپریس نے پیچھے سے ٹکر ماری۔ ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کو جناح اسپتال اور دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ۔ جاں بحق ہونے والے افراد میں فرید ایکسپریس کا گارڈ محمد حسین بھی شامل ہے جب کہ ڈرائیور محمد رفیق کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔حاثے میں 18افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے جبکہ 4افراد نے ہسپتال پہنچ کر دم توڑا۔جناح اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی نے کہا ہے کہ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر کے زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے ۔ اس وقت ہسپتال میں 18 لاشیں اور 60سے زائدزخمی لائے گئے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں ۔انھوں نے بتایا کہ زخمیوں سے پانچ کی حالت تشویشناک ہے۔جب کہ ذرائع جناح اسپتال کا کہنا ہے کہ 30 کے قریب زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ہسپتال میں موجود زخمیوں کا کہنا تھا کہ ہولناک حادثے میں متعدد افراد سامان اور ملبے تلے دب گئے۔ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر کلیم کے مطابق تاحال 13 میتیں لواحقین کے حوالے کردیں گئیں ہیں، 2 خواتین کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی۔جاں بحق ہونے والوں میں ایک ہی گھر کے 4 افراد شامل میں جس میں 5 سال 2 جڑواں بچیاں سکینہ اور زارا بھی شامل، دونوں بہنوں کے والدین بھی حادثے میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔بوگی کے ملبے سے ایک بچی کی لاش نکالی گئی ۔ٹرین حادثے کے زخمیوں میں 11 بچے بھی شامل ہیں،ترجمان پاک بحریہ کا کہنا ہے کہ پاک بحریہ کی امدادی ٹیمیں ٹرین حادثے کی جگہ پر پہنچ گئیں،امدادی ٹیموں میں پاک بحریہ کی ایمبولینسز، میڈیکل اور ریسکیو ٹیم شامل ہے۔ڈی سی ریلوے کے مطابق ریسکیو اہلکاروں نے ریلوے کا ایک ٹریک بحال کردیا گیا ہے، جبکہ حکام کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کا حکم جاری کردیا گیا ہے۔دوسری طرفی وفاقی وزیر ریلوے نے ٹرین حادثے کی تحقیقات کے لئے فیڈرل انسپکٹر آف ریلویز کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے جوکل سے اپنی کارروائی شروع کرے گی۔وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق نے کہا کہ تحقیقات کی روشنی میں ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، حادثے میں جاں بحق ہونیوالے افراد کے خاندانوں کو دس، 15 لاکھ جبکہ زخمیوں کو پانچ، پانچ لاکھ روپے مالی امداد دی جائے گی۔خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ جاں بحق اور زخمیوں کے عزیزوں کو اسپتالوں تک جانے کیلیے فری ریل ٹکٹ دیا جائے گا۔ سعد رفیق نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ زکریا ایکسپریس کے ڈرائیور اور اسسٹنٹ کی غلطی سے پیش آیا،ذمہ داران کو نہیں چھوڑیں گے۔ڈی سی او کراچی ریلوے ناصر عزیز کا کہنا ہے کہ فرید ایکسپریس سگنل پر کھڑی تھی کہ پیچھے سے آنے والی زکریا ایکسپریس نے اسے ٹکر ماری حادثے کے لئے انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے گی، غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈی سی او کراچی ریلوے کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد کراچی سے اندرون ملک جانے اور اندرون ملک سے کراچی آنے والی ٹرینوں کی آمدورفت کو روک دیا گیا ہے اور متاثرہ بوگیوں کو پٹری سے ہٹانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ حادثے کے نتیجے میں ٹرین کی 3 بوگیاں اور انجن بری برح متاثر ہوئی ہیں جب کہ واقعہ کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔تصادم سے کئی بوگیاں پچک گئیں ، ریسکیو نے ڈبے کاٹ کر کئی مسافروں کو نکالا ۔ آرمی کی ریسکیو ٹیموں نے بھی مسافروں کو ریسکیو کیا ، زخمیوں کو جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا ، عباسی اور سول ہسپتال میں بھی ایمرجنسی نافذ ہے ۔صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم نواز شریف نے حادثے میں انسانی جانوں کے نقصان پر افسوس اور متاثرہ خاندانوں سے گہری ہمدری کا اظہار کیا ہے ۔نواز شریف نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -