صدر ہیلری کلنٹن بنیں گی یاڈونلڈ ٹرمپ ،فیصلہ’’جامنی ریاستوں ‘‘کے ہاتھ آ گیا

صدر ہیلری کلنٹن بنیں گی یاڈونلڈ ٹرمپ ،فیصلہ’’جامنی ریاستوں ‘‘کے ہاتھ آ ...

  

واشنگٹن (اظہر زمان،بینا گوئندی) امریکی صدارت کیلئے بالواسطہ انتخابات میں ’’جامنی‘‘ درمیان میں جھولنے والی یا ’’میدان جنگ‘‘ بننے والی چند ریاستیں ہمیشہ سے اہم رہی تھیں، لیکن جب دو جماعتی مقابلے کے کھلاڑی ایک دوسرے کے قریب پہنچ جائیں تو ان ریاستوں کے الیکٹورل ووٹ فیصلہ کن حیثیت اختیار کرلیتے ہیں۔ اس برس 8 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں بھی یہ صورت حال پیدا ہوچکی ہے جہاں ڈیمو کریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن کے مقابلے پر ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ ان کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ اس طرح ان میں سے کون صدر بنے گا، یہ فیصلہ ’’جامنی‘‘ ریاستوں کے ہاتھ میں آگیا ہے۔ امریکہ کی پچاس ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی میں 8 نومبر کو عام ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرکے دراصل الیکٹورل کالج کے ان ریاستوں کے لئے مخصوص ارکان کا چناؤ کریں گے۔ اس طرح پورے ملک سے الیکٹورل کالج کے 538 ارکان کا چناؤ ہوگا جن کی سادہ اکثریت یعنی کم از کم 270 ارکان کو حاصل کرنے والا امیدوار فاتح قرار دے دیا جائے گا۔ Real/Clear Politics ایک ایسا معتبر اور غیر جانبدار ادارہ ہے جو تمام ریاستوں کا جائزہ لینے کے بعد امیدواروں کو ملنے والے ممکنہ الیکٹورل ووٹوں کی تعداد نشر کرتا رہتا ہے۔ اس ادارے کے تازہ ترین تخمینے کے مطابق ہیلری کلنٹن کے 247 اور ڈونلڈ ٹرمپ کے 180 ووٹ یقینی ہوچکے ہیں۔ اب کون سا امیدوار 270 ارکان کا ٹارگٹ حاصل کرتا ہے۔ اس کا فیصلہ درمیان میں لٹکی ہوئی ’’جامنی ریاستوں‘‘ کے جھکاؤ پر ہے۔ ہر ریاست کی آبادی کے لحاظ سے اس ریاست کو الیکٹورل کالج کے ارکان کی تعداد الاٹ کی جاتی ہے۔ کسی بھی ریاست میں جس امیدوار کو عام ووٹوں کی سادہ اکثریت حاصل ہوتی ہے، اسے اس ریاست کے تمام الیکٹورل ووٹ مل جاتے ہیں۔ صرف دو ریاستوں مین (Maine) اور نیبراسکا میں ایسا نہیں ہوتا وہاں عام ووٹوں کے تناسب سے الیکٹورل ووٹ تقسیم ہو جاتے ہیں۔ سرخ ریاستوں میں عموماً ری پبلکن پارٹی اور نیلی ریاستوں میں عموماً ڈیمو کریٹک پارٹی کی جیت ہوتی ہے۔ جامنی ریاستیں کسی طرف بھی جاسکتی ہیں، جن کے الیکٹورل ووٹ حاصل کرنے کیلئے اس وقت دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان آخری راؤنڈ ہوچکا ہے۔ اس وقت کہا جاسکتا ہے کہ پانچ ریاستیں فلوریڈا، نارتھ کیرولینا، اری زونا، اوہائیو اور ورجینیا جامنی ریاستیں ہیں۔ فلوریڈا کے الیکٹورل ووٹ 29 ہیں جو گزشتہ انتخابات میں ڈیمو کریٹک پارٹی کو ملے تھے۔ اوہائیو کے الیکٹورل ووٹ 18 ہیں وہ بھی گزشتہ انتخابات میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار نے حاصل کئے تھے۔ اری زونا کے الیکٹورل ووٹ 11 ہیں جو گزشتہ انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کو ملے تھے۔ نارتھ کیرولینا کے الیکٹورل ووٹ 15 ہیں جہاں ری پبلکن پارٹی نے معمولی اکثریت لے کر تمام ووٹ حاصل کرلئے تھے۔ ورجینیا کے الیکٹورل ووٹ 13 ہیں جو روایتی طور پر کبھی ری پبلکن ہوتی تھی اور پھر جامنی ریاست بن گئی، لیکن گزشتہ انتخابات میں صدر اوباما نے یہاں سے اکثریت حاصل کرکے تمام 13 الیکٹورل ووٹ لے لئے تھے۔ اسی طرح ان پانچ ریاستوں کے کل 86 ووٹ انتخابات کا اصل فیصلہ کرسکتے ہیں، کیونکہ عموماً سرخ اور نیلی ریاستوں میں اپ سیٹ نہیں ہوتا۔

آئندہ انتخابات کے جائزوں میں دونوں امیدوار اتنے قریب کیوں آگئے ہیں، اس پر مبصرین اور ماہرین اپنی اپنی تاویلیں پیش کر رہے ہیں۔ ان کے خیال میں اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ دونوں امیدوار ’’غیر مقبول‘‘ ہیں۔ ایک طرف اہم ری پبلکن لیڈروں نے ٹرمپ کی توثیق سے انکار کر دیا۔ دوسری طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ ڈیمو کریٹک پارٹی کی صدارتی ٹکٹ کے اہم امیدوار برنی سینڈرس کے حامیوں کی تقریباً آدھی تعداد ہیلری کلنٹن کو ووٹ دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ نیویارک ٹائمز اور سی بی ایس نیوز نے جو پبلک سروے کئے ہیں، ان کے نتائج کے مطابق ووٹروں کی زیادہ تر تعداد کو دونوں امیدواروں پر اعتماد نہیں ہے۔ بلاشبہ ایک کثیر تعداد ہیلری کلنٹن کے مزاج کی معترف ہے، جو سمجھتی ہے کہ وہ ایک اچھا صدر ثابت ہوسکتی ہے جبکہ ایسے ووٹروں کی بھی کمی نہیں ہے جن کے خیال میں ٹرمپ واشنگٹن میں ’’حقیقی تبدیلی‘‘ لے کر آسکتا ہے۔

اس وقت 91 فیصد لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت پر جوا لگا رہے ہیں۔ ’’پیڈی پاور پالیٹکس‘‘ نے رپورٹ دی ہے کہ یہ رجحان گزشتہ 48 گھنٹے میں دیکھنے میں آیا ہے۔ بک میکرز نے ہیلری کلنٹن پر جوا لگانے والے افرادکو اپنی رقم واپس لینے کا ایک موقع بھی فراہم کیا ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق ابھی سخت مقابلہ جاری ہے۔ دونوں امیدواروں کی انتخابی مہم کا اس وقت سارا زور ’’درمیان میں جھولنے والی‘‘ ریاستوں کا پر ہے۔ ’’نیو انگلینڈ‘‘ کی ریاستوں میں سے نیو ہیمشائر ایسی ہی ایک ریاست ہے جہاں اس کے تازہ جائزے کے مطابق ہیلری کلنٹن کی برتری ختم ہوگئی ہے۔ جہاں اس کی لیڈ پندرہ پوائنٹ سے مسلسل کم ہو رہی تھی۔ تازہ سروے میں بتایا گیا ہے کہ اس ریاست میں ہیلری کی 39 فیصد کے مقابلے پر ٹرمپ کی حمایت 40 فیصد ہوگئی ہے۔

آخری راؤنڈ میں اس وقت دونوں امیدوار فلوریڈا اور نارتھ کیرولینا کی ’’جامنی‘‘ ریاستوں میں کام کرکے انہیں جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دوران ٹرمپ کی بیوی ملینیا پنسلوینیا کی بڑی ریاست میں مہم چلا رہی ہیں۔ ٹرمپ نے ٹی وی پر اپنے اشتہارات کا بجٹ آخری ہفتے میں بڑھا دیا ہے، جس میں وہ خواتین کے بارے میں اپنے ریمارکس سے خراب ہونے والے اپنے ریکارڈ کو درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہیلری کلنٹن اپنے اشتہارات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کمزوریوں کو اجاگر کر رہی ہیں، جن میں خواتین، اقلیتوں اور معذور لوگوں کے بارے میں ٹرمپ کے منفی ریمارکس شامل ہیں۔ اس دوران ٹرمپ کی انتخابی مہم کی خاتون مینجر کیلی این کونوے نے ہیلری کا ’’وویمن کارڈ‘‘ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کی حمایت میں اپنے بیانات کے باوجود اسے اوبامہ انتظامیہ کے تحت ناقص ہیلتھ کیئر کے باعث خواتین کو ہونے والے نقصان کو تسلیم کرنا پڑے گا۔

مزید :

صفحہ اول -