لاہور سمیت کئی علاقوں میں زہریلی دھند بدستور موجود ،سکولوں میں چھٹیاں کرنے پر غور

لاہور سمیت کئی علاقوں میں زہریلی دھند بدستور موجود ،سکولوں میں چھٹیاں کرنے ...

  

لاہور )کامرس رپورٹر،خبر نگار،مانیٹرنگ ڈیسک)صوبائی دارالحکومت اور گرد و نواح سمیت پنجاب کے کئی بالائی علاقوں میں گزشتہ روز بھی زہریلی دھند کی چادر تنی رہی جس سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ۔آنکھوں میں چبھن اور سانس لینے میں تکلیف کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات رہیں ۔ بچوں اور معمر افراد سمیت سینکڑوں افراد گلے کے انفکشن کا شکار ہو گئے ۔ سکولوں میں حاضری کی تعداد کم رہی ،مارکیٹیں سرشام ہی ویران ہو گئیں ،سکولوں میں آوٹ ڈور سرگرمیاں مکمل معطل کر دی گئیں۔شام کے بعد حد نگاہ کم رہنے سے شہر میں بھی ٹریفک کا نظام متاثر رہا سڑکوں پر گاڑیوں کی قطاریں لگی رہیں ۔ بیکن ہاؤس سکول تین دن کیلئے بند کر دیئے ۔لوگوں نے شام کے بعد گھروں سے نکلنے سے گریز کیا اور گھروں میں ہی محصور رہے ۔حد نگاہ کم ہو نے کے باعث موٹر وے کے مختلف سیکشنز ہر طرح کی ٹریفک کیلئے شام کے بعد بند کردیئے گئے ۔وزیر اعلی کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی کمیٹی نے ابتدائی رپورٹ پیش کردی جس میں صورت حال کے حوالے سے ابتدائی پلان بھی مرتب کیا گیا ہے دوسری جانب محکمہ موسمیات کے ماہرین نے تحقیقات شروع کر دی ہے کہ سموگ میں کون کون سے کثافتیں ہیں ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق زہریلی آلودگی مزید پانچ دن تک چھائی رہے گی ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز بھی صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں زہریلی آلودگی چھائی رہی جس کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات پیش آئیں لوگوں کو آنکھوں میں شدید چبھن اور سانس لینے میں شدید تکلیف ہوئی ۔ لوگوں کو گھروں میں کمروں میں بھی سموگ محسوس ہوتی رہی ۔لوگ گلے کی انفکشن کا شکار ہو گئے ۔وزیر اعلی کی تشکیل کردہ بیس رکنی خصوصی کمیٹی نے ابتدائی رپورٹ وزیر اعلی کو پیش کر دی جس کے مطابق لاہور سمیت وسطی پنجاب اور مشرقی پنجاب کے کئی علاقے شدید سموگ کی لپیٹ میں ہیں اور یہ سموگ موسمی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہوئی ہے رپورٹ میں صورت حال سے نمٹنے کے لئے ہنگامی پلان بھی مرتب کیا گیا ہے ۔ پلان کے مطابق لوگ سموگ سے بچنے کیلئے ماسک استعمال کریں ، ڈرائیور حضرات اندھیرے میں سفر سے گریز کریں ، کمیٹی میں شامل طبی ماہرین کے مطابق آنکھوں میں چبھن کی صورت میں لوگ تازہ پانی سے آنکھیں دھویں ،معمر افراداور بچے خصوصی احتیاط کریں ۔ محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر محمد حنیف نے خصوصی گفتگو میں بتایاکہ گرد و غبار کی موجودہ صورت حال غیر معمولی ہے ۔اس قسم کی فضائی آلودگی ایشیا کے بعض شہر جن میں دہلی اور شنگھائی شامل ہیں عموما ایسی آلودہ فضا ہوتی ہے جسے لوئر اوزون کہا جاتا ہے ہوا کا دباؤ کم ہونے اور موسم خشک ہونے پر آلودگی کی یہ تہہ بنتی ہے ۔ پاکستان میں نومبر کے ماہ میں پہلی بار ایسی صورت حال پیدا ہوئی ہے ۔ دوسری طرف ڈی جی محکمہ موسمیات ڈاکٹر غلام رسول نے کہا ہے کہ24 گھنٹوں میں خیبر پختونخوا، بالائی پنجاب میں ہلکی بارش کا امکان ہے، نومبر، دسمبر میں پنجاب کے میدانی علاقوں میں دھند کا راج بار بار ہو گا،نومبر میں اچھی بارشوں کے امکانات انتہائی کم ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ لاہور، ساہیوال سرگودھا اور فیصل آباد ڈویڑن میں دھند رہے گی،ہلکی بارش سے ا سموگ سے عارضی ریلیف مل سکتا ہے

لا ہور (جنر ل ر پو رٹر )طیاروں کی کمی اور حد نگاہ کم ہونے سے لاہور ایئرپورٹ پر چالیس سے زائد پروازیں متاثر، قطر سے تحفے میں ملنے والا جدید لائیٹنگ سسٹم بھی کسی کام نہ آسکا ۔تفصیلات کے مطابق حد نگاہ کم ہوئی تو فلائیٹ آپریشن معطل کرنا پڑ گیا، رات تین بجے سے صبح آٹھ بجے تک رن وے اور اس کے اطراف حد نگاہ سو میٹر سے بھی کم رہی، رن وے پر درجنوں طیارے جبکہ لاؤنجز میں ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے، پارکنگ میں گاڑیاں کھڑی کرنے کی جگہ بھی ختم ہو گئی، ایئرپورٹ کا نظام بری طرح متاثر ہو کر رہ گیا ؂۔شدید دھند کے باعث حد نگاہ سو میٹر سے بھی کم ہوئی تو علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ رات تین بجے سے صبح اٹھ بجے تک کے لیے تمام پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا۔اس دوران رن وے کے اطراف روانگی کے لیے کھڑے طیاروں سمیت ایئرپورٹ لاؤنجز میں ہز اروں مسافر پھنس کر رہ گئے ادھر دیگر ممالک اور شہروں سے لاہور پہنچنے والی تمام پروازوں کو بھی لینڈنگ سے روک دیا گیا اور ان کی منزل تبدیل کر کے انہیں کراچی بھجوا دیا گیا۔ لاہور ایئرپورٹ پر قائم فلائیٹ انکوائری کے مطابق قطر ایئر ویز کی دوحہ سے لاہور انے والی پرواز چھ دو اٹھ، چار گھنٹے سے زائد لیٹ ہے جس کی دن بارہ بجے کیبعد لاہور پہنچنے کی توقع ہے۔قطر ایئر کی لاہور سے واپس دوحہ جانے والی پرواز چھ دو نو کی روانگی ساڑھے تین گھنٹے سے زائد تاخیر کا شکار ہے جس کو دوپہر ایک بجے کے بعد روانہ کیے جانے کی توقع ہے۔ پی ا?ئی اے کی لاہور سے ریاض جانے والی پرواز پی کے سات دو پانچ کی روانگی اب دن بارہ بجے کے بعد متوقع ہے جبکہ ریاض سے واپس لاہور پہنچنے والی پرواز پی کے سات دو چھ بھی چھ گھنٹے سے زائد تاخیر کا شکار ہو گئی ہے۔ شاھین ایئر کی لاہور سے دبئی جانے والی پرواز سات چھ چھ، و گھنٹے سے زائد تاخیر کا شکار ہوئی۔دبئی سے واپس لاہور انے والی پرواز سات چھ سات، تین گھنٹے سے زائد تاخیر کا شکار ہو گئی ہے۔ پی ا?ئی اے کی لاہور سے اسلام ا?باد جانے والی پرواز پی کے ا?ٹھ چھ پانچ دو، دو گھنٹے سے زائد لیٹ ہے جس کی دوپہر دو بجے کے بعد روانگی کی توقع ہے۔ پی ا?ئی اے کی لاہور سے بہاولپور جانے والی پرواز پی کے چھ پانچ ایک، دو گھنٹے سے زائد لیٹ ہے جس کی دوپہر دو بجے کے بعد روانگی کی توقع ہے۔ شاھین ایئر کی جدہ سے انے والی پروازسات تین صفر، چھ گھنٹے سے زائد لیٹ ہے جس کی دن بارہ بجے کے بعد لاہورپہنچنے کی توقع ہے۔شاھین ایئر کی کویت سے انے والی پرواز 442 چار گھنٹے سے زائد لیٹ ہے جس کی دن 12 بجے کے بعد لاہور پہنچنے کی توقع ہے۔ پی ا?ئی اے کی اسلام ا?باد سے انے والی پرواز پی کے 651 دو گھنٹے سے زائد لیٹ ہے جس کی دن 1 بجے کیبعد لاہور پہنچنے کی توقع ہے۔ پی ا?ئی اے کی کراچی سے انے والی پرواز پی کے 316 دو گھنٹے سے زائد لیٹ ہے جس کی دوپہر ڈھائی بجے کے بعد لاہور پہنچنے کی توقع ہے۔ خراب موسم کے باعث شاھین ایئر کی لاہور سے چین کے صنعتی شہر گانگ ڑو جانے والی پرواز 892 کی روانگی بھی گھنٹوں تاخیر کا شکار ہے۔پی ائی اے کی لاہور سے ریاض جانے والی پرواز پی کے 725 کی روانگی 6 گھنٹے سے زائد لیٹ ہے۔ پی ائی اے کی لاہور سے اسلام ا?باد جانے والی پرواز پی کے 650 ساڑھے 3 گھنٹے کی تاخیر سے روانہ ہوئی۔ ترکش ایئر کی استنبول سے انے والی پرواز 714 ساڑھے 5 گھنٹے کی تاخیر سے لاہور پہنچی۔ ترکش ایئر کی لاہور سے استنبول جانے والی پرواز 715 پانچ گھنٹے سے زائد لیٹ ہے جسے تاحال روانہ نہیں کیا جا سکا۔ کویت ایئرویز کی کویت سے لاہور انے والی پرواز 203 چھ گھنٹے کی تاخیر سے لاہور پہنچی۔ کویت ایئرویز کی لاہور سے کویت جانے والی پرواز 204 کی روانگی تاحال غیر یقینی ہے۔قطر ایئرلائنز کی لاہور سے دوحہ جانے والی پرواز 621 چار گھنٹے کی تاخیر سے روانہ ہوئی۔ امارات ایئر کی لاہور سے دبئی جانے والی پرواز 623 بھی 4 گھنٹے کی تاخیر سے روانہ ہوئی۔ اتحاد ایئر کی لاہور سے ابوظہبی جانے والی پرواز 242 سوا 2 گھنٹے کی تاخیر سے روانہ ہوئی۔ پی ائی اے کی لاہور سے سکھر جانے والی پرواز پی کے 594 سوا 2 گھنٹے کی تاخیر سے روانہ ہوئی۔شاھین ایئر کی لاہور سے جدہ جانے والی پرواز 717 ایک گھنٹے کی تاخیر سے روانہ ہوئی۔ پی ائی اے کی لاہور سے دبئی جانے والی پرواز پی کے 203 ایک گھنٹے کی تاخیر سے روانہ ہوئی۔ پی ا?ئی اے کی ابوظہبی سے انے والی پرواز پی کے 264 چھ گھنٹے کی تاخیر سے لاہور پہنچی۔ پی ا?ئی اے کی دمام سے لاہور انے والی پرواز پی کے 248 سات گھنٹے کی تاخیر سے لاہور پہنچی۔پی ا?ئی اے کی کراچی سے ا?نے والی پرواز پی کے 314 دو گھنٹے کی تاخیر سے لاہور پہنچی۔ دوسری جانب متعدد فنی خرابیوں کے باعچ طیارے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے پی ائی اے سمیت شاھین ایئر اور ایئربلیو کی ا?نے جانے والی ا?ٹھ پروازوں کو بھی منسوخ کرنا پڑا۔پی ا?ئی اے کی لاہور سے کراچی جانے والی پرواز پی کے 313 سمیت پی ا?ئی اے کی لاہور سے کراچی جانے والی ایک اور پرواز پی کے 315 ، پی ا?ئی اے کی لاہور سے کوئٹہ جانے والی پرواز پی کے 323 ، پی ا?ئی اے کی کراچی سے لاہور انے والی پرواز پی کے 318 ، پی ا?ئی اے کی کراچی سے لاہور ا?نے والی ایک اور پرواز پی کے 312 ، شاھین ایئر کی لاہور سے ابوظہبی جانے والی پرواز 776 ، شاھین ایئر کی ابوظہبی سے لاہور انے والی پرواز 777 اور ایئربلیو کی جدہ سے لاہور انے والی پرواز 471 کو منسوخ کر دیا گیا۔لاہور ایئرپورٹ کی موجودہ صورتحال کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے جس کی وجہ سے مسافروں کو سخت تکلیف اور پریشانی کا سامنا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -