نعیم الحق اور خرم نواز گنڈا پور کی لڑائی، کون ذمہ دار

نعیم الحق اور خرم نواز گنڈا پور کی لڑائی، کون ذمہ دار
نعیم الحق اور خرم نواز گنڈا پور کی لڑائی، کون ذمہ دار

  

نعیم الحق اور خرم نواز گنڈا پور کی لڑائی، پاکستان کے موجودہ سیاسی کلچر کی عکاس ہے۔ لیکن ان دونوں رہنماؤں کے درمیان اس قدر شدید لڑائی اس وقت پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان موجود نفرت کی عکاس بھی ہے۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان نفرت دیکھ کر ہی سیاست کے نشیب و فراز کا بھی بخوبی اندازہ ہو تا ہے۔ سیاست کا یہ پرانا اصول بھی ثابت ہو تا ہے کہ کس طرح آج کے دوست کل کے دشمن ہو سکتے ہیں اور کل کے دشمن آج کے دوست ہو سکتے ہیں۔ شاید اسی لئے یہ کہا جا تا ہے کہ سیاست دروازے اور کھڑکیاں کھلی رکھنے کا نام ہے، بند دروازوں اور بند گلیوں میں سیاست نہیں ہو تی۔

یہ وہی کلچر ہے جس کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف پر یہ الزام ہے کہ اس نے پاکستان کی سیاست میں بدتمیزی، گالی گلوچ اور اوئے توئے کا کلچر پروان چڑھایا۔ یہ وہی زبان ہے جو عمران خان نے شروع کی ہے اور اب آہستہ آہستہ عمران خان اور ان کے تمام مخالفین بھی عمران خان اور ان کی جماعت کو اسی زبان میں جواب دے رہے ہیں۔ تحریک انصاف کا یہی بدتمیزی کا کلچر آہستہ آہستہ نچلی سطح پر پہنچ رہا ہے،شاید لوگ اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہیں کہ ان سے عزت بچانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ان کو ان کی زبان میں ہی جواب دیا جائے۔ جب بدتمیزی کا جواب شائستگی سے دیا جائے تو اخلاقی اآداب میں تو اس کو برتری سمجھا جاتا ہے ، لیکن سیاست میں اس کو کمزوری سمجھا جاتا ہے اور تحریک انصاف پر اپنی سیاسی برتری قائم رکھنے کے لئے باقی جماعتوں کے لوگ بھی اسی زبان اور لہجہ میں جواب دے رہے ہیں۔

زیادہ پرانی بات نہیں ہے عمران خان نے سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کو جلسوں اور کنٹینرز پر للکارنا شروع کیا۔ افتخار چودھری نے اس للکار کے جواب میں پہلے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا یا تو انہیں معلوم ہوا کہ انصاف ملنے میں بہت تاخیر ہو جائے گی۔ کئی ماہ تک تو افتخار چودھری سابق چیف جسٹس ہوتے ہوئے بھی عمران خان سے جواب دعویٰ حاصل نہیں کر سکے اور عمران خان نے روز میڈیا میں افتخار چودھری کے خلاف ایک طوفان اٹھا یا ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے افتخار چودھری نے اپنے بیٹے کو اپنے خلاف الزامات کا جواب دینے کے لئے ٹاک شوز میں بھیجنا شروع کر دیا اور ایک ٹاک شو میں عمران خان کی جماعت کے ایک نمائندے نے ارسلان افتخار کے ساتھ شدید بدتمیزی کی اور بات ہاتھ پائی تک پہنچ گئی۔

اسی طرح گزشتہ دنوں ایک ٹاک شو میں عمران خان کی جماعت کے ایک نمائندے اور مسلم لیگ (ن) کے نمائندے کے درمیان بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی اور مجبورا اینکر کو بریک لینی پڑی، تاکہ دونوں کو چھڑایا جا سکے۔ اسی طرح ایک ٹاک شو میں شاہ محمود قریشی نے خواجہ سعد رفیق سے ہاتھ ملانے سے انکا ر کر دیا۔ شفقت محمود صاحب جیسا پڑھا لکھا انسان بھی ایک ٹاک شو میں پرویز رشید سے غیر مہذب انداز میں الجھ پڑا۔

سوال یہ ہے کہ ٹاک شوز میں الفاظ کی گرما گرمی تو کافی عرصہ سے چل رہی تھی اور اس ضمن میں ایک پراپیگنڈہ یہ بھی تھا کہ سیاستدان ٹاک شوز میں صرف عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے لڑتے ہیں اور سکرین بند ہوتے ہی ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق شروع کر دیتے ہیں، بغلگیر ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ٹی وی پر ہونے والی الفاظ کی تمام جنگ جعلی ہے لیکن اس کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ تمام سیاستدان سکرین پر دبنگ انداز میں اپنی اپنی جماعت کا موقف پیش کرتے ہیں، لیکن اس دوران وہ ایک دوسرے کے ساتھ پرسنل نہیں ہوتے۔ تا ہم ایسا لگتا ہے بات لفظی جنگ سے آگے بڑھ گئی ہے اور تحریک انصاف اس میں گالی اور ہاتھا پائی کا تڑکا لگانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ یہ پاکستان کی سیاست میں کس قدر خوش آئند ہے، کیونکہ اس سے پہلے تو سیاسی کارکن آپس میں الجھتے رہتے تھے، لیکن لیڈر شرافت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے، لیکن اب لیڈر بھی اس حمام میں ننگے ہو گئے ہیں۔

جہاں تک نعیم الحق اور خرم نواز گنڈا پور کی لڑائی کا تعلق ہے تو یہ لڑائی بالکل ایسی ہے جیسے سینما میں لوگ پہلے پہنچ کر اچھی نشستیں روک لیتے ہیں۔ کسی بھی پروگرام میں آگے کی نشستیں روکنے کے لئے ملازمین بٹھا دئے جاتے ہیں۔ کسی جگہ اگر لائن میں لگنا مجبوری ہو تو اپنے ملازم کو لائن میں کھڑا کر دیا جا تا ہے۔ ایسے ہی نعیم الحق بھی عمران خان کی سپریم کورٹ کے باہر پریس ٹاک کے لئے جگہ مل کر کھڑے تھے جبکہ خرم نواز گنڈا پور وہاں میڈیا سے بات کرنے کے لئے پہنچ گئے۔ اب نعیم الحق نے تو میڈیا سے بات نہیں کرنی تھی لیکن وہ عمران خان کے لئے جگہ مل کر کھڑے تھے۔ اصولاً تو انہیں خر م نواز گنڈا پور کے لئے جگہ چھوڑ دینی چاہئے تھی، لیکن تحریک انصاف آجکل پاکستان کی سیاست کی ایسی بدمعاش ہے جس سے سب عزت بچاتے پھر رہے ہیں۔ اس لئے نعیم الحق نے اسی زعم میں خرم نواز گنڈا پور کو پیچھے دھکیل دیا کہ وہ ان سے جگہ خالی کروانے والا کون ہو تا ہے۔

لیکن خرم نواز گنڈا پور کا تعلق کوئی ن لیگ سے تھوڑی تھا کہ وہ تحریک انصاف سے ڈر جاتے۔ وہ عمران خان کے سیاسی کزن ہیں، یہ بازو ان کے آزمائے ہوئے ہیں۔ انہیں تو پتہ ہے کہ یہ تحریک انصاف والے کاغذی و جعلی بد معاش ہیں اور پاکستان عوامی تحریک کو تحریک انصاف سے کوئی کام بھی نہیں ہے۔ اس لئے وہ کیوں نعیم الحق سے ڈرتے۔ اس لئے انہوں نے نعیم الحق صاحب کی عزت اتار کر ہاتھ میں پکڑا دی۔

پاکستان عوامی تحریک موجودہ سیاسی نظام کی سٹیک ہولڈر نہیں ہے۔ وہ اس سیاسی نظام کو ختم کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ انہیں موجودہ سیاسی نظام سے کچھ نہیں مل سکتا۔ اس لئے یہ سیاسی نظام جتنا بھی گندا ہو انہیں فرق نہیں پڑتا۔ لیکن تحریک انصاف موجودہ سیاسی نظام کی ایک بڑی سٹیک ہولڈر ہے۔ اسے اس نظام سے ہی کامیابی ملی ہے اور وہ اپنی اگلی کامیابیاں بھی اسی نظام میں ڈھونڈ رہی ہے۔ اس لئے اس کو اس نظام کو گندا کرنے کا براہ راست نقصان ہو گا۔ گالیاں نکالتے نکالتے آج سننی بھی پڑ گئی ہیں۔ کل اور بھی سننی پڑیں گی۔ اس لئے تحریک انصاف کو اپنی زبان انداز گفتگو اور لہجہ پر نظر ثانی کرنی چاہئے ، اسی میں اس کے لئے بہتری ہے۔

مزید :

کالم -