قانون کی عملداری قلم ہو چکی ،اب کوئی جتھاریاست پر اپنی رائے نہیں تھوپ سکتا :چودھری نثار

قانون کی عملداری قلم ہو چکی ،اب کوئی جتھاریاست پر اپنی رائے نہیں تھوپ سکتا ...

  

اسلام آباد(آن لائن)وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ دس سال بعد پولیس اور سکیورٹی اداروں نے قانون اور آئین کی عملداری کو نافذ کیا، اب کوئی بھی جتھا نکل کر ریاست پر اپنی رائے نہیں تھوپ سکتا ،400 پولیس اور ایف سی جوانوں نے خالی ہاتھ مسلح گارڈز سمیت 8000 افراد کا راستہ روکا ،بطور وزیراعلیٰ پرویز خٹک اسلام آباد آئیں تو شہبازشریف سے بھی زیادہ پروٹوکول و سکیورٹی دوں گا ، اگر انتشار پھیلانے کیلئے آئیں گے تو وہی سلوک ہوگا جیسا پتھر گڑھ میں ہوا ۔ان خیالات کا اظہار وزیر داخلہ نے پولیس اور ایف سی جوانوں کو تعریفی اسناد دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں دس سال بعد پولیس اور سکیورٹی اداروں نے قانون اور آئین کی عملداری کو نافذ کیا ہے اور میں اپنے جوانوں کو قانون کی عملداری پر مبارک پیش کرتا ہوں ، انہوں نے کہاکہ اب کوئی بھی جتھا ریاست پر اپنی مرضی نہیں اور رائے نہیں تھوپ سکتا۔انہوں نے کہاکہ میں سیاسی باتیں یہاں نہیں کرنا چاہتا اور میں لوگوں اور میڈیا پرواضح کردنا چاہتا ہوں کہ جوانوں اور مجاہدوں کی جیت ہے کسی سیاسی پارٹی کی ہار یا جیت نہیں انہوں نے کہاکہ ایف سی اور پولیس جوانوں نے قانون کی عملدداری قائم کی اور ریاست کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ ریاست کا ساتھ دیا ۔انہوں نے سکیورٹی اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میرا کام آسان ہے کیو نکہ میں نے حکم یا ہدایت دینا ہوتی ہے اس پرعملدرآمد آپ لوگوں کا کام ہوتا ہے ، آپ نے مشکل وقت میں اپنی ذمہ داری اور ڈیوٹی انجام دینا ہوتی ہے ،انہوں نے کہاکہ پولیس والے کے بھی بچے ہوتے ہیں ، والدین اوربہن بھائی ہوتے ہیں وہ بھی کسی کے بیٹے ہوتے ہیں کبھی کسی نے یہ سوچا کہ ان کی مشکلات کیا ہوتی ہیں، تاہم مجھے بطور وزیرداخلہ ان چیزوں کا احساس ہے آئندہ بھی آپ کو خوش کروں گا اور اہلکاروں کی بہتری کیلئے کام کرتا رہوں گا ، مراعات دوں گا ۔انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک نے اعتراض کیا کہ میرا راستہ روکنے کے لئے پشتون ایف سی اہلکاروں کو سامنے کھڑا کردیا ، میں پرویز خٹک پر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ یہ سکیورٹی ادارے مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف یا کسی پارٹی کے نہیں بلکہ پاکستان کے ادارے ہیں ، قومی سلامتی کے اداروں کو سیاست میں مت گھسیٹیں، حکومت کو ساڑھے تین سال ہو گئے ہیں اور ان سالوں میں تحریک انصاف نے کتنی بار پرامن احتجاج کیا اور ہم نے آپ کو خوش آمدید کہا ،کل بھی آپ پرامن آئیں گے تو آپ کا راستہ نہیں روکیں گے۔پرویز خٹک اگر بطور وزیراعلیٰ اسلام آباد آئیں گے تو شہبازشریف سے زیادہ سکیورٹی اور پروٹوکول دوں گا ، ایف سی ، رینجرز یا پولیس جس کی مرضی سکیورٹی چاہیے پرویز خٹک کو دوں گا مگر وہ انتشار پھیلانے کی غرض سے اگر اسلام آباد آئیں گے تو ان کے ساتھ وہی سلوک ہو گا جو پتھر گڑھ میں ہوا ۔انہوں نے کہاکہ سیاستدانوں کیلئے ایسی تقریب میں تقریر کرنا بہت مشکل کا م ہوتا ہے اور میں اس تقریب میں سیاسی تقریر نہیں کرنا چاہتا مگر کچھ سوالات کے جواب دینا بھی میرا فرض بنتا ہے پرویز خٹک جتھا لے کر اسلام آباد پر حملہ آور ہونا چاہتے تھے اور ہمارے 400جوانوں نے بغیر اسلحہ کے 8ہزار کا مقابلہ کیا ، ان آٹھ ہزار میں پرویز خٹک اور صوبائی وزراء کے مسلح گارڈز بھی تھے مگر ہمارے جوانوں نے آنسو گیس کے علاوہ کسی چیز کا استعمال نہیں کیا ۔بغیر اسلحہ کے ان کو انتشار پھیلانے والوں کے سامنے بھیجا گیا ۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہاکہ مجھے ایف سی اہلکاروں کی کم تنخواہوں کا علم ہوا تو بہت افسوس ہوا جس پر میں نے فیصلہ کیا کہ ایف سی کے جوانوں کو ان کا حق ملنا چاہیے اس لئے ایف سی کے اہلکاروں کی کم سے کم تنخواہ30ہزار کی جارہی ہے ، انہوں نے کہاکہ ایف سی اہلکار 18 سال میں بھرتی ہوتا تھا اور 35سال کی عمر میں ریٹائرڈ ہوجاتا ہے اب ریٹائرمنٹ کی عمر45سال کردی ہے اور اب ایف سی اہلکار 45سال کی عمر میں ریٹائرڈ ہو گا ۔انہوں نے کہاکہ میں کے پی کے میں ایف سی کے جوانوں اور ان کے اہل خانہ کیلئے ہسپتال تعمیر کرنے کا بھی اعلان کرتا ہوں، کے پی کے میں حکومت اگر مسلم لیگ ن کی آتی تو سکول اور کالج بھی قائم کیا جائیگا، اگر پرویز خٹک ابھی زمین الاٹ کردیں تو سکول اور کالج ابھی تعمیر کردینگے۔وفاقی وزیر داخلہ نے پولیس کی شاندار کارکردگی پر تعریفی اسناد بھی اہلکاروں میں تقسیم کیں۔

مزید :

صفحہ اول -