اپیکس کمیٹی ،پولیس کے 4ہزار اہلکاروں کو فوجی تربیت دینے کا فیصلہ

اپیکس کمیٹی ،پولیس کے 4ہزار اہلکاروں کو فوجی تربیت دینے کا فیصلہ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ پولیس کے 4 ہزار اہلکاروں کو فوجی تربیت دی جائے گی ، اس بات کا فیصلہ جمعرات کو اپیکس کمیٹی سندھ کے اجلاس میں کیا گیا ، جو وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت چیف منسٹر ہاؤس میں منعقد ہوا ۔ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان ، وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے اطلاعات مولا بخش چانڈیو ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب ، چیف سیکرٹری سندھ محمد صدیق میمن ، کور کمانڈر کراچی لیفٹننٹ جنرل نوید مختار ، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر ، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ ، انٹیلی جنس اداروں کے افسران اور دیگر حکام نے شرکت کی ۔ اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے مولا بخش چانڈیو نے بتایا کہ سندھ پولیس میں 8 ہزار افراد بھرتی کیے گئے ہیں ۔ ان میں سے 4 ہزار پولیس اہلکاروں کو فوجی تربیت پر بھیجا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی شہر میں مزید 10 ہزار سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے اور ان کی مانیٹرنگ کے سسٹم کو بہتر بنایا جائے گا ۔ مولا بخش چانڈیو نے بتایا کہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں اسٹریٹ کرائمز پر تفصیلی غور کیا گیا اور کراچی پولیس کے سربراہ مشتاق مہر کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ اسٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کریں ۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں امن وامان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے ۔ اپیکس کمیٹی نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں اپیکس کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ بھی لیا گیا ۔ مشیر اطلاعات سندھ نے بتایا کہ کور کمانڈر کراچی نے امن وامان کی صورت حال کو بہتر بنانے میں وزیر اعلیٰ سندھ ، پولیس اور دیگر اداروں کی کوششوں کی تعریف کی ۔ مولا بخش چانڈیو نے بتایا کہ زمینوں پر قبضوں کے مقدمات کو بھی جلد نمٹانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے موقع پر امن وامان خراب کرنے کے 36 منصوبوں کو ناکام بنایا گیا ۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) میں مک مکا ہو گیا ہے ۔ وزیر میاں محمد نواز شریف کو مبارک ہو کہ ان کے سب سے بڑے مخالف عمران خان نے 2018 تک انہیں مہلت دے دی ہے ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -