ماڈل پولیس اسٹیشنوں کا قیام صرف عمارتوں سے ممکن نہیں، ناصر درانی

ماڈل پولیس اسٹیشنوں کا قیام صرف عمارتوں سے ممکن نہیں، ناصر درانی

  

پشاور( کرائمز رپورٹر )نسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ناصر خان دُرانی کہا ہے کہ ماڈل پولیس اسٹیشنوں کا قیام صرف عمارتوں کی نہیں بلکہ پولیس کی سوچ، رویئے اور ترجیحات کی تبدیلی کا نام ہے۔ یہ بات انہوں نے آج ضلع چارسدہ میں ماڈل پولیس اسٹیشن سرڈھیری کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جسمیں منتخب نمائندوں، ناظم اعلیٰ چارسدہ، معززین علاقہ، اعتبار ٹیم کے ارکان، ایڈیشنل آئی جی پی ہیڈ کوارٹرز، ریجنل پولیس آفسرمردان، ڈی پی اُو چارسدہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ آئی جی پی نے کہا کہ آجکل کے جدید دور میں ماڈل پولیس اسٹیشنوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے جہاں عام آدمی کی عزت نفس بحال کرکے انہیں تھانہ کی سطح پر بہتر ماحول فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں کافی تھانے انتہائی مخدوش حالت میں ہیں۔ جن میں 50فیصد کی عمارتیں بوسیدہ یا کرایہ کی عمارتوں میں ہیں۔ ہم نے صوبہ بھر میں ماڈل پولیس اسٹیشنوں کے قیام کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مصیبت میں مبتلا لوگ بہتر ماحول میں اپنا مسئلہ پیش کرکے اُن کے حل کے لیے اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔آئی جی پی نے کہا کہ ماڈل پولیس اسٹیشن کے عملے کی رویئے اور سوچ کے حوالے سے جوانوں کو خصوصی تربیت دی گئی ہے اور شکایت کنندہ ان کی بہتر تربیت کا اثر میں ضرورمحسوس کرے گا۔ آئی جی پی نے صوبے کے مخصوص کلچر، روایات اور عوا م میں پائی جانے والی خوبیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنی پوری مدت ملازمت میں خیبر پختونخوا پولیس جیسی دلیر اور دانش رکھنے والی فورس کبھی نہیں دیکھی اور اس کی کمانڈ کو وہ اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ آئی جی پی نے کہا کہ جب انہوں نے بحیثیت آئی جی پی چارج سبنھالا تو دہشت گردی اپنے عروج پر تھی۔ ہم نے پولیس کے استعداد کارکو بہتر بنانے پر بھر پور توجہ دی اور ان اقداات کی بدولت آج دہشت گردی کے واقعات میں 65فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔آئی جی پی نے تختی کی نقاب کشائی کرکے سرڈھیری ماڈل پولیس اسٹشن کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ آئی جی پی تھانے کے مختلف حصوں میں گئے اور وہاں پر جدید دور کے تقاضوں کے مطابق عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا معائنہ کیا۔قبل ازیں آئی جی پی نے سٹی پولیس اسٹیشن چارسدہ میں تنازعات کے حل کے کونسل (DRC)کے دفتر کا دور کیا۔ آئی جی پی کونسل کے مختلف حصوں میں گئے اور اس موقع پر موجودکونسل کے ممبران سے ملے۔اور ان سے عوام کے وابستہ توقعات اور ان کے چھوٹے چھوٹے تنازعات کے حل کے بارے میں کونسل کی کارکردگی اور افادیت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر کونسل کے سربراہ نے آئی جی پی کو بتایا کہ کونسل نے اپنے قیام سے لیکر اب تک 800 سے زائد تنازعات کو کامیابی اور خوش اسلوبی سے نمٹایا ہے جسمیں 90 سال کاپرانا قتل وغارت سے بھر پور تنازعہ بھی شامل ہیں۔ آئی جی پی نے کونسل کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جرگے کا کلچر پختونوں کے خون میں شامل ہیں اور اس کی اہمیت اور افادیت اور صوبے میں قتل مقاتلے کے مقدمات کی زیادہ تعداد میں ہونے پر پولیس لیزان کونسل کے ممبران کی خدمات حاصل کیجائیگی۔ جن کے ارکان اپنے اپنے علاقوں میں چلنے والی دشمنیوں کی نشاندہی تنازعات کے حل کے کونسلوں کے ارکان کو کرے گی۔ جس کو حل کرنے کے لیے ڈی آر سی کے ممبران اپنی کوششیں بروئے کار لائے گی۔ آئی جی پی نے ڈی آر سی کے تمام کاروائی ریکارڈ پر لانے اور محفوظ رکھنے کی بھی ہدایت کی۔ بعد ازاں آئی جی پی نے چارسدہ پولیس لائنیز میں زیر تعمیر پولیس اسسٹنس لائنز کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے جاری کام کا معائنہ کرکے موقع پر موجود افسروں کو اُس کو جلد ازجلد پایہ تکیل تک پہنچانے کی بھی ہدایت کی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چت کرتے ہوئے آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کی نفری بڑھانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ جبکہ پولیس کے مختلف رینک کے اپ گریڈیشن کا معاملہ حکومت کو منظوری کے لیے بھیجوادیا گیا ہے۔ اور کہا کہ اُن کی خواہش ہے کہ پورے ملک میں پولیس کی آپ گریڈیشن اور مراعات ایک جیسی ہونی چاہئے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -