مظفر سید ایڈوکیٹ کا سٹوڈنٹس یو نیز پر عائد پابندی ختم کرنیکا عندیہ

مظفر سید ایڈوکیٹ کا سٹوڈنٹس یو نیز پر عائد پابندی ختم کرنیکا عندیہ

  

پشاور( سٹاف رپورٹر )خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے صوبے کی جامعات اور دیگر تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس یونینز پر عائد پابندی کے مشروط خاتمے کا یقین دلاتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے طلبہ و طالبات کو بہترین امتحانی نتائج اور نظم و ضبط کے اعلیٰ معیار کا مظاہرہ کرکے ثابت کرنا ہو گاکہ وہ کھیل و تعلیم کے علاوہ لیڈرشپ کے میدان میں بھی بہتر صلاحیتوں کے جوہر دکھا سکتے ہیں وہ خیبرمیڈیکل کالج پشاور میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیراہتمام 44ویں کتب میلہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس سے کالج کے پرنسپل ڈاکٹر قیصر عنایت، چیف پرووسٹ ڈاکٹر زاہد، جمعیت کے مرکزی جنرل سیکرٹری فیصل جاوید، صوبائی ناظم شاہ زمان درانی، ناظم کے ایم سی ناصر رشید اور انچارج بک فئیر مطہر بشیر نے بھی خطاب کیا اور طلبہ سرگرمیوں کے علاوہ معیار تعلیم سے متعلق صوبائی حکومت کے اقدامات پر روشنی ڈالی اور انکی کامیابی کیلئے بھرپو رتعاون کا یقین دلایا اس موقع پر مظفر سید ایڈوکیٹ نے میڈیکل کالج کے نادار طلبہ و طالبات میں جمعیت کی طرف سے ایک لاکھ روپے کی درسی کتب بھی تقسیم کیں وزیر خزانہ نے طلبہ میں انسانی و فلاحی جذبہ بیدار کرنے اور انکی کردار سازی کے حوالے سے اسلامی جمعیت طلبہ کی مخلصانہ کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انکی شبانہ روز محنت کا ثمر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پیشہ وارانہ مہارت رکھنے والی نوجوان نسل کی صورت میں ظاہر ہو گا جو تمام شعبہ ہائے زندگی میں قیادت کی ذمہ داریاں سنبھال کر ملک و قوم کو تعمیر و ترقی کی نئی ڈگر پر ڈالے گی انہوں نے کہا کہ وہ میلے میں نادر دینی و طبی کتب، یونیفارم اور اشیائے خوراک کے سٹالوں کے بندوبست اور نظم و ضبط کے بہترین معیار سے متاثر ہوئے ہیں صوبائی حکومت ہر سطح پر ایسی سرگرمیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرے گی تاہم انہوں نے طلبہ تنظیموں کی بحالی سے متعلق مطالبے پر واضح کیا کہ وہ اس سلسلے میں گورنر اور وزیراعلیٰ سے رابطے میں ہیں البتہ گیند طلبہ کی کورٹ میں ہے وہ اعلیٰ تعلیمی نتائج، بہترین نظم و ضبط اور پختہ شعور کا مظاہرہ کرینگے تو حکومت از خود انکی سیاسی سرگرمیوں کی بحالی میں ذرہ برابر تاخیر نہیں کرے گی مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا کہ نوجوان نسل کرپشن فری پاکستان کی مہم میں ہمارا بھرپور ساتھ دیں تاکہ روشن اسلامی فلاحی ریاست کا خواب جلد شرمندہ تعبیرہو انہوں نے واضح کیا کہ وہ ذاتی طور پر طلبہ یونینز کی بحالی چاہتے ہیں کیونکہ اسکی بدولت ویژن بڑھنے کے علاوہ انکی قائدانہ صلاحیتوں کو جلا ملتی ہے آج قوم کو حکومتی و معاشی میدان میں قحط الرجال کا سامنا ہے حکومت و اقتصادیات کے ہر شعبے میں کرپشن کا راج ہے جبکہ اصلاح کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے جس کا توڑ ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان نسل کے پاس ہے طلبہ طب اور انجینئرنگ سمیت تمام شعبوں میں مہارت کے ساتھ پیارو محبت کا ماحول قائم کریں تاکہ منزل کا حصول زیادہ آسان بنے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -