پرو انشل ڈاکٹرز کی ایم ٹی آئی ایکٹ میں خامیوں کو دور کرنے کیلئے وزیر اعلٰی کو درخواست

پرو انشل ڈاکٹرز کی ایم ٹی آئی ایکٹ میں خامیوں کو دور کرنے کیلئے وزیر اعلٰی کو ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر )پرونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشن ایکٹ 2015میں موجود خامیوں کو دور کرنے کیلئے وزیر اعلی کو تحریری طور پر درخواست جمع کرا دی گئی ہے ۔پرونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر ڈاکٹر امیر تاج خان نے میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشن ایکٹ2015میں موجود خامیوں کو دور کرنے کیلئے تفصیلی خط ارسال کر دیا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ تمام ملازمین اور بورڈ کے ممبران کیلئے عمر کی حد سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ساٹھ سالہ پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے جبکہ تمام ایم ٹی آئیز میں ہونے والی بھرتیاں مستقل ،میرٹ اور زونل کے مطابق کی جائے اور تمام ایم ٹی آئیزمیں کام کرنے والے ملازمین کو ہیلتھ پروفیسنل الاونس دیا جائے اور تمام ایم ٹی آئیز ہسپتالوں میں میڈیکل آفیسرز ، جونئیر رجسٹرار ز،اور سینئر رجسٹرارز کی آسامیوں میں اضافہ کیا جائے اور تمام ایم ٹی آئیز میں ڈاکٹروں کی بھرتیاں اور ترقیاں پی ،ایم ،ڈی،سی کے مطابق کی جائیں اور ایم ٹی آئیز میں کام کرنے والے ملازمین کو فائیننشل اسسٹنس دی جائے ۔ ایم ٹی آئیزمیں کام کرنے والے سےئنر ڈاکٹرز جسمیں سئینر رجسٹرارز ،اسسٹنٹ پروفیسرز ،ایسوسی ایٹ پروفیسرز ، اور پروفیسرز ، کی تنخواہوں میں میڈیکل ،ہسپتال ڈائریکٹر ز کی تنخواہوں کی طرح اضافہ کیا جائے ۔ تمام ایم ٹی آئیز میں نرسنگ ڈائریکٹرز ، چیف فارماسسٹ ،ایچ آر ڈائریکٹرز اور مختلف مینیجرز کی تنخواہ زیادہ سے زیادہ اسی ہزار رکھی جائے اور ایم ٹی آئیزمیں کام کرنے والے تمام ملازمین کی سی پی فنڈز کو جی پی فنڈز میں تبدیل کیا جائے اور اسکے سا تھ ساتھ ایم ٹی آئیز میں ملازمین کی چھٹیوں کا سابقہ طریقہ کار بحال رکھا جائے جبکہ ایم ٹی آئیز میں ڈاکٹروں کی رھائیش کے لئے فلیٹس تعمیر کئے جائے اور سیکیورٹی کا مناسب بندوبست کیا جائے اور ایم ٹی آئیز میں ایڈمینسٹراٹیو پوسٹ پر منیجمنٹ کیڈر ز کے ڈاکٹرز کی تعئناتی کو یقینی بنایا جائے اور تمام ایم ٹی آئیز کے بورڈ آ ف گورنرز کے اجلاس میں ہونے والا ایجنڈا باقاعدہ طور پر معتلقہ ویب سائیٹ پر دےئے جائیں تا کہ فیصلوں میں شفافیت نظر آ سکے ۔ ایم ٹی آئیزمیں ہونے والی تمام غیر ضروری بھرتیاں جس میں منیجرز ، وارڈ کلرکس ،اسسٹنٹ منیجرز ،جونئیر مینیجر زاور دوسری غیر ضروری بھرتیاں روکی جائیں تاکہ سرکاری خزانے کو نقصان نہ ہو اور مریضوں کی مشکلات میں مزید اضافے کہ سبب نہ بنے ۔ جبکہ تمام ایم ٹی آئیز میں مریضوں کے لئے مفت علاج کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور تمام جدید سہولیات جس میں سی،ٹی ،سکین ، ایم ،آر،آئی ، ڈیجیٹل ایکسرے ، جوبیس گھنٹے الٹراساونڈ کی فراہمی ،گائینی وارڈز میں مریضوں کے لئے علیحدہ الٹرا ساونڈ کی سہولت ، اپنا فارمیسی شاپ ،سرجیکل شاپ ،گائنی کے مریضوں کے لئے علیحدہ فارمیسی شاپ اور لیبارٹری کے قیام کو یقینی بنایا جائے۔ جبکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کہ ایمرجنسی میں فلٹر کلینک ، فریکچر کلینک ،چلڈرن کلینک ،اور چیسٹ کلینک کو دوبارہ مریضوں کے لیے بحال کیا جائے اور ایمرجنسی میں میڈیکل آفیسرز کی ۹۶ خالی آسامیوں پر جلد سے جلد بھرتیاں کی جائیں تا کہ عوام کو بہترین سہولیات بروقت مہیاہ کی جا سکیں۔ جبکہ ایل آرایچ میں نئے تعمیر شدہ آئی سی یو وارڈ سے اسٹیبلشمنٹ آفس کو ختم کیا جائے اور اس آئی سی یو کو تمام جدید سہولیات سے آراستہ کر کے غریب مریضوں کے لئے کھولا جائے تا کہ مریضوں کی مشکلات کم ہو سکے ۔ جبکہ ایل آر ایچ کے مختلف وارڈز میں جس میں جنرل آئی سی یو ،تھیوریسک آئی سی یو ، واسکولر آئی سی یو ، گائنی آئی سی یو ،سرجیکل آئی سی یو ، اور نیوروسرجری آئی سی یو میں خراب وینٹیلیٹرز کو تبدیل کر کہ جدید وینٹیلیٹرز فراہم کی جائے تاکہ سیریس مریضوں کی جان بچائی جا سکیں۔ جبکہ تمام ایم ٹی آئیز میں مریضوں کے تیماداروں کیلئے سرائے تعمیر کئے جائیں اور تمام ایم ٹی آئیز میں سیریس مریضوں کے لئے وارڈز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے ۔ تمام ایم ٹی آئیز میں خواتین مریضوں کے لئے خواتین الٹرا سونالوجسٹ بھرتیاں کی جائیں تاکہ خواتین مریضوں کی مشکلات کم کی جا سکیں اور ہسپتالوں میں سیریس مریضوں کو ایک وارڈ سے دوسری وارڈ منتقل کرنے کے لئے سہولت کار بھرتی کیے جائیں۔ تمام ہسپتالوں میں جلد سے جلد سٹیٹ آف دی آرٹ برن یونٹ بنائے جائیں تاکہ متاثرہ مریضوں کا بر وقت علاج کیا جا سکے ۔ ایل آر ایچ میں ہونے والی ۰۰۸غیر ضروری بھرتیوں پر نظر ثانی کی جائے تاکہ سرکاری خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکے ۔پروینشل ڈاکٹرز ایسوسیشن وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ ، وزیر صحت خیبر پختونخواہ اور سیکٹری ھیلتھ سے مطالبہ کر تے ہیں کہ وہ جلد از جلد تمام ملازمین اور مریضوں کو درپیش مسائل حل کریں تاکہ عوام کو حقیقی معائنوں میں صحت کی سہولیات مہیاء ہو سکیں جو کہ موجودہ حکومت کی اوالین ترجیحات میں شامل ہیں ۔بصورت دیگر :۔ملازمین اور مریضوں کو درپیش جائز مطالبات کو حل نہ کیا گیا تو تمام ملازمین احتیجاج کرنے میں حق بجانب ہونگے جس کی تما م تر زمہ واری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -