کرپشن اورکرپٹ عناصر کیخلاف ضرب عضب جاری رہے گا: مشتاق احمد خان

کرپشن اورکرپٹ عناصر کیخلاف ضرب عضب جاری رہے گا: مشتاق احمد خان

  

پبی ( نما ئندہ پاکستان )امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ عوام کو بااختیار بنانے کا نعرہ لگانے والی سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کی ابتدا انہی کے خاندان سے ہو کر اس کا اختتام ان کے ہی خاندان پر ہوتا ہے۔ بین الاقوامی ادارے پلڈاٹ کے سروے کے مطابق داخلی جمہوریت پاکستان میں صرف اور صرف جماعت اسلامی میں ہے۔ پاکستان کے ٹاپ ٹین پارلیمنٹیرین میں سے چار کا تعلق جماعت اسلامی سے ہیں۔ سینٹ سے لیکر ویلج کونسل تک جماعت اسلامی کے نمائندے پر ایک پیسے کی کرپشن کا الزام نہیں لگا سکتا ہے۔کرپشن اور کرپٹ عناصر کے خلاف ضرب غضب جاری رہیگی۔دھرنا دینے والے دھرنے کی خالق جماعت سے اس کا گر سیکھتے تو پسپائی نہیں ہوتی۔لوڈ شیڈنگ ، غربت کا خاتمہ اور گرین پاسپورٹ کی عزت کی بحالی صرف اور صرف جماعت اسلامی کرسکتی ہے۔ اضاخیل میں کامیاب اجتماع کے انعقاد پر ضلع نوشہرہ کے قائدین اور کارکن قابل تحسین ہے۔ پاکستان کو مخلص اور دیانتدار قیادت صرف اور صرف جماعت اسلامی دے سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینا سکول اینڈ کالج پبی میں منعقدہ ضلعی امیر کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ تقریب کی صدارت جماعت اسلامی کے مرکزی شوریٰ کے ممبر آصف لقمان قاضی نے کی۔ اس موقع پرنومنتخب ضلعی امیر حاجی انوارالاسلام نے اپنی ذمہ داریوں کا حلف اٹھایا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی امیرمشتاق احمد خان نے کہا کہ دھرنے کی حکمت عملی سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے متعارف کرائی تھی۔ ہمارے صوبائی اتحادی ہم سے اس حوالے سے مشاورت کرتے تو ان کی بہتر رہنمائی کرسکتے تھے۔نوجوانوں کو سبز باغ دکھانے والوں نے ان کو مایوسی سے سوا کچھ نہیں دیا۔ آج کا نوجوان سراج الحق اور جماعت اسلامی کا منتظر ہے۔کرپشن کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک کو سپریم کورٹ نے بھی مان لیا ہے۔کرہشن کے خلاف عدالتی جنگ جاری رہیگی۔ جماعت اسلامی ملک کے پسے ہوئے طبقے کے زخموں کا مرہم ثابت ہوگا۔ لوڈ شیڈنگ اور غربت ہمارا مقدر نہیں ہے۔ کرپٹ مافیا کے خلاف سفر کا آغاز شروع ہو چکا ہے۔ملک میں حقیقی تبدیلی صرف جماعت اسلامی لائیگی۔انہوں نے کہا کہ ویلج کونسل سطح پر نوجوانوں اور خواتین کی تنظیم نو کی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -