اسلام آباد کے معروف مونال ریسٹورنٹ کا خاتون سے ایسا شرمناک سلوک کہ معاملہ عدالت پہنچ گیا

اسلام آباد کے معروف مونال ریسٹورنٹ کا خاتون سے ایسا شرمناک سلوک کہ معاملہ ...
اسلام آباد کے معروف مونال ریسٹورنٹ کا خاتون سے ایسا شرمناک سلوک کہ معاملہ عدالت پہنچ گیا

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) راولپنڈی کی ایک وکیل نے کھانا دیر سے دینے پر ذہنی اذیت پہنچنے اور شرمندگی اٹھانے پر اسلام آباد کے معروف ریسٹورنٹ ”مونال“ کے خلاف 30 لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا ہے۔ عدالت نے ہوٹل انتظامیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی ہے۔

ٹیلی نار اور بیکن ہاﺅس نے مل کر گینز ورلڈ ریکارڈ بنا ڈالا

درخواست گزار حنا نعمان نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ پیر سوہاوا میں واقعہ مونال ریسٹورنٹ گئی اور کھانے کا آرڈر دیا اور جب اس میں دیر ہوئی تو اس نے احتجاج کیا جس پر ہوٹل کے عملے نے اس کیساتھ بدسلوکی کی اور اسے دھمکایا۔ حنا نعمان نے ہوٹل کے خلاف 30 لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حنا نعمان اپنے بچوں اور دیگر مہمانوں کو لے کر مونال ریسٹورٹ گئی۔ اپنی درخواست میں انہوں نے لکھا ہے کہ انہوں نے چاولوں اور باربی کیو پر مشتمل ”سپیشل گرل فیملی ڈیل“ کا آرڈر دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں مطلوبہ آرڈر کیلئے تقریباً ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا اور اس کے بعد بھی ان کی ٹیبل پر جو کھانا بھیجا گیا وہ آرڈر کے مطابق نہیں تھا۔

وفاقی دارالحکومت میں صارف عدالت میں دائر کی گئی شکایت میں حنا نعمان نے کہا ہے کہ جب انہوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا تو ہوٹل کے عملے نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی ۔ ان کا کہنا ہے کہ ” یہ میرے لئے ذہنی اذیت اور میری فیملی، مہمانوں اور ہوٹل میں موجود دیگر افراد کے سامنے شرمندگی کا باعث بنا۔“

حنا نعمان نے نجی اخبار ”ایکسپریس ٹریبیون“ کو بتایا کہ ہوٹل کے منیجر نے اپنا نام بتانے سے انکار کر دیا اور اپنے نام کی بیج بھی اپنے ہاتھوں سے چھپا لیا۔ انہوں نے اپنی درخواست میں ہوٹل عملے پر ذہنی تشدد، ہراساں، بدسلوکی اوربے عزتی جیسے الزامات عائد کئے ہیں اور ہرجانے کے طور پر 30 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا ہے۔ عدالت نے ہوٹل انتظامیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب جمع کرانے کا حکم دیدیا ہے۔

پنجاب میں آج بھی دھوئیں کے بادل ٹریفک حادثات،3افرادجاں بحق،موٹر وے بند

ریسٹورنٹ کے وکیل جمشید علی خان نے درخواست گزار کے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اگر انہیں آرڈر کے مطابق کھانا ہی نہیں ملا تو پھر انہوں نے بل ادا کیوں کیا۔

حناءنعمان نے تسلیم کیا کہ انہوں نے جزوی طور پر کھانا کھایا تاہم اس کے بعد انہوں نے بل کی رسید طلب کی اور اسے ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش کیا ہے۔

جمشید علی خان کا کہنا ہے کہ صارف عدالت میں شکایت درج کرائے جانے سے پہلے ان ہوٹل انتظامیہ کو کوئی لیگل نوٹس نہیں بھیجا گیا جبکہ حناءنعمان کا کہنا ہے کہ لیگل نوٹس بھیجا گیا تھا تاہم غلط پتے کے باعث واپس آ گیا۔

مزید :

اسلام آباد -