سموگ عالمی روگ،کیسے بچا جاسکتا ہے؟

سموگ عالمی روگ،کیسے بچا جاسکتا ہے؟
سموگ عالمی روگ،کیسے بچا جاسکتا ہے؟

  

نظام الدولہ

لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں اور قصبوں پر چھائی سیاہی مائل دھند کو آلودگی اور تیزابی دھند کہا جارہا ہے جو حقیقت بر مبنی ایسی تلخ اور خوفناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے کہ صنعتی ترقی نے انسان کو جینے اور مرنے کی واضح دھمکی دے دی ہے اور اسکی صحت کو چیلنج کردیا ہے کہ اگر اسے صحت مند رہنا،تازہ ہوا کھانی اور دھند اور کہر کی لطافتوں سے محظوظ ہوکر فطر ت کے قریب تر رہنا اور اسکے مظاہر دیکھنے ہیں،موسموں کے فطری رنگوں سے لطف اندوز ہونا ہے تو اسے ماحولیاتی اور فضائی آلودگی پیدا کرنے والے تمام عناصر کو یا تو ختم کرناہوگا یااس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ وہ آلودگی کے زہریلے اثرات سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

ماحولیاتی و فضائی آلودگی گاڑیوں و فیکٹریوں کے دھویں،گردوغبار ،کچرے کو آگ لگانے سمیت کئی طرح سے جنم لیتی ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سموگ بڑھ رہی ہے، یہ ایشائی ملکوں کا زیادہ تر سنگین مسئلہ بیان کیا جاتا ہے حالانکہ یہ پوری دنیا کا روگ بن چکی ہے۔دیکھا جائے تو دنیا بھر میںآلودگی ختم کرنے کے لئے کاغذی منصوبے بنائے جاتے ہیں ۔جس کی وجہ سے آلودگی کے زہریلے عناصر ہوا کی نمی میں شامل ہوجاتے اور آکسیجن کا لیول کم ہوجاتا ہے۔آکسیجن کے کم ہونے کی ایک بنیادی وجہ درختوں کی کاشت نہ کرنا اور درختوں کی کٹائی ہے۔ہوا میں زہریلی گیسوں کے ملاپ کی وجہ سے جہاں تازہ آکسیجن مفقود ہوجاتی ہے وہاں جب بارش ہوتی ہے تو یہ سموگ فصلوں کی کاشت کے علاوہ انسانوںکے لئے غیر متوقع بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔لہذا ہر ملک کو آنے والے وقت میں سموگ سے بچنے کی تدبیر کرنی ہوگی ۔

اس تدبیر اور احتیاط پر سب سے پہلے عمل ہوجانا چاہئے تھا کیونکہ سموگ اچانک پیدا نہیں ہوئی ۔1952 میں لندن میں سموگ پیدا ہوئی تو اس نے دنیا میں آلارم بجادئےے تھے۔اس وقت لندن دنیا کا ترقی یافتہ شہر تھا جہاں ہزاروں گاڑیاں سڑکوں پر دھواں چھوڑتی تھیں اور فیکٹریوں کا دھواں عام تھا۔ اب یہ عالم ہے کہ امریکہ کے دس بڑے شہروں میں سموگ خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔۔اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں نے کئی دہائیوں سے امریکہ،چین سعودی عرب ایران،انڈیا،پاکستان،مصر ،روس سمیت کئی ملکوں کوٹریفک اورفیکٹریوں کی وجہ سے ایسے ممالک میں شامل کررکھا ہے جہاں سموگ کی مقدار بڑھ چکی ہے۔پاکستان کے چار بڑے شہر،کراچی،لاہور۔کوئیٹہ ،پشاور،میں غیر معمولی طور پر سموگ کی مقدار کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔لاہور میں دوسو مائکروکیوبک فی میٹر کے حساب سے سموگ پیدا ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سموگ سے بچنے کے لئے جہاں حکومت کو آلودگی کے خاتمہ میں سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے وہاں ماحول دوست ایندھن کا استعمال نہایت ضروری ہوچکا ہے۔اس بارے میں حکومت کو دھواں چھوڑنے والی گاڑیوںکو بند کردینا چاہئے اور عوام کو بھی اپنا طرز زندگی بدلنا چاہئے۔ماہرین کے مطابق سموگ دمہ اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لئے انتہائی مہلک ہے ۔ہسپتالوں میں سموگ سے متاثرہ افراد کی تعدا بڑھ رہی ہے لہذا حکومت کو ہر علاقے میں دوا اور احتیاط کے حوالے سے بندوبست کرنا چاہئے۔لاہور کی ٹریفک پولیس نے جسطرح لوگوں میں ماسک کا شعورپیدا کرنے کے لئے مفت ماسک تقسیم کئے ہیں اس طرح کی تحریک عام ہونی چاہئے۔ سموگی علاقوں میں رہنے والوں کو درج ذیل احتیاط برتنی چاہئے۔

٭ منہ پر ماسک چڑھا کر باہر نکلنا چاہئے۔

٭ سانس پھولنے والی ورزش سے گریز کرتے ہوئے ان ڈور ورزش کرنی چاہئے۔

٭ صبح کے وقت درختوں کے نیچے بیٹھ کر ورزش کرنی چاہئے۔

٭جلن کی صورت میں آنکھوں کو پانی سے بار بار دھونا چاہئے۔

٭ طبی ماہرین کی ہدایت پر عرق گلاب کے ڈراپ سے آنکھیں صاف کرنی چاہئےں۔

٭ کمرے میں بھاپ والا پانی رکھ کر ہوا میں نمی پیدا کرنی چاہئے۔

٭ کھانسی اور سانس کی پرابلم میں فوری معالج سے رابطہ کرنا چاہئے۔

٭ گاڑی چلاتے ہوئے شیشے بند رکھنے چاہئےں اور گاڑی کے فین کو ان پٹ پر رکھنا چاہئے تاکہ باہر کی ہوا اندر نہ آسکے۔

٭ سموگ زیادہ نظر آئے تو گاڑی کی ہیڈلائٹس کو آن رکھیں ۔

٭ سموگ زیادہ دن رہنے کی صورت میں وٹامن ڈی کا استعمال کریں مگر اپنے معالج سے پوچھ کر۔کیونکہ اس کی وجہ سے سورج کی روشنی سے حاصل ہونے والی وٹامن ڈی میں کمی ہوجاتی ہے ۔

رونامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -