10 سالہ بچی کو پیٹ درد کی شکایت، ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تو اس نے حاملہ قرار دیدیا، یہ شرمناک ترین کام کس نے کیا؟ ایسا انکشاف کہ جان کر واقعی ہر ماں باپ کے پیروں تلے زمین نکل جائے

10 سالہ بچی کو پیٹ درد کی شکایت، ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تو اس نے حاملہ قرار ...
10 سالہ بچی کو پیٹ درد کی شکایت، ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تو اس نے حاملہ قرار دیدیا، یہ شرمناک ترین کام کس نے کیا؟ ایسا انکشاف کہ جان کر واقعی ہر ماں باپ کے پیروں تلے زمین نکل جائے

  

مہاراشٹرا (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں ’جنسی درندگی‘ کے ہر روز نت نئے واقعات سامنے آتے ہیں اور حکومت کی جانب سے ان کے خاتمے کے بلند و بانگ دعوﺅں کے باوجود بھی ان میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ تاہم اب ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے انسانیت کو ہی شرمندہ کر دیا ہے اور ہر سننے والا دہل کر رہ جاتا ہے۔

ٹیلی نار اور بیکن ہاﺅس نے مل کر گینز ورلڈ ریکارڈ بنا ڈالا

پولیس نے قبائلی بچوں کیلئے بنائے گئے بورڈنگ سکول کے عملے کے 11 افراد کو 10 سالہ لڑکی کے ساتھ ریپ کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے ان افراد نے مزید 10 لڑکیوں کو بھی کئی ہفتوں تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ بھارتی خبر رساں ادارے ”ہندوستان ٹائمز“ کے مطابق ڈسٹرکٹ بلدھانا کے سکول سے گرفتار افراد میں سکول کا ہیڈ ماسٹر بھی شامل ہے جس پر الزام ہے اس نے متاثرہ لڑکی کی شکایت کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب متاثرہ لڑکی دیوالی کا تہوار منانے کیلئے اپنے گھر گئی اور معدے میں درد کی شکایت کی تاہم ڈاکٹر کو چیک کرانے پر انکشاف ہوا کہ لڑکی حاملہ ہے۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس آف بلدھانا سنجے کمار کا کہنا ہے کہ ”ہیڈ ماسٹر کو بھی قانون کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے کیونکہ متاثرہ لڑکی کی جانب سے آگاہ کئے جانے پر اسے لازمی طور پر پولیس کو آگاہ کرنا چاہئے تھا۔“

پولیس نے سپیشل تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ سکول کا ایک چپڑاسی مرکزی ملزم ہے جو مقامی زبانی پر بھی عبور رکھتا ہے اور سکول کا طابق طالب علم بھی ہے۔ پولیس نے متاثرہ لڑکی کا میڈیکل ٹیسٹ کرایا ہے، سنجے کمار کا کہنا ہے کہ ”میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد خاتون پولیس افسر لڑکی سے تحقیقات کرے گی تاکہ حقیقت کا پتہ چل سکے۔“

واقعے کا مقدمہ انڈین پینل کوڈ کے سیکشن 376 اور بچوں کی جنسی حملوں سے حفاظت کے ایکٹ کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔ سکول جسے مقامی طور پر اشرام شالہ کہا جاتا ہے، پوری ریاست میں واقع1000 سکولوں میں سے ایک ہے جنہیں براہ راست ریاستی حکومت چلاتی ہے یا پھر ایسے ٹرسٹ جنہیں حکومت کی جانب سے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ ان اشرام شالہ سکولوں میں تقریبا 4 لاکھ 45 ہزار طالب علم پڑھتے ہیں جن میں سے 2 لاکھ کے قریب لڑکیاں ہیں۔

ہمسایہ ملک میں 8 درندوں کی شوہر کے سامنے اس کی بیگم سے ایسی شرمناک حرکت کہ شیطان بھی منہ چھپانے پر مجبور ہوجائے

اس واقعے کو لے کر ریاست میں سیاست شروع کر دی گئی ہے اور اپوزیشن نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ 10 اور بھی لڑکیاں ہیں جن کے ساتھ سکول میں ریپ کیا گیا ہے۔

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ترجمان نواب ملک کا کہنا ہے کہ ” ایک لڑکی کے حاملہ ہونے اور آواز بلند کرنے کے بعد دیگر لڑکیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ ابتدائی طور پر پولیس نے ان کا مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا لیکن سیاسی مداخلت کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔“

انہوں نے وزیراعلیٰ دیویندرا فدناویس کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اشرام شالہ سکولو ں میں پڑھنے والے تمام لڑکے اور لڑکیوں کا میڈیکل ٹیسٹ ضرور کیا جانا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ”ایسا کرنے سے ہمیں پتہ چلے گا کہ کتنے طالب علم جنسی تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں تاکہ مجرموں کو سزا مل سکے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -