گینگ ریپ کا مقدمہ درج کروانے تھانے گئی خاتون سے پولیس والے نے ایسا شرمناک ترین سوال پوچھ لیا کہ شرماکر دوڑ لگانے پر مجبور ہوگئی، جان کر کوئی بھی کانوں کو ہاتھ لگائے

گینگ ریپ کا مقدمہ درج کروانے تھانے گئی خاتون سے پولیس والے نے ایسا شرمناک ...
گینگ ریپ کا مقدمہ درج کروانے تھانے گئی خاتون سے پولیس والے نے ایسا شرمناک ترین سوال پوچھ لیا کہ شرماکر دوڑ لگانے پر مجبور ہوگئی، جان کر کوئی بھی کانوں کو ہاتھ لگائے

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں اجتماعی زیادتی کی شکار خاتون پولیس کو رپورٹ کرنے گئی تو اہلکاروں نے اس ایسی شرمناک بات پوچھ لی کہ خاتون مقدمہ واپس لینے پر مجبور ہو گئی۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست کیرالہ میں 32سالہ خاتون کو اس کے شوہر کے 4دوستوں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ خاتون کا کہنا تھا کہ ”میرے شوہر کے دوست اس کی غیرموجودگی میں گھر آئے اور کہا کہ وہ ہسپتال میں ہے۔ اس بہانے سے انہوں نے مجھے گاڑی میں بٹھایا اور شہر سے باہر ایک جگہ لے گئے اور مجھے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔“

ہمسایہ ملک میں 8 درندوں کی شوہر کے سامنے اس کی بیگم سے ایسی شرمناک حرکت کہ شیطان بھی منہ چھپانے پر مجبور ہوجائے

خاتون جب اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی رپورٹ کرانے پولیس سٹیشن گئی تو ایک آفیسر نے اس سے شرمناک سوال کیا کہ ”تمہیں ان چاروں میں سے کس نے زیادہ تسکین دی؟“ اس کے علاوہ پولیس نے خاتون پر مقدمہ واپس لینے اور خاموش رہنے کے لیے دباﺅ ڈالا۔خاتون کا کہنا تھا کہ ”مجھے چار دن تک مسلسل تھانے بلایا جاتا رہا اور وہاں صبح سے شام تک بٹھایاجاتا۔ اس دوران مجھے انتہائی ہتک آمیز سوالات پوچھے جاتے اور الزامات واپس لینے کے لیے دباﺅ ڈالا جاتا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے ایک لیٹر دیا اور اسے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کو کہا۔ یہ مقدمہ واپس لینے کا لیٹر تھا۔ انہوں نے مجھ سے کئی کاغذات پر دستخط بھی کروائے۔ میں نہیں جانتی کہ ان میں کیا لکھا تھا۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -