’تحریک انصاف رکاوٹوں والی دوڑ میں حصہ لینے کے قابل نہیں ہوئی‘

’تحریک انصاف رکاوٹوں والی دوڑ میں حصہ لینے کے قابل نہیں ہوئی‘
’تحریک انصاف رکاوٹوں والی دوڑ میں حصہ لینے کے قابل نہیں ہوئی‘

  

تحریر : میاں آصف علی

تحریک انصاف کا اسلام آباد لاک ڈاون کا اعلان ایک مہینے تک موضوع بحث بنے رہنے کے بعد ختم بھی ہو گیا اس ایک مہینے کے دوران کئی اتار چڑھاو بھی آئے اور تحریک انصاف نے اس سے شاید کھویا تو کچھ نہیں البتہ پایا بہت کچھ ہے جس میں سیاسی فائدوں کے علاوہ غلطیوں اور تنظیمی کمزوریوں کا کھل کر سامنے آنا بھی ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگ اسے کپتان کی ناکامی بھی قرار دے رہے ہیں لیکن بطور پولیٹیکل سائنس کے طالب علم میں ایسا بالکل نہیں سمجھتا کیونکہ عمران خان نے رائیونڈ اڈاہ پلاٹ میں حکمرانوں کو احتساب یا گھر جاو کا الٹی میٹم دیا تھا اور وہ بھی ہر ادارے سے مایوس ہونے کے بعد دیا تھا کہ کوئی بھی ادارہ وزیراعظم کا احتساب کرے تو سہی ۔

ویسے پانامہ لیکس کا معاملہ اتنا پرانا بھی نہیں کہ حافظوں سے محو ہو جائے پانامہ لیکس کے سامنے آنے سے لے کر اڈہ پلاٹ کے سفر تک عمران خان نے تقریبا ہر دروازہ ہی کھٹکھٹا کر دیکھ لیا تھا لیکن پارلیمنٹ سے لے کر عدلیہ تک کوئی بھی وزیراعظم کا احتساب کرنے کو تیار نہیں تھا پارلیمنٹ میں تو ٹی او آرز کو لے کر ہی حکمرانوں نے کئی ماہ گزار دیے اور شاید ابھی اور بھی بہت سا وقت گزار دیتے لیکن تحریک انصاف کے اسلام آباد لاک ڈاون کال نے ایسا ہونے نہیں دیا اسلام آباد لاک ڈاون کی کال دینے کے بعد حکومتی ترجمان تحریک انصاف کے سربراہ کو سیاسی طور پر تنہا ثابت کرنے کی  کوشش کرتے رہے واہ رہی تنہائی  کہ پوری قوم عمران خان کے مطالبے کے ساتھ متفق اور پانامہ لیکس پر وزیراعظم کے خاندان کے احتساب پر یکسو کوئی ایک آواز بھی اس مطالبے کی مخالفت میں نہ ابھرے اور پھر بھی تنہائی کا الزام حکمرانوں کی بوکھلاہٹ تو بری طرح عیاں تھی جنہوں نے تحریک انصاف کو احتجاج سے روکنے کے لیے ہر حربہ آزما ڈالا لیکن کامیابی ممکن دکھائی نہیں دے رہی تھی ایسے میں سپریم کورٹ نے اس مسئلے کی تحقیقات کے لیے کارروائی شروع کی تو تحریک انصاف کے وکلاء نے بھی اس پر اعتماد کا اظہار کر دیا 3دن کی مہلت مانگنے والے تو نواز لیگ کے وکلاء تھے جنہیں سپریم کورٹ نے اتنی لمبی مہلت نہ دی اور وہ ہی نواز لیگ جو کمیشن بنانے پر رضا مند نہ تھی اور اپنے ٹی او آرز لاگو کرنا چاہتی تھی اور پانامہ لیکس کے مسئلے کو 1956کے قانون کے تحت احتساب کو  پوری پاکستانی تاریخ تک پھیلانے کے ڈرامے کر رہی تھی اس میں ناکامی ہوئی نواز لیگ اس کمیشن کی رپورٹ کو شائع کرنے یا نہ کرنے اور سزا دینے یا نہ دینے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی تھی جس میں اسے ناکامی ہوئی ہے اس لیے حکومت جتنے مرضی دعوے کر لے ناکامی تو اسی کی ہوئی تحریک انصاف کی نہیں اس لیے انہیں یوم تشکر منانے کا بھی پورا حق  تھا اور بڑا جلسہ بھی کر لیا ایک دن کے نوٹس پر کوئی اور جماعت بھی اتنا بڑا اجتماع کر دکھائے تو ہی مانا جائے گا ۔

 لیکن اس سارے عرصے کے دوران تحریک انصاف کی تنظیمی کمزوریاں اور فاش سیاسی غلطیاں کھل کر سامنے آئی ہیں جنہیں نظر انداز کرنا کسی صورت ممکن نہیں کپتان کو اب ان پر غور کرنا ہی پڑے گا پہلی بات تو یہ کہ تحریک انصاف کی لاک ڈاون اصطلاح سے لے کر اس کی تیاریوں تک سب کچھ ہی غلط تھا لاک ڈاون کے لفظ نے عدالت میں تحریک انصاف کو کمزور کیا اور سیاسی مخالفین نے بھی اس لفظ کو پی ٹی آئی کے خلاف خوب استعمال کیا اور حکومت کو عدالتی احکامات کی آڑ میں تحریک انصاف کے احتجاج کو بری طرح کچلنے کا جواز بھی ملا  حالانکہ اگر لفظ دھرنا، جلسہ یا مارچ استعمال ہوتا تو یہ سب اتنا آسان نہ ہوتا تحریک انصاف کی جانب سے دیگر حکومت مخالف پارٹیوں سے رابطہ کیے بغیر ہی پہلے تو لاک ڈاون کا اعلان کر دیا گیا حالانکہ تحریک انصاف کی احتجاجی تحریکوں  میں عوامی تحریک ، مسلم لیگ ق ، سنی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت مسلمین ہمیشہ ہی حکومت مخالف اور تحریک انصاف کے حامی رہے تھے انہیں اعتماد میں نہ لیے جانے پر صدمہ تو ہوا ہی تھا لیکن بعد میں رابطوں کے نتیجے میں  مسلم لیگ ق ، عوامی تحریک اور سنی اتحاد کونسل نے اسلام آباد لاک ڈاون کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا لیکن جب کپتان نے 2نومبر کو احتجاج نہ کرنے کا اعلان کیا تو ان اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینا تو درکنار ٹیلی فون کر کےآگاہ بھی نہیں کیا جس پر ان کے ساتھ دوریاں پیدا ہونا فطری امر ہے یہ بڑی سیاسی غطی ثابت ہو گی کپتان نے تو اپنے ہر وقت کے اتحادی شیخ رشید کو بھی بتانا مناسب نہ سمجھا ۔

تحریک انصاف کی ایک اور بڑی غلطی کارکنوں کو لانے کی منصوبہ بندی نہ کرنا تھی جب معلوم تھا کہ حکومت شدید مزاحمت کرے گی تو کئی دن پہلے ہی چند ہزار کارکنون کو بنی گالا جمع کر لینا چاہیئے تھا تاکہ حکومت پر پر بھر پور دباو برقرار رہتا   سب قائدین اپنے علاقوں سے بڑے قافلوں کے ساتھ نکلنے کے بجائے بنی گالہ میں واک کرتے رہے حالانکہ اگر شاہ محمود قریشی سندھ سے اپنے لاکھوں مریدین میں سے ہزاروں کو لے کر ہی نکلتے تو سندھ پنجاب بارڈر پر بڑا میلہ لگ سکتا تھا جہانگیر ترین کے لیے چند ہزار لوگوں کے ساتھ ملتان سے نکلنا جنوبی پنجاب کو متحرک کر دیتا اور لاہور میں عبدالعلیم خان ، اعجاز چوہدری ، میاں محمود الرشید ، چوہدری سرور اور دیگر بڑے رہنماء چند ہزار لوگوں کے ساتھ نکلتے تو جی ٹی روڈ پر حکومت انہیں بمشکل ہی روک پاتی لیکن اس کے برعکس یہ سب بنی گالہ جا بیٹھے۔

ان سے زیادہ سمجھ داری کا ثبوت تو سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے دیا جو فیصل آباد میں رہے اور یکم نومبر کو قافلے کے ساتھ روانہ ہونے کا اعلان کر رکھا تھا کہ ایک محاذ فیصل آباد میں کھل جائے لیکن نہ پنجاب سے کوئی قافلہ چلا نہ سندھ سے کوئی کارواں  آیا نہ بلوچستان متحرک ہوا اگر پرویز خٹک بھرپور مزاحمت نہ کرتے تو شاید یہ بھرم بھی باقی نہ رہتا  سوائے شیخ رشید اور پرویز خٹک کے  ہر رہنماء ہی اس امتحان میں فیل ہوا اور تحریک انصاف کا یہ پہلو بھی کھل کر سامنے آ گیا کہ  وہ ابھی تک عوامی تحریک  کی طرح رکاوٹوں والی دوڑ میں حصہ لینے کے قابل نہیں ہوئی  یہ خاصہ ابھی تک صرف عوامی تحریک کا ہی یا پھر کسی دور میں جماعت اسلامی اور پیپلزپارٹی میں دکھائی دیتا تھا  عمران خان کی جانب سے بنی گالا میں گھر سے باہر نہ نکلنا تو ہدف تنقید ٹھہرتا ہی ہے کیونکہ اگر عمران خان ایک بار باہر نکل آتے اور ایک بار مزاحمت یا پولیس کی بدتمیزی کا شکار ہو جاتے  یاگرفتا ہو جاتے تو تحریک میں ایسی روح پھونکی جاتی کہ حکومت کے سنبھالے نہ سنبھلتی لیکن اس سے پہلے شاہ محمود قریشی اور اسد عمر یوتھ کنونشن میں نوجوانوں کی دھلائی کے وقت مزاحمت کے بجائے رفو چکر ہو کر تحریک کا گراف بلندیوں تک لے جانے کا سنہری موقع گنوا چکے تھے۔

ان سب کو شیخ رشید اور پرویز خٹک سے سبق سیکھنا چاہیئے ساتھ ہی تحریک انصاف کو اپنی تنظیمی کمزوریوں کا بھی جائزہ لینا ہو گا جب منتخب پرانے نظریاتی کارکنوں کی جگہ صرف ذاتی پسند ناپسند اور سفارشوں پر عہدے بانٹے جائیں گے تو یہی انجام ہو گا اور عہدے بھی ان لوگوں کو دیے گئے جن کو انٹرا پارٹی الیکشن میں حصہ لینے کی بھی ہمت نہیں ہو سکی تھی اتحادیوں کو اعتماد میں نہ لینے کی روش بھی ترک کرنا ہو گی اور نعیم الحق جیسے لوگ جو اتحادی جماعتوں کو دور کرنے کی دانستہ نا دانستہ کوششیں کرتے ہیں ان کی بھی گوشمالی کرنا ہو گی ورنہ تحریک انصاف بڑی احتجاجی تحریکیں شروع تو کر لے گی لیکن ہر بار حسب منشا نتائج حاصل نہیں کر پائے گی۔

مزید :

بلاگ -