پنجاب سروس ٹربیونل نے کنٹریکٹ ملازمت کو سروس میں شامل کرنے کا حکم دے دیا

پنجاب سروس ٹربیونل نے کنٹریکٹ ملازمت کو سروس میں شامل کرنے کا حکم دے دیا
پنجاب سروس ٹربیونل نے کنٹریکٹ ملازمت کو سروس میں شامل کرنے کا حکم دے دیا

  

لاہور(نامہ نگار)پنجاب سروس ٹربیونل نے کنٹریکٹ ملازمت سے مستقل ہونے والے سرکاری ملازمین کے کنٹریکٹ ملازمت کے عرصے کو سروس میں شامل کرنے کا حکم دے دیاہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کے تجربے اور سینارٹی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔پنجاب سروس ٹربیونل کے جج جواد الحسن کی عدالت میں محکمہ زراعت کے سیکشن آفیسر اسد عباسی مگیسی،نائلہ طیب اور شفیق سلیم وغیرہ نے اپیل دائر کی کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن نے انہیں کنٹریکٹ سے مستقل کرنے کے لئے فٹ قرار دیا مگر سپریم کورٹ کے فیصلے کے برعکس ان کی سرکاری ملازمت مین کنٹریکٹ عرصے کو شامل نہیں کیا گیا جس سےان کی سنیارٹی شیدی متاثر ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ سنیارٹی متاثر ہونے سے انہیں کنٹریکٹ عرصے کی پینشن گریجویٹی اور چھٹیوں سے بھی محروم کردیا گیا ہے جو کہ بنادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب سول سروس ایکٹ کے سیکشن پانچ کے تحت کنٹریکٹ ملازمت کے عرصے کو مستقل نوکری کے عرصے میں شمار نہیں کیا جا سکتا تاہم عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد اپیلیں منظور کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کے کنٹریکٹ ملازمت کے عرصے کو سروس میں شامل کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ کیس بھی سرکاری ملازم کے تجربے اور سنیارٹی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتاہے۔

مزید :

لاہور -