بھارت میں سرکاری سکول کے استاد درندے بن گئے ، درجن سے زائد نابالغ طالبات کو ’’جنسی ہوس ‘‘ کا نشانہ بنا دیا،ہیڈ ماسٹر سمیت 11بھیڑیئے گرفتار

بھارت میں سرکاری سکول کے استاد درندے بن گئے ، درجن سے زائد نابالغ طالبات کو ...
بھارت میں سرکاری سکول کے استاد درندے بن گئے ، درجن سے زائد نابالغ طالبات کو ’’جنسی ہوس ‘‘ کا نشانہ بنا دیا،ہیڈ ماسٹر سمیت 11بھیڑیئے گرفتار

  

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں درندگی کا ایسا شرمناک واقعہ پیش آیا ہے کہ درندے بھی شرما جائیں ،انڈیا کے سرکاری بورڈنگ سکول کے ہیڈ ماسٹر اور 7ٹیچروں نے ’’درس و تدریس ‘‘ کے مقدس پیشے کی دھجیاں بکھیر دیں ،کئی معصوم اور ننھی طالبات کو جنسی ہوس کا نشانہ بنا دیا ،پولیس نے سرکاری سکول میں زیر تعلیم نابالغ طالبات کی آبروریزی کے الزام میں استاد کے روپ میں چھپے ہیڈ ماسٹر سمیت 11درندوں کو گرفتار کرلیا ہے ۔

مزید پڑھیں:8مسلمان نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کرنے پر ہندوستان کے شاہی امام پھٹ پڑے ،بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور انسانی حقوق کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوڑ دیا ,ایسی باتیں کہہ دیں کہ انڈیا کی سلامتی پر کئی سوالیہ نشان لگا دیئے

بھارتی میڈیا کے مطابق  یہ افسوسناک واقعہ ریاست مہاراشٹر میں پیش آیا ، پولیس کا کہنا ہے کہ جرم کی یہ کہانی اس وقت منظر عام پر آئی ہے جب اس بورڈنگ   سکول میں زیر تعلیم 10 سالہ  طالبہ دیوالی کی چھٹیوں پر اپنے گھر گئی اور اپنے والدین سے پیٹ درد کی شکایت کی، طالبہ کو جب ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کیلئے لے جایا گیا تو اس نے لڑکی کی آبروریزی ہونے کی تصدیق کر دی۔ پولیس نے والدین کی شکایت پر فوری ایکشن لیتے ہوئے سکول کے ہیڈ ماسٹر سمیت 11 افراد کو حراست میں لے لیا ہے جن میں ایک خاکروب اور 7 ٹیچرز بھی شامل ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ صرف اسی نابالغ طالبہ ہی نہیں ،ان درندوں نے درجن سے زائد نابالغ طالبات کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا ہے تاہم  ابھی تک کسی اور طالبہ نے پولیس کے سامنے کوئی شکائیت درج نہیں کرائی  لیکن ایک گرفتار ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ اس گروہ نے کئی معصوم طالبات کو کئی بار اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا تھا ، آبروریزی کا شکار ہونے والی ان تمام طالبات کی عمریں 12 سے 14 سال کے درمیان ہیں،اس سرکاری بورڈنگ سکول میں 105طالبات زیر تعلیم ہیں ۔ننادھی آشرم نامی یہ سرکاری بورڈنگ سکول ممبئی سے 500 کلو میٹر دور  بلڈانا کے قبائلی علاقے ہورھیڑ میں قائم ہے جہاں غریب قبائلی بچیوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔مہارا شٹر حکومت نے اس شرمناک واقعہ کے بعد ایک اعلیٰ خاتون پولیس آفیسر کی سربراہی میں  خصوصی تحقیقاتی کمیٹی  تشکیل دے دی ہے جو  لڑکیوں کے دیگر بورڈنگ سکولوں  کے بارے میں بھی تحقیقات کریں گی  کیونکہ اس طرح کی شکایات دیگر سکولوں سے بھی رپورٹ ہو رہی ہیں ۔ 

مزید :

بین الاقوامی -