بڑے عرب ملک میں ہزاروں پاکستانیوں کا روزگار شدید خطرے میں، وہ کام جو سب سے زیادہ پاکستانی شہری کرتے ہیں مقامی شہریوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ

بڑے عرب ملک میں ہزاروں پاکستانیوں کا روزگار شدید خطرے میں، وہ کام جو سب سے ...
بڑے عرب ملک میں ہزاروں پاکستانیوں کا روزگار شدید خطرے میں، وہ کام جو سب سے زیادہ پاکستانی شہری کرتے ہیں مقامی شہریوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ

  

ابوظہبی (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب ممالک میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کی بڑی تعداد کا روزگار ٹیکسی ڈرائیونگ سے وابستہ ہے، لیکن بدلتے ہوئے حالات میں یہ شعبہ بھی غیر ملکیوں کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے حکام بھی نئے اقدامات کی تیاری کررہے ہیں، جس کے بعد ابوظہبی میں ٹیکسی ڈرائیونگ کا کام اماراتی شہریوں کے ہاتھ آ جائے گا، جس کا براہ راست اثر غیر ملکیوں کے روزگار پر پڑے گا۔

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق ابوظہبی کی ٹیکسی ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے عنقریب نئے ضوابط متعارف کروائے جانے کی توقع کی جارہی ہے۔ ٹرانس اے ڈی کمپنی کے جنرل منیجر محمد الگامزی نے اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے کہا ”ہمارے لئے اب چیلنج یہ ہے کہ ہم اماراتی شہریوں کو ٹیکسی چلاتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، اور ہماری خواہش ہے کہ وہ اس معزز پیشے کو اختیار کریں۔ ہم اس منصوبے کو عمل جامہ پہنانے کے لئے ایک ماڈل کی تیاری پر کام کررہے ہیں اور درست وقت کے منتظر ہیں۔“

40 دن بعد سعودی عرب میں تمام غیر ملکی ملازمین کو زندگی کا سب سے بڑا دھچکا لگنے والا ہے! تیاریاں مکمل کرلی گئیں

رپورٹ کے مطابق اس وقت دارالحکومت میں 7645 ٹیکسیاں چل رہی ہیں، جنہیں سات مختلف فرنچائز کمپنیاں آپریٹ کرتی ہیں۔ ان سات کمپنیوں کے پاس 10ہزار ڈرائیور کام کرتے ہیں، تاہم ان میں سے فی الحال کوئی بھی اماراتی شہری نہیں ہے۔ ریگولیٹر ادارے کی جانب سے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر ابوظہبی میں ٹیکسی کا کرایہ بڑھانے پر بھی غور کیا جارہا ہے تاہم اس فیصلے کا نفاذ اعلیٰ حکام سے منظوری کے بعد کیا جائے گا۔

مزید :

عرب دنیا -