سینیٹ نے 10دن کے اندر حکومت سے نیشنل بینک سے 360ارب کے قرضے لینے اور معاف کرانے والوں کی تفصیلات مانگ لیں

سینیٹ نے 10دن کے اندر حکومت سے نیشنل بینک سے 360ارب کے قرضے لینے اور معاف کرانے ...
سینیٹ نے 10دن کے اندر حکومت سے نیشنل بینک سے 360ارب کے قرضے لینے اور معاف کرانے والوں کی تفصیلات مانگ لیں

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے نیشنل بنک آف پاکستان کی جانب سے دیئے گئے360ارب قرضے کی تفصیلات اور گزشتہ 5 سال کے دوران 5 ملین یا اس سے زیادہ کے قرضے لینے والوں اورقرضوں کی واپس ادائیگی اور قرضہ معاف کروانے والوں کی تفصیل ایوان بالا کو فراہم نہ کرنے پرحکومت کو 10 دن کے اندر معلومات فراہم کرنے اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی سے آگاہ کرنے کی رولنگ دے دی، کسی بھی قانون و قاعدہ کے تحت کوئی بھی فرد ،ادارہ اور حکومت پارلیمان سے تفصیلات کو مخفی نہیں رکھ سکتی،حکومت خاص طور پر وزارت خزانہ نے جن قوانین کا سہارا لیا ہے جو کہ بلا جواز اور غلط ہے، پارلیمان سے جان بوجھ کر معلومات کو چھپانے سے اس ایوان اور اس کے ارکان کا استحقاق مجروح ہوا ہے ۔

مزید پڑھیں: عمران خان کی ڈاکٹر بابر اعوان سے ملاقات، پانامااور سکیورٹی لیکس کا جائزہ لیا

چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے نیشنل بنک آف پاکستان کی جانب سے مختلف افراد اور کمپنیوں کو دیئے گئے اور معاف کروائے گئے قرضوں کی فہرست ایوان بالاء کو فراہم نہ کرنے کے حوالے سے اپنی رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قانون و قاعدہ کے تحت کوئی بھی فرد ،ادارہ اور حکومت پارلیمان سے تفصیلات کو مخفی نہیں رکھ سکتا اور حکومت خاص طور پر وزارت خزانہ نے جن قوانین کا سہارا لیا ہے جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ تفصیلات ذاتی نوعیت کی ہیں اور بنکنگ کمپنی آرڈینینس1962 کے سیکشن 33-A اور تحفظ اقتصادی اصلاحات ایکٹ 1992 کے سیکشن 9کے تحت قرض دہندگان کو تحفظ حاصل ہے جو کہ بلا جواز اور غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان سے جان بوجھ کر معلومات کو چھپانے سے اس ایوان اور اس کے ارکان کا استحقاق مجروح ہوا ہے ۔تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وزیر قانون و انصاف کے مو قف کی روشنی میں نیشنل بنک حکومت کے ذریعے 10 دن کے اندر اس ایوان کو معلومات فراہم کرے کہ نیشنل بنک اور وزارت خزانہ کے وہ کون سے افراد تھے جنہوں نے پارلیمان کو غلط معلومات اورجواب دیا اور ان افراد کے خلاف کیا کاروائی کی گئی ہے ؟ میاں رضا ربانی نے کہا کہ آئین پاکستان 1973 کے تحت پارلیمان دوسرے اداروں سے ایک مختلف نوعیت کا ادارہ ہے اور آئین کے آرٹیکل66 کی شق (3 )یہ بتاتی ہے کہ کوئی بھی معلومات صدارتی حکم نامے کے تحت تو روکی جا سکتی ہیں نہ کی پارلیمنٹ کے ایکٹ کے تحت ، تحفظ اقتصادی اصلاحات ایکٹ 1992کے سیکشن 9اور بنکنگ کمپنیز آرڈینینس1962کے سیکشن33-Aکی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ یہ قوانین کسی طرح سے بھی عوامی اہمیت کی معلومات اور تفصیلات طلب کرنے میں پارلیمان کے اختیارات کے رستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتے اور نہ کبھی بنے ہیں ۔قرض دہندہ گان کے ناموں کی معلومات نہ تو بنکنگ ٹرانزیکشن سے متعلق ہیں اور نہ ہی اس کا تعلق صارفین کے معاملات کے متعلق معلومات لینا ہیں۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -