مودی اور نواز شریف میں ذاتی دوستی ہے،ڈان لیکس میں نواز شاہی فیملی ملوث ،صوبوں کو آپس میں لڑانا دشمن کا ایجنڈاہے:عمران خان

مودی اور نواز شریف میں ذاتی دوستی ہے،ڈان لیکس میں نواز شاہی فیملی ملوث ...
مودی اور نواز شریف میں ذاتی دوستی ہے،ڈان لیکس میں نواز شاہی فیملی ملوث ،صوبوں کو آپس میں لڑانا دشمن کا ایجنڈاہے:عمران خان

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ مودی اور نواز شریف میں ذاتی دوستی ہے،مودی پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا چاہتا ہے،صوبوں کو آپس میں لڑانابھی دشمن کاایجنڈا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اے آر وائے نیوز کے پروگرام "پاور پلے میں "گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ڈان لیکس میں نواز شاہی فیملی ملوث ہے،ڈان لیکس میں وہ باتیں کی گئیں جو مودی، اسرائیلی لابی کرتی ہے۔بھارت نے متنازعہ خبر کو اخبار کے فرنٹ پیج پر چھپوایا،یسی خبریں لیک کرواکر اپنی کرپشن بچانے والے غدار ہیں۔حکومت کو ڈر ہے کہ اگرڈان لیکس کے معاملے میں ایکشن لیا گیا تو کڑی نواز فیملی کی طرف جائے گی ۔ڈان لیکس کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے،اس انکوائری میں جو ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا۔آج پاکستان کو استحکام کے لئے فوج کی سخت ضرورت ہے۔جلسوں اور دھرنوں کے بعد سے پاکستان کے عوام میں تبدیلی آگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاناما لیکس میں مریم نواز کی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں،جبکہ نواز شریف نے کہا تھا کہ مریم نواز میرے زیر کفالت ہے،اگر مریم ان کے زیر کفالت ثابت نہ ہوئیں تو نواز شریف نا اہل ہو جائیں گے۔یہ بہت دنوں سے جھوٹ بول رہے ہیں اور پکڑے جا رہے ہیں۔ہر جھوٹ میں ان کی پکڑ ہوتی جائے گی اورایک دن سچ سب کے سامنے آجائے گا۔ان کو جمہوریت کا کچھ نہیں پتہ،یہ سب ڈکٹیٹر شپ کی پیداوار ہیں۔ان کا ہنا تھا کہ میں 20سال سے ان کے خاندان کی کرپشن کی نشاندہی کر رہا تھا،1998میں مے فیئرکے سامنے کھڑے ہوکر مظاہرہ بھی کیاتھا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف جبری بیان لیا گیا غلط ہے،نواز شریف باہر چلے گئے تھے تو اسحاق ڈار نے سچائی بیان کی تھی،اس نے نواز شریف کے گناہوں سے بچنے کے لئے حلف نامہ دیا تھا۔بی بی سی نے بھی ایک ڈاکیومنٹری میں بتایا کہ کیسے نواز شریف کا پیسہ منی لانڈرنگ ہوا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بانی ایم کیو ایم سے بڑا اس ملک کا دشمن کوئی نہیں ہے ،جب عمران فاروق قتل ہوا تو مجھے پتہ تھا کہ الطاف حسین نے کروایا ہے۔سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اس ملک کے ادارے تباہ ہو گئے ہیں،عظیم طارق کی بیوہ نے بتایا کہ قاتلوں نے ہی جنازہ اٹھایا ہوا تھاجبکہ 3سال ہوگئے اصغر خان کیس کی ابھی تک تحقیقات چل رہی ہیں۔حکومت نے تمام اداروں کو اپنے قابو میں کیا ہوا ہے،پنجاب پولیس کو اپنا گلو بنایا ہوا ہے،سندھ کی پولیس پر بھی لوگوں کو اعتماد نہیں رہا۔احتجاج کرنا سب کا حق ہوتا ہے،مجھے غیر قانونی طور پر بنی گالہ نظر بند کیا گیا جبکہ عورتوں سے بھی زیادتی کی گئی اور نو جوانوں کو زبر دستی پکڑ کر لے گئے۔شکر ہے علی امین گنڈا پور پر بھینس چوری کا الزام نہیں لگایا گیا،یہ سب حکومتی پروپیگنڈا کیا گیا تھا کہ کے پی کے سے اسلحہ لایا گیا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ موٹروے پر کنٹینرز رکھنے کی وجہ سے ایک فوجی افسر کی شہادت بھی ہوئی،کرنل شاہد کی فیملی کو حکومت کے خلاف مقدمہ کرنا چاہیے۔وزیر اعلی کے پی کے پرویز خٹک کو  آئی جی پنجاب ،نواز شریف اورشہباز شریف پر کیس کرنا چاہیے ،وزیر اعلی پر شیلنگ کے دوران نو جوانوں کی آنکھوں میں آگ چل رہی تھی ۔

مزید :

اسلام آباد -