سماگ (Smog) اور اس کے عسکری مضمرات!

سماگ (Smog) اور اس کے عسکری مضمرات!
سماگ (Smog) اور اس کے عسکری مضمرات!

  

2نومبر کو پاکستان کے سیاسی افق پر سے تو اگرچہ ایک حد تک فاگ (Fog) چَھٹ گئی تھی لیکن ماحولیاتی افق پر تمام دن (خصوصی طور پر لاہور کی فضاؤں میں) سماگ (Smog) چھائی رہی۔ اگرچہ سماگ کی کچھ تفصیل کل کے میڈیا پر آ چکی ہے لیکن قارئین کی ’’مزید آگہی‘‘ کی خاطر درج ذیل سطور پر اس موضوع پر کچھ مزید تبصرہ کرنا چاہتا ہوں!

پہلے تو سما گ اور فاگ کے لغوی معانی پر غور کیجئے۔ فاگ کو اردو میں ’’دھند‘‘ کہا جاتا ہے۔ فاگ آبی بخارات سے لدا پھندا وہ بادل ہوتا ہے جو عموماً شام سے پہلے زیریں فضا (Lower Atmosphere) میں پھیل جاتا ہے۔ اس سے یہ ہوتا ہے کہ شام سے پہلے شام پڑ جاتی ہے اور حدِ بصارت کم ہو جاتی ہے۔

جوں جوں شام ، رات میں اور رات آدھی رات میں تبدیل ہوتی ہے اس فاگ کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ آپ کی طرح مجھے بھی بارہا سردیوں میں اسلام آباد سے لاہور آتے ہوئے رات کو دھند کی ایسی ایسی دبیز (Heavy) چادروں سے پالا پڑا ہے کہ گاڑی ڈرائیو کرنا ممکن نہ رہا۔ ان ایام میں جن جن شہروں میں دھند کا یہ عالم رہتا ہے، ٹریفک کے جان لیوا حادثوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ فاگ ایک قسم کے وہ آب آلود مہین اور خاکی ذرات ہوتے ہیں جو زمین سے اوپر رہیں تو بادل بن جاتے ہیں اور نیچے آ جائیں تو ’’دھند‘‘ کہلاتے ہیں۔۔۔لغوی کے علاوہ اس لفظ کو بعض مرادی اور محاوراتی معانی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے مثلاً ’’جنگ کی دھند‘‘ (Fog of War) ایک عام عسکری اصطلاح ہے جس کا معنی ہے جنگ کی اوٹ یا جنگ کا پردہ۔۔۔ باور کیاجاتا ہے کہ 1980ء کے عشرے میں پاکستان نے افغانستان کی ’’جنگ کی دھند میں‘‘ اپنا جوہری پروگرام ڈویلپ کیا۔ شاعروں نے بھی دھند کو ’’حسبِ توفیق‘‘ استعمال کیا ہے۔ امیر مینائی کہتے ہیں:

چہرہ ہے یوں نقاب میں الجھا ہوا امیرؔ

دھندلا رہا ہو، منظرِ شفاف جس طرح

یہی باریک آبی ذرات اگر شام کی بجائے علی الصبح بوجھل ہو کر فضا سے زمین پر گر جائیں تو ’’کہر‘‘ کہلاتے ہیں اور انگریزی زبان میں (Haze) نام پاتے ہیں۔ اس سے بھی حدِ بصارت (Visibility) بہت محدود ہو جاتی ہے۔ گاڑیوں کی رفتار کم کرنی پڑتی ہے اور سورج نکلنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اگر کہر کی چادر زیادہ دبیز ہو تو دوپہر بھی شام کا سماں باندھ دیتی ہے۔ سردیوں میں کہر آلود موسم کا نظارا عام دیکھنے کو ملتا ہے۔ خوشی محمد ناظر کی مشہور نظم ’’جوگی‘‘ کا شعر ہے:

چیلوں نے جھنڈے گاڑے تھے، پربت پر چھاونی چھائی تھی

تھے خیمے ڈیرے بادل کے، کہرے نے قنات لگائی تھی

انگریزی زبان میں دھند (Fog) اور کہر (Haza) کے علاوہ اس موسمی کیفیت کو عمومی طور پر ایک اور لفظ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے جو Mist کہلاتا ہے، جس میں کہر اور دھند کے دونوں معانی پائے جاتے ہیں، اوقاتِ صبح و شام کی تمیز نہیں ہوتی اور حدِ بصارت بھی کم و بیش ہوتی رہتی ہے۔

تاہم سماگ (Smog) مندرجہ بالا تینوں موسمی کیفیتوں سے الگ ایک جداگانہ کیفیت کا نام ہے۔ یہ لفظ دراصل Smoke اور Fog کا مرکب ہے جسے مختصر کرکے (Smog) بنا دیا گیا ہے۔ سماگ، آلودہ ہوا کا وہ بادل ہے جو کاروں، فیکٹریوں اور جنگل کی آگ کے دھوئیں سے بنتا اور فضا میں پھیل جاتا ہے۔ جن شہروں میں گاڑیوں کا ٹریفک زیادہ ہو یاان کے آس پاس کارخانوں اور فیکٹریوں کی بہتات ہو یا گردونواح کے جنگلات میں مسلسل آگ لگی رہے تو اس کے دھوئیں کے اثرات ’’سماگ‘‘ کی صورت میں فضا میں پھیل جاتے ہیں۔ آپ نے دیکھاہو گاکہ چین کے بڑے بڑے شہروں مثلاً بیجنگ اور شنگھائی میں بعض ایام میں ایک دھند سی چھائی رہتی ہے، یہی سماگ ہے۔ اس سے آنکھوں کی بینائی متاثر ہوتی ہے ، اور سانس لینے میں دشواریوں کا سامنا ہوتا ہے۔عجیب بات ہے کہ خدا نے تو انسان کو صاف شفاف اور پاکیزہ ہوا عطا کی تھی جس کو اس نے اپنی ضرورتوں کے تحت گدلا اور زہریلا بنا دیا۔۔۔ صنعت و حرفت کی ترقی کے شانہ بشانہ صحت اور فضائی آلودگی کی یہ تنزّلی گویا لازم و ملزوم حقیقتیں ہیں!

ہم سب نے سکول میں سائنس کی ابتدائی کلاسوں میں ہوا (Air) کے دو اہم اجزاء یعنی آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بارے میں تو پڑھ رکھا ہے۔ لیکن آلودہ ہوا کے تین مزید اجزاء ایسے بھی ہیں جو انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں، ان کے نام (1) سلفر ڈایا آکسائیڈ ۔۔۔ (2) نائٹروجن آکسائیڈ ۔۔۔ اور (3) کاربن مونو آکسائیڈ ہیں اور یہ تینوں گیسیں کاروں اور فیکٹریوں کی دھوئیں سے خارج ہوتی ہیں۔ ہمارے اردگرد کی ہوا کی آلودگی یا شفافیت کا براہ راست تعلق ان اجزاء کی کمی بیشی سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن امسال لاہور کے گردونواح میں بالخصوص سماگ کی مقدار گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ گھنی اور گہری ہو گئی ہے۔ کل تو نہ صرف یہ کہ لاہور کی سڑکوں پر چلتے پھرتے لوگوں کی آنکھیں خارش زدگی کا شکار تھیں بلکہ حساس حسِ شامہ (Smelling Sense) رکھنے والے حضرات نے محسوس کیا ہوگا کہ ایک ناگوار (Repugnant) سی بُو بھی رات گئے تک فضا میں پھیلی رہی، جیسے کہیں گندھک جل رہی ہو یا جیسے بڑی تعداد میں کوئلے کی بھٹیاں دھواں باہر پھینک رہی ہوں۔ اس ابتلا سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ بلا ضرورت باہر نہ نکلیں، آنکھوں اور ہاتھوں کو بار بار صاف پانی سے دھوتے رہیں، بچوں کو سکول نہ بھیجیں اور اگر باہر جانا ہی پڑے اور موٹر سائیکل یا چنگ چی/ رکشا کی سواری کرنی پڑے تو ماسک کا استعمال ضرور کریں اور ہاں ساتھ ساتھ بارش کی دُعا بھی مانگتے جائیں۔

یکم نومبر(2016ء) کو ناسا (NASA) نے بھارتی پنجاب کے ان اضلاع کی خلائی تصاویر شائع کی ہیں جو پاکستانی پنجاب کے نزدیک واقع ہیں اور جن میں امرتسر، فیروز پور،ہریانہ، ترن تارن، پٹی، جالندھر اور پٹھان کوٹ کے کئی علاقے شامل ہیں۔ان تصاویر میں ایک وسیع و عریض ایریا کو آگ کے شعلوں میں لپٹا دکھایا گیا ہے۔ یہ آگ بھارت کے کسانوں نے لگائی ہے۔ بعض اوقات پاکستانی کسان بھی ایسا ہی کرتے ہیں لیکن ان کی تعداد اور علاقوں کا رقبہ بھارت کے مقابلے میں بہت محدود ہوتا ہے۔ بھارت نے تو اس سال(نجانے کس کے کہنے پر) فصلوں کو اس کثرت سے آگ کی نذر کیا ہے کہ گزشتہ سارے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔ یہ آگ عموماً کھیتوں میں فصلوں کے دشمن کیڑوں مکوڑوں کو تلف کرنے کی غرض سے لگائی جاتی ہے۔ اس آگ کی راکھ سے کھاد کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا جی ٹی روڈ اور موٹروے کے اطراف میں غیر ضروری علاقوں میں جو سرکنڈے اُگے ہوتے ہیں، اُن کو آگ لگا دی جاتی ہے تاکہ آئندہ برس ان کی نمو (Growth) میں زیادہ اضافہ ہو۔ یہی کچھ بھارت نے بھی کیا ہے۔ مگر اس برس کہا جاتا ہے کہ ان بھارتی شہروں کی میونسپل کارپوریشنوں نے انسانی فضلات اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیر بڑی تعداد میں ان کھیتوں میں پھینک دیئے تھے، جن کو جلانا مقصود تھا۔ یہ جو آپ کو ’’سماگ‘‘ میں گندھک جیسی بدبو سونگھنے کو مل رہی ہے وہ سرحد پار سے آنے والی وہی ’’خوشبو‘‘ ہے جس کا استعمال مودی سرکار نے ’’ازراہِ مہربانی‘‘ پاکستانی پنجاب کے شہریوں کے لئے دان کیا ہے۔ اس سماگ سے پاکستان کے جو اضلاع زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ان میں لاہور تو پیش پیش ہے ہی، اس کے علاوہ راولپنڈی، اسلام آباد، جہلم، گوجرانوالہ، فیصل آباد، اوکاڑہ، پاکپتن، ملتان، خانیوال اور ساہیوال بھی شامل ہیں۔ مَیں نے سطور گزشتہ میں ناسا کی جن تصاویر کا حوالہ دیا ہے۔ وہ یکم نومبر2016ء کو وائرس (VIIRS) انسٹرومنٹ سے NPP پر کھینچی گئی ہیں۔ اگر قارئین اس کی مزید تفصیلات جاننا چاہیں تو نیٹ پر جا کر (Lynn Jennen) ٹائپ کر کے دیکھ اور پڑھ سکتے ہیں!

لیکن بھارت کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ ’’گیس وار فیئر‘‘ دو دھاری تلوار بھی ہے۔۔۔۔پہلی جنگِ عظیم میں جرمنوں نے بڑے پیمانے پر کلورین گیس کا استعمال کیا تھا۔ اس گیس اٹیک میں جو برطانوی اور فرانسیسی ٹروپس ہلاک اور زخمی ہوئے تھے ان میں برٹش انڈین آرمی کے ٹروپس بھی شامل تھے۔ یہ محدود علاقے جن کو جرمنوں نے اس گیس اٹیک کے لئے منتخب کیا تھاوہ فرانس میں ایپرس (YPRES) کے محاذ کا شمال مشرقی کو نہ تھا، جہاں برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کے ٹروپس خندقوں میں مورچہ زن تھے۔ یہ حملہ22اپریل1915ء کو صبح سویرے پانچ بجے کیا گیا تھا۔ اس حملے میں اتحادیوں کے جانی نقصانات70752تھے۔

اس گیس وار فیئر کے اثرات بہت تباہ کن تھے اِس لئے اسے دوبارہ نہ تو جرمنی نے استعمال کیا اور نہ ہی اتحادیوں نے بلکہ جنگ کے خاتمے کے بعد جو لیگ آف نیشنز(مجلسِ اقوام) تشکیل دی گئی اس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ جنگ میں زہریلی گیس کا استعمال ممنوع ہوگا۔ آج اس فیصلے کو ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ چھپ چھپا کر تو کہا جاتا ہے کہ صدام حسین اور بشار الاسد نے اپنے باغیوں کے خلاف زہریلی گیس کا استعمال کیاہوگا لیکن ایک تو یہ استعمال بہت محدود ہوگااور دوسرے اس کو زیادہ وسیع رقبے پر نہیں پھیلایا گیا ہوگاوگرنہ اس کے بھیانک نتائج کا تصور حد درجہ ہولناک ہوتا۔۔۔۔یہ موضوع ایک الگ کالم کا تقاضا کرتا ہے۔ وقت ملا تو انشا اللہ اس گیس وار فیئر کی کچھ تفصیل سویلین قارئین کے سامنے رکھوں گا۔(فوجیوں کو اس کا بخوبی علم ہے) اس طریقۂ جنگ کی مکمل بندش کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہ دو دھاری تلوار تھی۔ اس میں ہوا کے رُخ کا بہت زیادہ ہاتھ تھا۔ اگر ہوااپنے ٹارگٹ کی بجائے اچانک حملہ آور ٹروپس کی طرف چلنا شروع ہو جائے تو یہ گویا ’’حمل�ۂ معکوس‘‘ بن جاتا ہے۔یعنی بجائے دشمن پر حملہ کرنے کے حملہ آور خود ہی اس حملے کا شکار ہو جاتا ہے۔

اگر بھارت کے کسی جنگی تزویر کار نے سموگ (Smog) کو عمداً پاکستان کی فضاؤں کو آلودہ کرنے کے لئے استعمال کیا ہے تو اس کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ ہوا کا رُخ مشرقی پنجاب سے اگر مغربی(پاکستانی) پنجاب کی طرف ہو سکتا ہے تو یہ رخ اچانک دہلی کی طرف بھی ہوسکتا ہے اور یوں شکاری خود بھی شکار ہو سکتا ہے۔پہلی جنگ عظیم میں گیس وار فیئر کو اسی لئے آئندہ کی جنگوں میں ممنوع قرار دیا گیا تھا۔بر صغیر میں اکتوبر کے اواخر اور نومبر/دسمبر کے مہینوں میں ہواؤں کا رخ عموماً مشرق سے مغرب کو ہوتا ہے۔لیکن ہواؤں کا کیا اعتبار؟۔۔۔ فارسی زبان کے کسی شاعر کا یہ بے مثال شعر یاد آ رہا ہے کہ:’’اے محبوب! مَیں نے تمہارے وصل کی خوشخبری میں تمام رات اپنی آنکھوں کا دیا جلائے رکھا۔لیکن یہ چراغ ہواؤں کے رخ پر ہو گیا اِس لئے میری ہی آنکھوں کو ’’فیضیاب‘‘ کرتا رہا اور تمہارے وصل کا مژدہ ایک خواب ہی رہا‘‘:

بہ شوقِ مژدۂ وصلِ تو، تا سحر ہمہ شب

براہِ باد نہادم، چراغِ روشنِ چشم

مزید :

کالم -