A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

ہم مرتے گئے جوں جوں ٹیکس بڑھتا گیا         

ہم مرتے گئے جوں جوں ٹیکس بڑھتا گیا         

Nov 04, 2017 | 13:49:PM

ڈاکٹر شاہد صدیق

قرض کے لئے قریہ قریہ کونا کونا خوار ہونے والے – جب قرض کی ادائیگی کے لئے  غریب  اور متوسط طبقہ  پہ ٹیکس ، کچھ اور ٹیکس   کے بوجھ لاد تے خود لوٹ مار کے الزامات پہ  احتساب عدالتوں میں اپنے لئےرحم مانگتے ہیں تو   دانش و فہمیدہ  کے مالک دنگ رہ جاتے ہیں- قرض جس کے بوجھ سے پناہ مانگتا ایک سچا مسلمان تنگ دستی کا بوجھ اٹھاتا  جب مر جاتا ہے تو اسکی تدفین سے پہلے  قرض کی ادائیگی کے متعلق احکامات کون نہیں جانتا- یہاں تک کہ   صحیح مسلم  میں حدیث ِ پاک ہے کہ اللہ کے راستے میں جان دینے والے کے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں سوائے قرض کے – تو پھر قرض لینا  ہمارے حاکموں کی نظر میں اتنا مستحسن عمل کیوں ہے   جب کہ ان حاکموں  اور ملک کے امراء کے بیرونِ ملک  بنک اکاؤنٹس ، محلات ، فلیٹس اور  رہن سہن  قرض دینے والوں کو بھی شرماتے ہیں  –  ملک کے واجب الادا قرض سے کئی گنا  زیادہ اس ملک کی لوٹ مار سے کمایا پیسہ دوسرے ممالک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے  جن سے قرض لینے ہم ان کے در پر سائل بنے نظر آتے ہیں- یہ لیا قرض کیا واقعی  وطن کی ترقی پہ بھی لگتا ہے کہ واپس انہی اکاؤنٹ میں  منتقل ہو جاتا ہے جنہیں ہم  روز کوستے نہیں تھکتے ہیں –

 میں یہ نہ کہتا اگر میں نے اپنے معصوم اور سادہ دل صدرِ پاکستان کے یہ الفاظ نہ سنے ہوتے کہ جن   میں وہ خود کہتے  ہیں اور حیران  بھی ہیں کہ کہاں جاتی ہے  قر ضوں پہ لی اربوں کھربوں کی یہ دولت- بنوں میں ایک یونیورسٹی میں خطاب کے دوران ان کا  بیان اس سادہ لوح کی  فکر کا عکاس ہے کہ کہاں گئے اس حکومت کے لئے گئے 16 ہزار ارب  روپے– نہ کوئی ڈیم بنا ، نہ ہی کوئی یونیورسٹی   بنی اب ان کو کون یہ سمجھائے  یہ سوال تو ان کی عوام بھی ایک عرصہ سے پوچھ رہی ہے – سڑکوں پہ بچے جنتی بیٹیاں پوچھتی ہیں- غریب کے آنسو پوچھتے ہیں- فیس اور  روزگار  سے محروم ملک کے طالب علم  جوان پوچھتے ہیں- ایک محنت کش پوچھتا ہے – ایک دہقان پوچھتا ہے – اجڑا صنعت کار پوچھتا ہے  اور بال بال قرض میں ڈوبا  ساراپاکستان پوچھتا ہے- ایک طرف بڑھتی ہوئی  بھوک پوچھتی ہے اور  کسی کے اثاثوں میں نوے گنا اضافہ  کے داخل  کئے گئے جواب  بھی خود اپنے آپ سے یہی سوال  پوچھتے  نظر آتے ہیں کہ غریب ہی غریب تر کیوں ہے- ورلڈ بنک  اور آئی ایم ایف کا دباؤ کیوں اس کا ہی خون نچوڑ رہا ہے –  ایک بجٹ جون میں آیا تھا اور ایک بجٹ ہر ماہ آتا ہے – اس ماہ کے بجٹ میں دودھ اور  دوسری ضروریاتِ زندگی پہ لگے ٹیکس نے تو  عام آدمی کو پوچھنے پہ مجبور کر دیا ہے کہ آپ کی  ذمہ داریاں کیا ہیں – جب ٹماٹراور پیاز کی گرانی میں  افغانستان سے درآمد شدہ  ٹماٹر پاکستان کے چولہوں پہ  چڑھتے ہیں تو کیا آپ کے لئے  بھوکی کوکھ سے دوائیں نکلتی ہیں شاید آپ کا وہم ہے – قرضوں کی شرائط  اور  اس کی ادائیگی کے لئے  25 ارب روپے عام آدمی کی جیب سے نکالنے کا جو سامان کیا گیا ہے وہ آپ کے دامن سے لگا  التجا کرتا ہے کہ  اس دفعہ غریبوں کے غم میں رونے  اور صبح شام ترقی کے حسین خواب دکھانے  کی بجائے  آپ بھی اپنے اکاؤنٹس کا بوجھ ہلکا کر لیجئے اور دے دیجئے اس کارِ خیر میں رتی بھر  جس کا پیٹ بھرتے بھرتے  ہمارے   حوصلے اور اعصاب جواب دیتے جاتے ہیں- آپ کی ایمانداریوں کی داستانیں تو زبانِ زد عام ہیں – سنا ہے کہ ہر ترقیاتی کا م  کے  زمرے    میں آتے پل اور سڑکیں   بناتے ٹھیکوں  میں آپ کے حصے کا بھی بخوبی خیال رکھا جاتا ہے اور یہ بھی شنید ہے کہ  ملکی بینکس  جو گھر گھر کریڈٹ کارڈز اور کار لیزنگ کرتے تھے ہیں اب آپ کو قرض ، کریڈٹ کارڈز  اور  دوسری سہولیات دیتے ہوئے گھبراتے ہیں اگر یہ درست ہے تو اس کی وجہ آپ ہی ہمیں بتا سکتے ہیں کہ اس بد اعتمادی کی وجہ کیا ہے کیونکہ اگر میں  ماضی کے بند دریچے کھولوں گا تو کئی  نام نہاد شرفاء کے نام آئیں گے جنہوں نے بنک سے قرض لے کر الیکشن لڑا اور  انتخابات خریدتے ہی اوہ جیتتے ہی   ان قرضوں کا کیا کیا  کس سے ڈھکا چھپا ہے-

بنکوں پہ پھر آپ کی حکمرانی کا دباؤ بھی ایسا ہے کہ لاکھ چاہتے ہوئے بھی بینک آپ کا نام نہیں لے سکتے- ہزار روپے میں پورے پورے بینکوں کی خریدو فروخت  کیا آپ کا خاصہ اور کارنامہ نہیں رہا ہے- ملکی ادارے آپ کے سامنے بے بس ، ایماندار افسر بے بس اور  باقی اداروں پہ آپ کے   من پسند تعینات ہیں  تو احتساب کس گاجر مولی کا نام ہے- ایک امید اپنی عدلیہ سے ہے کہ وہ لوٹی ہوئی  دولت کا حساب لے گی اورلئے  قرضوں  کی تحقیقات کرے گی لیکن ان کے باہر بھی لگا روز کا  ایک میلہ –  وزرااء کا  ہجوم ایک جھمیلا  جو  قانون سازی کی ذمہ داری بالائے طاق رکھ کر مقننہ  پہ  حاوی ہونے کے تمام جزیات سے لیس   قطار در قطار  وہاں موجود ہوتے ہیں -  ان کے ملزموں کے حق میں لگائے گئے  نعرے- حکومتی پروٹوکول  میں شاہانہ  پیشیاں- ائرپورٹس پہ  ہی ضمانتوں کے انتظامات  ، فتح کے نشان  سجائے  ہلتے  ہلاتے ہاتھ ، استقبال پہ آئے  یا لائے گئے افراد کس پہ  اثر انداز ہونے کو ہیں -  کیا آپ کا عدلیہ سے سلوک اور   کئے فیصلوں   کے متعلق آپ کا  ماضی اس بات کا آئینہ دار نہیں کہ آپ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے- قوم کب کہتی ہے کہ آپ  گناہ گار ہیں لیکن اپنے دامن پہ لگے داغ اور اڑے چھینٹوں کا جواب تو آپ نے خود دینا ہے   - آپ کی  عدالتوں میں تو بے گناہ روز  قید و بند کی  صعوبتیں  جھیلتے  بری بھی ہوتے ہیں اور پھندوں پہ بھی لٹکائے جاتے ہیں – جب آپ کے ملک کی قانون سازی ایسی ہے اور نظامِ عدل ایسا ہے تو آپ نے کب اس کی اصلاحات پہ کبھی کام کیا ہے – آپ کے لئے بھی  آپ کا دیا ہوا یہی نظام اگر فیصلہ کرتا ہے تو اس میں سے گزرجائے اور  صاف بچ نکل آنے کی صورت میں ملکی نطام ِ عدل کو بہتر کیجیئے  کیونکہ بقول ونسٹن چرچل  ملک وہی ترقی کرتا ہے  جس میں عدل حکومت کرتا ہے ورنہ تو آپ قرضے لیتے رہیں گے- ٹیکس بڑھتے رہیں گے اور ان کے بوجھ  میں ہم مرتے رہیں گے-        

 .

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں