جی ایم او/ بی ٹی نسلوں والی اجناس سے خوفزدہ ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں

جی ایم او/ بی ٹی نسلوں والی اجناس سے خوفزدہ ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں

  

عام طور پر متعلقہ اداروں کی طرف سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان میں جی ایم او/ بی ٹی نسل کی زرعی اجناس کی کاشت بالکل نہیں ہورہی اور اس مبہم تاثر کی وجہ سے کئی دفعہ اعلیٰ نسل کی اجناس کی درآمد پر بہت زیادہ رکاوٹیں ہو جاتی ہیں ۔اتفاقاً یہی تاثر بھارت بھی دنیا کے سامنے دیتا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مثال کے طور پر سب کو پتہ ہے کہ کپاس کی بی ٹی کاٹن جی ایم او ہی ہے۔ اس طریقے سے پاکستان میں بھی اب قابل غور بات یہ ہے کہ کپاس میں سے ہی کپاس کا سیڈ نکلتا ہے، جس میں تقریباً 16 فیصد خوردنی تیل ہوتا ہے ۔ وہ تیل مستقل طور پر انسانی خوراک کا مختلف شکلوں میں حصہ بنتا ہے، جو کہ غذائیت اور لذت سے بھرپور ہوتا ہے اور بر صغیر پاک و ہند میں لوگ اس کے ذائقے اور خوشبو کے دلدادہ ہیں۔ تفصیل اس کی یوں ہے کہ بنولہ بیج کا تیل جب نکالا جاتا ہے، تو وہ تیل جو کہ بی ٹی نسل کی جنس کا ہی تیل ہے وہ بناسپتی گھی میں 30 فیصد تک استعمال ہوتا ہے اور اس سے بھی مزے کی بات نذر قارئین ہے کہ بنولہ سیڈ میں سے تیل نکلنے کے بعد جس کوعرف عام میں کھل بنولہ کہا جاتا ہے وہ ہمارے دودھ دینے والے جانوروں کی خوراک کا سب سے پسندیدہ جزو ہے۔

اب اس کھل بنولے میں سب سے بڑا حصہ بی ٹی کاٹن کا ہے جو بذریعہ خوراک دودھ دینے والے جانوروں کے اندر جاتا ہے لہٰذا ان جانوروں کا دودھ اور اس سے بنی مصنوعات بھی در حقیقت جی ایم او/ بی ٹی کاٹن کے کھل بنولہ کی بدولت ہیں جس میں 7 فیصد تک تیل ہوتا ہے۔اس سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ پورے بر صغیر پاک و ہند میں جی ایم او اجناس براہِ راست یا ان سے بنی ہوئی مصنوعات جس میں دودھ، دیسی گھی، بناسپتی گھی اور دیسی مکھن شامل ہے، عرصہ دراز سے بغیر کسی مضر صحت اثرات کے کھائی جا رہی ہیں۔ تحقیق شدہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جی ایم او/ بی ٹی نسل کی مکئی سے کاشتکار کی پیداواری لاگت موجودہ اقسام کی نسبت37 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔اسی طرح باقی زرعی اجناس جن میں سویا بین ، گندم اور چاول شامل ہیں ، کی پیداواری لاگت میں بھی اسی شرح سے کمی ہو سکتی ہے۔ اس مختصر بحث سے اربابِ اختیار کو بہت جلدی یہ نتیجہ اخذ کر لینا چاہئے کہ انہیں دُنیا کی بہترین اجناس فروخت کرنے والے اداروں سے خود درخواست کر کے پاکستان میں اچھی سے اچھی جی ایم او/ بی ٹی نسل کی اجناس کاشت کرنے کے راستے ہموار کئے جانے چاہئیں۔

مزید :

رائے -کالم -