پابندی کے باوجود پمز ہسپتال کے 72 سینئر ڈاکٹروں نے پرائیویٹ پریکٹس شروع کر دی 

      پابندی کے باوجود پمز ہسپتال کے 72 سینئر ڈاکٹروں نے پرائیویٹ پریکٹس شروع ...

  



اسلام آباد(آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پمز کے سینئر ڈاکٹرز نے پرائیویٹ پریکٹس شروع کر دی  اس غیر قانونی اقدام میں پمز ہسپتال کے مبینہ طور پر 72سینئر ڈاکٹر ملوث ہیں جن میں سے سرجیکل ٹیم ون،ٹیم ٹو، اور ٹیم تھری کے 11ڈاکٹر نیورو سرجری ٹیم ون کے 3ٹیم ٹو کے 2ڈاکٹرشعبہ ای این ٹی کے 3سینئر ڈاکٹر جبکہ شعبہ آئی کے 2ڈاکٹر پرائیویٹ پریکٹس کر رہے ہیں اسی طرح شعبہ یورالوجی کے 5ڈاکٹر اور شعبہ آرتھوپیڈیک کے 4سینئیر ڈاکٹر پرائیویٹ پریکٹس کے مرتک ہو رہے ہیں اسی طرح میڈیسن نیورالوجی نیفرالوجی،معدے اور برن یونٹ  اور ڈینٹل سرجری سے تعلق رکھنے والے 22ڈاکٹر پرائیویٹ پریکٹس کرنے کے لئے اسلام آباد کے بلیو ایریا علی میڈیکل سینٹر،شفاء ہسپتال الرجی سینٹر سمیت مختلف پرائیویٹ ہسپتالوں میں پریکٹس کرتے ہیں۔ہسپتال ذرائع کے مطابق ان بڑے ڈاکٹروں نے ہسپتال کی سرکاری ملازمت کو صرف کمائی کا دھندہ بنا رکھا ہے اور ہسپتال کی او پی ڈی میں تمام کلرک وارڈ بوائے اور نرسز ان کے کلینک چلانے کیلئے مریضوں کو سپنے سہانے خواب دکھا کر مفت علاج کے بدلے ان کے کلینکوں تک پہنچاتے ہیں ادھر دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ ہسپتال کے پرائیویٹ وارڈوں میں کمروں کے حالت زار دیکھنے کے قابل ہی نہیں اور نہ ہی پرائیویٹ وارڈوں میں مریضوں کو چیک کرنے کے لئے کوئی ڈاکٹر موجود ہوتا ہے ڈاکٹر نرسز کو پرائیویٹ کلینکوں سے فون پر ہدایات دیتے ہیں اور وہ ڈاکٹروں کے کام سرانجام دیتی ہیں جبکہ او پی ڈی میں آنے والے روزانہ 12ہزار مریضوں ٹرینی ڈاکٹروں کے آسرے پر موت کے منہ میں جانے پر مجبور ہو رہے ہیں ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کو ٹرینی ڈاکٹر اپنی کمیشن کے عوض مہنگے ترین ٹیسٹ لکھ کر کہتے ہیں اگر ایکسل لیب سے یہ ٹیسٹ نہ کرائے گئے تو ہم آپ کا علاج نہیں کر سکیں گے ایکسل لیب جو پمز کے قریب بلیو ایریا میں واقع ہے نے ہر ٹیسٹ پر اضافی رقم مختص کر رکھی ہے اس اضافی رقم کی وصولی مریضوں سے لیکر ڈاکٹروں کو دی جاتی ہے۔قابل ذکر امر یہ بھی ہے کہ ہسپتال کی لیبارٹری بالکل فعال ہونے کے باوجود ڈاکٹر مریضوں کو تنبیہ کرتے ہیں کہ ہمیں ہسپتال کی لیبارٹری پر کوئی یقین نہیں آپ صرف ایکسل لیب سے ٹیسٹ کروائیں ایکسل لیب پر جانے والے ایک مریض زبیر نے آن لائن“ کو بتایا کہ وہان جب مریض جاتا ہے اس  سے پہلے ڈاکٹر کا پیغام پہنچ گیا ہوتا ہے اور وہ نہ صرف مریض کو ٹیسٹ تین گھنٹوں کے بجائے اگلے دن دیتے ہیں بلکہ دیگر لیبارٹریوں سے50فیصد زیادہ چارجز بھی وصول کرتے ہیں۔اس حوالے سے پمز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹرڈاکٹر انصرسے موقف پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں کوشش کر رہا ہوں ہسپتال کا نظام درست کرنے کی لیکن کچھ حالات ایسے ہیں کہ جن پر قابو پانے میں دیر لگے گی انہوں نے کہ پرائیویٹ پریکٹس پر پابندی ہے اگر کوئی ڈاکٹر ہسپتال کے مریضوں کو چھوڑ کر مجرمانہ غفلت کا مرتکب ہو رہا ہے ہم اس کے خلاف ایکشن لیں گے انہوں نے کہا کہ ہسپتال کی تمام ٹیسٹ لیب مشینریاں بہترین کام کر رہی ہیں اگر کوئی ڈاکٹر مریضوں کو غلط ڈیل کرتا ہے تو مریضوں کو فوری طور پر شکایات کرنی چاہئیں ہم ایسے ملازمین و ڈاکٹرز پر فوری ایکشن لیں گے۔

پمز ہسپتال

مزید : پشاورصفحہ آخر