”آزادی مارچ“ کے رہنما عہد توڑیں نہ قانون…… ……

”آزادی مارچ“ کے رہنما عہد توڑیں نہ قانون…… ……

  



مولانا فضل الرحمن کے ”آزادی مارچ“ کا اسلام آباد میں پڑاؤ جاری ہے۔ہزاروں افراد ایچ نائن کے گراؤنڈ میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پکنک کا سا ماحول ہے۔شرکا نے گراؤنڈ کی صفائی کر کے کچرا اکٹھا کیا،اور کھیل کود سے بھی دِل بہلایا۔کہیں کُشتی ہو رہی ہے،تو کہیں جوڈو کراٹے کا مظاہرہ ہو رہا ہے، کہیں کوئی اور کھیل کھیلا جا رہا ہے،لہو گرم رکھنے کے لیے (پُرامن طور پر) جو کچھ کیا جا سکتا ہے،کیا جا رہا ہے۔ سولر پینل اور بیٹریوں سے موبائل بھی چارج ہو رہے ہیں۔اس ”آزادی مارچ“ کا دورہ کرنے والے اخبار نویسوں کا کہنا ہے کہ اس کے باسیوں کو کوئی ٹینشن، پریشانی اور تذبذب نہیں ہے۔اپنے قائد کی آواز پر لبیک کہنے اور کچھ بھی کر گذرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے اپنے دیوانوں سے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ مزید آگے جا سکتے ہیں۔ ڈی چوک کی طرف جانے کی تجویز بھی رہبر کمیٹی میں زیر غور ہے۔ہم نے یہیں رہنا ہے۔ ابھی دھرنا ختم نہیں کر رہے۔مولانا فضل الرحمن نے یہ بھی کہا کہ آنے والے دِنوں میں حکومت بنائیں گے۔اس ملک کو ترقی دلائیں گے اور معیشت کو سنبھالیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ تمام جماعتیں وزیراعظم عمران خان کے استعفے کے مطالبے پر متفق ہیں۔وزیراعظم کہتے ہیں کہ بھارتی میڈیا ہمیں کوریج دے رہا ہے۔(انہیں معلوم ہونا چاہئے) بھارت ہی نہیں دُنیا بھر کے میڈیا میں ہماری کوریج ہو رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خان صاحب، آپ کی رٹ ختم ہو چکی ہے کرسی پر بیٹھ رہنے سے کوئی حکمران نہیں بنتا۔مولانا صاحب نے اپنے سامعین کو یہ بھی بتایا کہ حکومت نے ان کی جماعت سے کیا جانے والا معاہدہ توڑ دیا ہے، جبکہ ہم اسے پال رہے ہیں۔یاد رہے کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور جمعیت کی ضلع اسلام آباد شاخ کے سیکرٹری جنرل کے درمیان تحریری معاہدہ طے پایا تھا،جس کی ایک شق کے مطابق مارچ کے شرکا ایچ نائن گراؤنڈ تک خود کو محدود رکھنے کے پابند ہیں۔ وہ یہاں سے آگے نہیں جا سکتے۔

جمعیت کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری،خیبرپختونخوا کے صوبائی سربراہ مولانا عطاء الرحمن اسلام آباد ہائی کورٹ سے اپنی شہریت بحال کرا لینے والے سابق سینیٹر حمد اللہ اور متعدد دوسرے رہنماؤں کا الزام ہے کہ حکومت نے ان سے کیے گئے وعدے کے خلاف آزادی مارچ کے راستے میں جگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں۔پٹرول پمپ بند کر دیئے گئے۔بس مالکان کو بسیں فراہم کرنے سے منع کیا گیا، اور کئی مقامات پر کارکنوں کو ہراساں کرنے کی کوشش ہوئی۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کارواں کو چونکہ روکنا ممکن نہیں تھا،اس لیے رکاوٹیں کھڑی نہیں کی جا سکیں کہ وہ جم غفیر کے سامنے خس و خاشاک کی طرح اڑ جاتیں۔یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ اسلام آباد کے پمز ہسپتال کو ہدایت کی گئی تھی کہ دھرنے میں شامل کسی مریض کا علاج نہ کیا جائے۔ ”جیو نیوز“ کے پروگرام جرگہ میں مولانا عطاء الرحمن نے واضح طور پر کہا کہ ایک زخمی کو جب مذکورہ سرکاری ہسپتال لے جایا گیا تو وہاں موجود عملے نے یہ کہہ کر علاج کرنے سے انکار کر دیا کہ انہیں ایسا نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مولانا نے یہ بھی کہا کہ مقامی ہوٹلوں کو منع کر دیا گیا ہے کہ دھرنے میں شرکت کرنے والے کسی شخص کو یہاں نہ ٹھہرایا جائے۔ ہوٹل کمرے دینے سے انکاری ہیں۔کھانے کی دکانوں کو انہیں کھانا فراہم کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔مولانا عطاء الرحمن کا کہنا تھا کہ اس طرح(عملاً) حکومت نے ہم سے کیا ہوا معاہدہ توڑ ڈالا ہے۔”جرگہ“ میں شریک ِ گفتگو وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ندیم افضل چن قطعی طور پر مولانا کی بیان کردہ تفصیل کو جھٹلانے سے قاصر رہے، اور یقین دلاتے رہے کہ ایسی صورت میں ان سے فون پر رابطہ کیا جائے۔ان شکایات اور الزامات کے باوجود مجموعی فضا (گزشتہ کئی روز سے) آلودہ نہیں ہوئی، اور فقہی نکتے جو بھی اٹھائے جائیں،عام تاثر یہی ہے کہ انتظامیہ نے بالائی سطح سے ”آزادی مارچ“ کے سفر میں خلل نہیں ڈالا۔کہیں کوئی شکایت پیدا ہوئی تو وہ مقامی سطح کی تھی۔اگر منظم انداز میں خلل انداز ہوتی تو امن اور سکون کی وہ فضا دیکھنے کو نہ ملتی جو ”آزادی مارچ“ کے دوران موجود رہی، اور اب ”آزادی بستی“ میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس لیے سیاسی مبصرین کی طرف سے توقع یہی ظاہر کی جا رہی ہے کہ معاہدے کی پابندی کی جائے گی،جمعیت العلمائے اسلام کے ذمہ دار یا ان کے حلیف عہد شکنی کا الزام اپنے سر نہیں لیں گے۔

رہبر کمیٹی کے کنونیئر اکرم درانی نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔اسمبلیوں سے استعفے بھی دیئے جا سکتے ہیں۔اسلام آباد کے اندر داخل بھی ہوا جا سکتا ہے، اور احتجاج کو ملک گیر بنانے کے لیے شاہراہوں کو بند بھی کیا جا سکتا ہے۔گویا تحریک انصاف اور تحریک لبیک کی قائم کردہ روایات سے استفادہ ممکن ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ابھی تک رہبر کمیٹی میں آئندہ کے لائحہ عمل پراتفاق نہیں ہوا۔مسلم لیگ(ن)،پیپلزپارٹی، اور اے این پی کو استعفوں، دھرنے کی طوالت، یا ڈی چوک کی طرف پیش قدمی کے بارے میں تحفظات ہیں۔مولانا فضل الرحمن حکومت سنبھالنے کا جو بھی دعویٰ کریں، اور وزیراعظم کی کمزوری کا جو بھی اندازہ لگائیں، بنیادی بات یہ ہے کہ الفاظ کے زور سے نہ حکومت گر سکتی ہے، نہ بن سکتی ہے۔ حکومت گرانے کے لیے دھکم پیل کی جو بھی افادیت بیان کی جائے،اسے بنانے اور چلانے کے لیے تو بہرحال ووٹ حاصل کرنا ہوں گے۔امام خمینی کی طرح اقتدار سنبھالنے کی خواہش پالی تو جا سکتی ہے، لیکن پاکستان کی موجودہ فضا میں ایسے تجربے کی کامیابی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔اس لئے خیالی پلاؤ کے دیگچے نہ چڑھائے جائیں، نہ پکائے جائیں۔

متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی اور مولانا فضل الرحمن جو بھی فیصلہ کریں، یہ بات مدنظر رکھیں کہ ان پر عہد توڑنے کا الزام نہ لگے،اور قانون ہاتھ میں لینے کا ”سہرا“ بھی وہ اپنے سر نہ سجائیں، نہ وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ غیر آئینی یا غیر قانونی ہے،نہ نئے انتخابات کا مطالبہ۔پوری گھن گرج سے یہ مطالبات کیے جا سکتے ہیں لیکن انہیں پورا کرنے کے لیے غیر قانونی راستہ اختیار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ سیاست نہیں بغاوت ہو گی۔

حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے مولانا فضل الرحمن کے اپنے دھرنے سے اولین خطاب کے دوران کہی گئی اس بات پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا عندیہ بھی دیا ہے جس میں مولانا نے کہا تھا کہ ہجوم جا کر وزیراعظم کو گرفتار بھی کر سکتا ہے۔پرویز خٹک یا کوئی اور حکومتی ذمہ دار اگر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہے تو اسے روکا نہیں جا سکتا،لیکن یہ اقدام ایک اور نیا پنڈورا بکس کھول سکتا ہے، وزیراعظم اور بعض وزرائے کرام (حتیٰ کہ صدرِ مملکت) کے کچھ عرصہ پہلے کے خطابات میں ایسا بہت سا مواد موجود ہے،جو مولانا کی تقریر سے کہیں آگے بڑھ کر ”بغاوت“ کا جذبہ ابھارتا ہے۔فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی بہت کچھ ایسا ہے جس پر عمل نہیں ہو پایا،یہ درست ہے کہ نظرثانی اپیل کئی ماہ سے سماعت طلب ہے،لیکن ایک تو جلد سماعت نہ ہو سکنا، اپنی جگہ معنی خیز ہے،اور دوسرے یہ کہ محض نظرثانی اپیل دائر کرنے سے عدالتی حکم کی تعمیل نہ کرنے کا جواز نہیں مل سکتا۔اولین ترجیح یہی ہونا چاہیے کہ سیاسی مسائل سیاسی طریقے سے حل کیے جا ئیں۔بات چیت کے دروازے کھلے رہیں۔کوئی فریق ان سے انکار نہ کرے۔ اپنی بات سنائی اور دوسرے کی سنی جائے،جمہوری کلچر کا تقاضہ یہی ہے، اور اس کی حفاظت کی جانی چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...