پانامہ لیکس میں درج افراد کی بھی انکوائری کرائیں

پانامہ لیکس میں درج افراد کی بھی انکوائری کرائیں

  



وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ تین روزہ، دورہئ چین کے دوران، ایک تقریر میں بڑے زور دار انداز میں اس خواہش یا حسرت کا اظہار کیا کہ مجھے بھی چین کے صدر کی طرح زیادہ حکومتی اختیار ہوتا تو ہم بھی پاکستان میں 500 افراد کو کرپشن میں گرفتار کر لیتے یا کڑی سزائیں دِلاتے۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ وطن ِ عزیز میں تاحال، سرکاری اور نجی شعبوں اور اداروں میں کرپشن کا رجحان ہے۔اگرچہ بعض اوقات قدرے خفیہ طریقوں سے اپنایا جاتا ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جب عام لوگوں کو سرکاری دفاتر سے واسطہ پڑتا ہے،تو اکثر ملازمین کی قانونی طور پر بہانہ سازی، عام لوگوں کو رشوت دینے کے لئے مائل و راغب کرنے کا ایک روایتی طریقہ ہے۔ ضرورت مند لوگوں کو اس طرح مجبوراً رشوت دینے کی لعنت میں ملوث ہونا پڑتا ہے، کیونکہ انہیں رشوت خور طبقے کی روایتی چال بازی سے بچنے کا کوئی جلد اور موثر راستہ نظر نہیں آتا۔

رشوت لینے والے بعض افراد تنخواہوں میں کمی کا جواز پیش کرتے ہیں،لیکن یہ دلیل کسی طور درست،مضبوط اور جاندار قرار نہیں دی جا سکتی، کیونکہ قانون کی خلاف ورزی صاف اور واضح طور پر ایک جرم ہے،جس کی نوعیت قلیل یا سنگین تو جرم کے حالات اور واقعات پر مبنی ہوتی ہے اور اس کے نتائج بھی متعلقہ قانون کے تحت ہی برآمد ہوتے ہیں۔اِس امر میں کوئی اختلاف نہیں کہ کرپشن کا سختی سے سدباب کرنا، ہر حکومت،بلکہ ہر باشعور اورمحب ِ وطن شخص کی ذمہ داری ہے،لیکن اس رائے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اپنی سیاسی پارٹی کے وفاداریا حامی افراد یا کارکن، اگر اس غلط کاری کا ارتکاب کرتے رہیں، تو ان کی کوئی انکوائری، باز پرس اور تفتیش کا کوئی مطالبہ یا اس کی حمایت نہ کی جائے۔ کیا یہ جانبداری، اقربا پروری اور کھلی ناانصافی کا انداز نہیں؟ چند ہفتے قبل ایک ٹی وی چینل پر وفاقی وزیر فواد چودھری نے نیب ادارے کو حکومتی پالیسی کے مطابق کام کرنے کا زوردار بیان دے کرمختار ہونے کا سابقہ دیرینہ موقف زمین بوس کر دیا تھا۔

چند روز بعد، چیئرمین نیب نے مذکورہ بالا موقف کی انکوائری کرنے کا ذرائع ابلاغ میں ایک

بیان جاری کیا تھا،لیکن وہ انکوائری اور اس کے نتائج کے بارے میں فواد چودھری کے خلاف کوئی بیان اور قانونی کارروائی سامنے نہیں آئی۔سیاسی حریفوں کو چور، ڈاکو اور لٹیرے کہہ کر انہیں بدنام کرنا تو آسان ہے،لیکن ایسے الزامات کو ٹھوس شہادت اور مضبوط ثبوتوں کے ساتھ متعلقہ عدالتوں میں،کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت کرنا خاصا مشکل معاملہ ہے۔حکومت یا پارٹی کے حامی افراد کو اگر جرم کی سنگین نوعیت کے باوجود سزا سے بچانا مقصود ہو،تو اُن کے خلاف سرکاری گواہان اور دفتری کاغذات درست انداز یا بروقت پیش کرنے سے گریز کرتے ہوئے، شہادت کا مواد کمزور یا نامکمل ہونے سے متعلقہ عدالت کو، انہی ملزمان کو سزا دینے کی بجائے بری کرنا پڑ سکتا ہے اور ایسا مختلف حالات میں ہوتا رہتا ہے۔ پانامہ لیکس میں تقریباً450افراد کی فہرست موجود ہے۔ ان افراد یااداروں کے نام اور پتوں کی ذرائع ابلاغ میں تشہیر کی جائے، تاکہ عام لوگ بھی، ان کی غلط کاریوں اور ٹیکس کی عدم ادائیگی کے بارے میں موجودہ حکومت کی مدد کر سکیں۔شاید وزیراعظم کی خواہش کے مطابق اُن میں سے کئی افراد بڑے چور ڈاکو اور فراڈیئے مل جائیں،جن کو گرفتار کر کے سخت سزائیں دلائی جا سکتی ہیں۔

مزید : رائے /کالم