عورت کے آنسوؤں کی طاقت!

عورت کے آنسوؤں کی طاقت!
عورت کے آنسوؤں کی طاقت!

  



عورت کے آنسوؤں میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ یہ بڑے سے بڑے طاقتور شخص کو ڈھیر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے تو فردوس عاشق اعوان کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر وزیراعظم سمیت دیگر وزراء پر سکتہ طاری ہوگیا تھا۔ عورت کی آنکھ میں آنسوؤں کے آجانے کا سبب کچھ بھی ہو، لیکن یہ وہ سب کچھ کرگزرنے یا کروانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو ریاستوں کے حکمران نہ کرسکتے ہوں۔ عورت کی آنکھ میں آیا ایک آنسو کسی کو لہو رلا سکتا ہے۔ دنیا کی تاریخ ان آنسوؤں کی کرامات سے بھری پڑی ہے۔ ایسے ہی آنسو ہماری زرتاج کی آنکھوں سے ہوگذرے،جی ہاں ہماری وزیر صاحبہ زرٹاج گل، ان کی آنکھوں میں آئے آنسو ان کی آنکھوں کے کاجل تک آپہنچے تھے، جب سانحہ ساہیوال پیش آیا تھا۔

یہ ایک قیامت صغریٰ تھی جو متاثرہ خاندان اور پاکستانیوں کے دلوں پرگزری تھی، جیسے پاکستان کی سڑکوں پرریمنڈ ڈیوس نے سرعام پاکستان کے شہریوں کا بہیمانہ قتل کیا تھا، اس سے کہیں دلدوز، بلکہ جاں سوز ساہیوال کا سانحہ تھا،جس میں ہماری پولیس کے شیر جوانوں نے نہتے اور معصوم خاندان کو دن دیہاڑے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس واردات کا ہر منظر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کرلیا تھا، جسے دنیا نے دیکھا، لیکن ہمارے حکمران اور معذرت کے ساتھ ہماری عدلیہ نہ دیکھ سکی، شائد اسی لئے کہاجاتا ہے قانون اندھا ہوتا ہے، بلکہ مجھے معاف رکھتے ہوئے آج کہہ لینے دیجئے قانون اندھا،گونگا اور بہرہ بھی ہوتا ہے۔ دنیا سانحہ ساہیوال کے عدالتی فیصلے سے ہمارے قانون کا پرچم بلند دیکھ رہی ہے یا سرنگوں؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ یہ کھلے عام ”دہشت گردی“ دہشت گردوں نے نہیں، بلکہ ہمارے اداروں نے کی تھی، جس کے مجرمان، ملزمان کہلائے اور بری بھی ہوگئے۔

شہریار آفریدی نے اس پر کیا کہا تھا دہرانے کی ضرورت نہیں، ہمارے وزیراعظم نے کیا ارشاد فرمایا تھا، بتانے کی ضرورت نہیں،لیکن اتنا تو کہنے دیجئے کہ وزیراعظم صاحب کیا ریاست مدینہ میں ایسا ہوتا ہے۔ ریاست مدینہ تو بڑی متبرک اور مقدس ریاست ہے۔ وزیراعظم صاحب آپ برطانیہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی مثالیں دیتے رہے ہیں اور ہنوز دیتے ہیں۔ کیا دنیا کی ان مہذب ریاستوں میں، جن کی مثالیں آپ دیتے ہیں، ایسا ہوتا ہے؟ وہاں کے حکمران تو کشتیاں ڈوبنے کے واقعات پر مستعفی ہوجایا کرتے ہیں۔ حضور پُرنور آج دل بڑا دکھی ہے۔گھائل ہے۔ آج آپ کے سب دعوے حقیقت میں ریت کے گھروندے ثابت ہوئے اور سب باتیں جھوٹی نکلی ہیں،مہنگائی، بے روزگاری پر تو عوام صبر کرچکے تھے کہ شائد وقت کے ساتھ وزیراعظم صاحب آپ کی حکومت اس پر قابو پالے گی۔ دیگر مسائل بھی بالآخر حل ہوہی جائیں گے،لیکن قانون کی بالادستی کی راہ میں کون حائل ہوا،جس نے وزیراعظم صاحب آپ جیسے پختہ عزم اور مضبوط اعصاب کے مالک حکمران کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے۔

وزیراعظم صاحب آپ تو تھانوں میں گھس کر گرفتار اپنے کارکنوں کو لے آتے تھے، تب تو آپ اقتدار اور اختیار بھی نہیں رکھتے،لیکن آج تو اقتدار و اختیار رکھنے کے باوجود آپ کی بے بسی قابل رحم ہے۔حضور روز محشر یہ قتل آپ کے سر ہوں گے۔ حضور دنیا آپ کی صلاحیتوں کی معترف ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آپ کے خطاب نے دنیا کو یہ ماننے، بلکہ مجبور کردیا تھا کہ آپ جرات مند لیڈر ہیں جو حق بات کو اس دلیرانہ انداز سے بیان کرتا ہے کہ وہ بات دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے،لیکن آپ کے دل میں ان معصوم اور مغموم بچوں کی آہیں، سسکیاں اور فریاد کیوں نہیں اتری، جن کی معصوم بہن اور والدین کو دن کے اجالے میں کھلے عام گولیوں سے بھون دیا گیا۔ چار افراد کے قتل میں ننھی مقتولہ کو پہلے بچوں کے ساتھ گاڑی سے اتار لیا گیا تھا، لیکن پھر دوبارہ اسے اس احتمال سے گاڑی میں بٹھا کر قتل کیا گیا کہ کہیں اس کا شمار عینی شاہدین میں نہ ہو۔

جناب وزیراعظم صاحب کیا آپ کو آپ کی پاکباز نیک سیرت اہلیہ محترمہ بشریٰ بی بی نے بھی کچھ ارشاد نہیں فرمایا کہ دین اور دنیا کی کامیابی ایسے ممکن نہیں، اگر متاثرہ خاندان کو انصاف نہ ملا تو قیامت کے روز آپ ان کے مجرم ہوں گے۔ عالی جاہ معاف کیجئے آج خود پر اختیار نہیں،لہٰذا آج مجھے یہ تک کہہ لینے دیجئے کہ ایسا بھیانک سلوک تو ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ ان کے حکمران یاادارے بھی نہیں کرتے جو سانحہ ساہیوال کے مقتولین کے ساتھ پیش آیا۔ یہ بھیڑیا صفت انسان اپنی ہی ریاست کے بے گناہ باسیوں کو قتل کرکے آج آزاد ہیں جو اپنی فیملی کے ساتھ شادی کی تقریب کے لئے جارہے تھے۔ اس شرمناک واردات کے بعد شہریوں نے اپنی گاڑیوں پر لکھ کر لگانا شروع کردیا تھا کہ وہ دہشت گرد نہیں ہیں۔ جناب وزیر اعظم پاکستان آپ کی جماعت انصاف کی ایک تحریک تھی جو آج دم توڑ گئی ہے اور آپ کو اس نظام نے شکست دے دی ہے، جسے بدلنا شائد ابھی کسی کے بس میں نہیں۔ وزیراعظم صاحب آپ سے کیا شکائت کیجئے، مجھے تو تعجب اس بات پر ہے، دنیا میں عورت کے آنسو ہر ناممکن کام کو ممکن بناسکتے ہیں،لیکن پاکستان میں زرتاج گل کے آنسو بھی سانحہ ساہیوال کے متاثرین کو انصاف نہ دلا سکے۔ آج اس فیصلے کے بعد ان مقتولین کی روحوں پر وار کیا گیا ہے۔

مزید : رائے /کالم